عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی کا سفر ایک افسانوی تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ انسان اپنا پہلا اچھا عمل ”ریا“ سے شروع کرتا ہے۔ یعنی دکھاوے سے۔ دکھاوا پھر عادتوں میں ڈھلتا ہے اور پھر یہی ”عادتیں“ پختہ ہو کر عبادات کے صوفیانہ چولے پہن لیتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے عشق حقیقی، عشق مجازی کی شاخ سے پھوٹ کر پورے جسم میں خوشبو کی طرح اتر جاتا ہے۔ با الفاظ دیگر یوں کہہ لیجیے کہ عشقِ مجازی وضو ہے تو عشقِ حقیقی نماز۔ اور وضو کے بغیر نماز کیسے ممکن ہے۔

آج اس موضوع کو منتخب کرنے کا میرا مقصد بھی یہی تھا۔ اور یہ مقصد مجھے ملا ایک ”مجازی ملاقات“ سے اس ملاقات کے جو کرشمات تھے انہوں نے میرا دل کو مجازی سے حقیقی کی طرف کیسے راغب کیا۔ یہی روداد آج کی نذرِ نظر کرنی ہے اچھا اب ایسا بھی نہیں ہے کہ میں کوئی ولی بن گیا ہوں۔ لیکن ولایت کیا ہے، اللہ نے قران میں کیوں کہا۔ کہ ”میں اولیا کے ہاتھ، پاوں اور انکھ بن جاتا ہوں۔“ یہ آفاقی باتیں سچ میں مجھے چھو کر گزری ہیں اس فنا میں بقا کیوں ہے یہ راز مجھ پر افشا ہوئے ہیں۔ خیر۔

اس ملاقات کی طرف چلتے ہیں جس کا ذکر میں نے اوپر کیا تھا! سردیوں کی رات تھی چاند سر پہ سینہ تانے کھڑا تھا۔ شب کی سیہ چادر پر ستارے یوں بکھرے ہوئے تھے۔ جیسے فضا میں کسی کی مالا ٹوٹ گئی ہو۔ سرد ہوا چاروں اور، اجنبیت کا ایک عجیب سا جال بن رہی تھی۔ اجنبی شہر میں انتظارِ یار۔ اس قدر الہامی سا ہوتا ہے۔ کہ بندہ خود کو اسمان اور زمین کے درمیان کہیں معلق محسوس کرتا ہے۔ ’’وسیم؟‘‘ ایک جانی سے آواز نے گویا سماعتوں میں رس گھول دیا۔

انسان جتنا مرضی پرانا ہو جائے۔ آواز نہیں بدلتی۔ میں نے مڑ کر آواز کا احاطہ کیا۔ تو میرے سامنے وہی چہرہ تھا جس کے بنا کبھی ایک پل نہیں گزرتا تھا۔ آج اس چہرے کو میں دس سال بعد دیکھ رہا تھا۔ بچھڑ کے بھی وہ نہال تھا، کمال تھا میرے لیے تو ہو گئے تھے۔ دو جہاں اِدھر اُدھر اس قدر سردی میں ہمیشہ کی طرح وہ کھلی زلفوں سے کھیلتی میری جانب بڑھ رہی تھی۔ لیدر کی جیکٹ میں اس نے ہاتھوں کو یوں چھپایا ہوا تھا۔ جیسے کسی نے زبردستی اس کے ہاتھوں پر میرا نام لکھ دیا ہو چاند کیا تھا۔

ستارے کیا ہیں اور سردی کس بلا کا نام ہے اس کی ایک نظر التفات سے سارے منظر کافور ہو گئے تھے۔ وہ کچھ پل رکتی تو شاید میں کہہ دیتا۔ اور مَنظر بھی مہیا تھے بصارت کو مگر۔ میری آنکھوں نے فقط آپ کا رَستہ دیکھا۔ پھر کیا تھا ہوائیں ساکت ہو گئیں اور اجنبیت کے جال ٹوٹ گئے۔ اس نے دوپٹے کو جو گلے میں مفلر کی طرح لٹک رہا تھا بار ہا مشرقی چنریا بنانے کی کوشش کی۔ مگر بری طرح ناکام رہی۔ اپنی اس ناکامی کا داغ دھونے کے لئے اس نے مجھ پر اپنائیت کا ایک اور جال پھینکا۔

اپنے معصوم بچوں کی انگلیاں تھامیں اور میرے ساتھ ان کا تعارف شروع کروایا دیا اور ساتھ ہی۔ اشاروں میں ساتھ چلنے کا دلنواز اشارہ بھی کر دیا۔ ہم ٹھہرے ازلوں کے اشارہ شناس۔ سر جھکا کر کنوئیں کے پیچھے چل پڑے۔ دس برس کے پیاسے میرے بہکے قدموں کو اس گھڑی یہ اندازہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ وہ اس وقت آسمان پہ چل رہے ہیں یا زمین پر۔ میرے قدم اس کے قدموں کی قدم بوسی میں مگن تھے کہ مجھے ایک خیال نے اچانک اُچک لیا۔

خیال نے سوال داغا کہ عشقِ مجازی میں اگر اتنی جنوں خیزی ہے تو عشقِ حقیقی تو پھر واقعی بَراقی طبیعیت کا ہو گا جو ایک جست میں سات اسمان پھاڑ دے۔ اب سوال پھر وہی تھا کہ عشقِ حقیقی کے لئے عشقِ مجازی کی پیوند کاری کیوں ضروری ہے کیا دل کو عاجز اور انا گردی سے پاک کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یا پھر اس لئے کہ عقل کی گھتیاں سلجھا سلجھا کر بندہ تھک جاتا ہے۔ اور پھر بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ ”میرے مولا مجھے صاحبِ جنوں کر دے“ کسی کا اس بات پر یقیں ہو یا نہ ہو۔

میرا تو اس ملاقات کے بعد کامل یقین ہو گیا تھا۔ کہ عشق آتش ہے اور یہ کوئی آفاقی شے ہے۔ یہ وحی کی طرح اترتا یے اور بلھے شاہ کی طرح وجد کرواتا ہے۔ اور یہی وہ عشق ہے جو آپ کو مثلِ معراج ہواوں میں اوڑائے پھرتا ہے۔ دیکھو ایک شعر کیسے اس احساسات کی منظر کشی کر رہا یے۔ چمکتے چاند تاروں کی کہکشاں سے گزرا ہوں، میں ہاتھ تیرا تھام کر آسماں سے گزرا ہوں۔ اور پھر مولانا رُوم نے تو گویا یہاں میری پیٹھ تھپتپھاتے ہوئے کہہ ڈالا کہ ”قصہ طور بھی عشق ہے اور قصہ معراج بھی عشق ہے، لیکن ایک قصہ محبوبیت ہے، جبکہ دوسرا قصہ محبیّت ہے۔“ آقبال ایسے وقت میں کہاں پیچھے ہٹنے والے تھے فرطِ جذبات میں سیدھا ہی کہہ گئے تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں، میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں۔ تو دوستو! میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں، کہ آپ پر حقیقی مقام آشکار ہو ہی نہیں سکتا جب تک آپ مجازی آگ میں جل کر کندن نہیں بن جاتے۔ کیونکہ عشقِ حقیقی کے لئے صرف کھرا سونا درکار ہے۔

کھرا سونا انسان اپنی ”میں“ پر قابو پاکر ہی بنتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ”اگر آپ میں غرور اور غصہ باقی ہے تو سمجھو کہ ابھی آپ نیک بندوں میں شامل نہیں ہوئے۔“ اقبال کے شاہین کا تصور بھی یہی ہے کہ آپ اقبال کے شاہین بن ہی نہیں سکتے۔ جب تک آپ اپنی ”میں“ پر قابو نہیں پا لیتے۔ سیدھی بات ہے اگر آپ کا دل عشق جیسے جذبے سے خالی ہے تو آپ کو چاند کی گود میں بیٹھ کر بھی یہی لگے گا کہ آپ پتھر پر بیٹھے ہیں۔ اور اگر آپ کا دل جذبہ عشق سے بھر گیا تو صرف آپ کا دل نہیں بلکہ آپ کا پورا وجود یہ دہائیاں دیتا پھرے گا۔ پاؤں لٹکا کے جانبِ دنیا آؤ بیٹھیں کسی ستارے پر۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وسیم رضا، سعودی عرب کی دیگر تحریریں
وسیم رضا، سعودی عرب کی دیگر تحریریں