اسقاط حمل: فیصلہ صرف عورت کا؟
پاکستان میں ابارشن کے متعلقہ کوئی واضح قانوں موجود نہیں ہے۔ پاکستان پینل کوڈ میں ایک قدیم قانون موجود ہے جو ابارشن کرنے اور کروانے والے کو مجرم قرار دیتا ہے۔ لیکن یہی قانون حاملہ عورت کو مناسب علاج کی سہولت مہیا کرنے کو کہتا ہے جس کا مطلب واضح نہیں۔
1997 سے ماں کی زندگی بچانے یا پھر بچے کے اعضا (خصوصی طور پر ہاتھ اور پاؤں) بننے سے پہلے مناسب علاج کرنے کی نیت سے اسقاط کی اجازت ہے۔ لیکن اس کے بعد اگر ماں کی زندگی کو خطرہ ہو تو پھر یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ اس قانوں میں بھی صحیح مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔ اس وقت کا صحیح تعین کرنے سے امریکی سپریم کورٹ نے بھی یہ کہہ کر معذرت کی تھی کہ میڈیسن، فلسفہ اور مذہب کے ماہر جب یہ کام نہیں کر سکے تو عدلیہ اس کا اندازہ کیسے کر سکتی ہے۔ پاکستان کے کسی بھی قانون میں اسقاط حمل کا ذکر کرتے وقت زنا با الجبر، زنائے محرم اور لڑکی کی عمر کے بارے میں کچھ نہیں لکھا گیا۔
ہمارے ملک میں اسقاط حمل کی خواہش مند چار طرح کی خواتین ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد ان شادی شدہ خواتین کی ہوتی ہے جو بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتیں، اور حاملہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے معاشی اور معاشرتی مسائل حمل کو جاری رکھنے میں حائل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم ان خواتین کی ہے جن کو طلاق ہو چکی ہوتی ہے اور وہ حاملہ ہوتی ہیں۔ ان کے دلائل سب سے مضبوط ہوتے ہیں کہ جب بچے کا والد اور اس کے رشتہ دار ماں کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں تو اکیلی عورت ان کے تخم کو اپنی کوکھ میں کیوں اٹھائے اوراپنے خون سے کیوں سینچے۔ اور اس نیکی کے بدلے میں اپنی زندگی کو بھی عذاب میں ڈالے۔
ان عورتوں ہی کو زیادہ مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تیسری جو شادی شدہ نہیں ہوتیں اور باہمی رضا مندی سے تعلقات کی وجہ سے حاملہ ہوتی ہیں۔ چوتھی قسم ان عورتوں کی ہے جو زنا با الجبر کا شکار ہوتی ہیں۔ ان میں کم عمر اور زنائے محرم کا شکار بچیاں بھی شامل ہیں۔ تیسری اور چوتھی قسم کی خواتین کے لئے اس حمل کو ضائع کرنا بہت مشکل اور جاری رکھنا ناممکن ہوتا ہے۔
یہی لڑکیاں ہوتی ہیں جو ابارشن کے بعد کے مسائل کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ یہ بچے اگر پیدا ہو جائیں تو ساری عمر اپنی شناخت ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ ابوسفیان کی ناجائز اولاد کو سیاسی مصلحت کی بنیاد پر امیر معاویہ نے اپنا بھائی کہہ دیا لیکن ام المومنین نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ہزاروں عورتوں کے بچے جو پاکستان انڈیا کی تقسیم پر اپنے خاندان سے بچھڑ گئیں اور لیاقت نہرو پیکٹ کے تحت واپس ہوئیں۔ دونوں طرف کے لوگوں نے ان کو تو قبول کر لیا لیکن ان کے بچے لاوارث بھٹکتے رہے۔ چنگیز خاں کے بیٹے پر ہمیشہ انگلیاں اٹھائی گئیں اور ہمارے ہیرو کی بیٹی، باپ کی قبولیت کے باوجود ابھی تک اقرار کی محتاج ہے۔
یہ تمام عورتیں اسقاط حمل چاہتی ہیں جو کہ کسی نہ کسی شکل میں جرم ہی ہے۔ اور تمام کے لیے علیحدہ علیحدہ قانون بھی موجود نہیں ہیں۔ امریکہ کی بعض ریاستوں میں یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کو سزا نہیں لیکن اس کے مدد گار کے خلاف قانون حرکت میں آتا ہے۔ قانون عورتوں سے یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ کہیں کسی نے غیر قانونی اسقاط حمل تو نہیں کیا۔ الابامہ کے نئے قانون میں جو خواتین اسقاط حمل کرواتی ہیں ان پرتو سول یا فوجداری کوئی بھی مقدمہ نہیں چلایاجائے گا لیکن ڈاکٹر پر قانون لاگو ہو گا اور ان کو 99 سال تک کی سزا دی جا سکے گی۔
پاکستان کے حالات بھی قریباً ایسے ہی ہیں۔ جس وجہ سے کوئی بھی عورت جب اس کام کے لئے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے تو ڈاکٹر پہلے اپنے بارے میں سوچتا ہے، جس سے ضرورت مند کے لئے خفیہ اور غیر محفوظ طریقے ہی بچتے ہیں۔ لاہور کی ٹمپل روڈ پر بنے ہوے اتائیوں کے سیکڑوں صفیہ کلینک ایسے ہی مراکز ہیں۔
پوری دنیا میں اس وقت ابارشن پر بحث چل رہی ہے۔ اس کو ایک معاشرتی مسئلہ کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ ماسوائے پہلی کے دوسری تمام اقسام کی خواتین کا حمل صرف ان کا مسئلہ ہوتا ہے، اور پہلی قسم کی خواتین بھی اکثر اکیلے ہی مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ اسی لئے عورت نعرہ لگا رہی ہے کہ جب مسئلے صرف میرے لئے ہیں تو میرا جسم بھی میری مرضی ہونا چاہیے۔ حمل عورت کی زندگی پر ناقابل تلافی اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ اس لئے اس کو رکھنا یا گرانا ہے یہ فیصلہ بھی اسی کا ہونا چاہیے؟ ابارشن، فیصلہ صرف عورت کا ہونا چاہیے؟ ہمیں بھی اس بارے میں سوچنا چاہیے۔

