اسقاط حمل: فیصلہ صرف عورت کا؟
امریکی ریاست الابامہ میں ابارشن کے بارے میں 14 مئی کو ایک انتہائی متنازع قانون منظور ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس قانون کے مطابق تقریبا ً ہر قسم کی ابارشن غیر قانونی ہو گی۔ صرف ایسے حمل جن میں پیدائشی نقائص کے حامل بچے جو کہ ماں کے پیٹ سے باہر آ کر زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا پھر وہ حمل جن کی وجہ سے ماں کی زندگی کو جان کا خطرہ ہو سکتا ہے ضائع کیے جا سکتے ہیں۔ اس قانون میں زنا بالجبر (Rape) اور زنائے محرم (Incest) سے ہونے والے حمل بھی مبرا نہیں ہوں گے۔
خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اس کی سختی سے مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کے بقول وہ ریاست جس کے سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ چاند پر بھیجا جانے والا خلائی جہاز بنایا تھا، آج جب چاند پر انسان کے قدم رکھنے کی پچاسویں سال گرہ منائی جا رہا ہے تواسی ریاست نے جاہلیت کے دور کا قانون منظور کر لیا ہے۔ جس دن اس بل پر اسمبلی میں بحث ہو رہی تھی، شدید سردی کی رات میں ہر عمر کی ہزاروں عورتیں کھلے آسمان کے نیچے احتجاج کرتی رہیں۔ یہ قانون امریکی سپریم کورٹ کے 1973 کے Roe v Wade کیس کے فیصلہ کے بالکل برعکس ہے۔ یہ ایک تاریخی فیصلہ تھا جس میں کہا گیا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم میں دیے گئے رازداری کے بنیادی حق کی وجہ سے حاملہ خواتین کو یہ اختیا ر حاصل ہے کہ وہ اسقاط حمل کروانے یا نہ کروانے میں آزاد ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ حق مطلق نہیں ہے بلکہ حکومت اس کو عورتوں کی صحت اور بچوں کی زندگی کے مفاد سے مشروط کر سکتی ہے۔
عدالت ہی نے اس کو تفصیلاً بیان کرتے ہوے فیصلہ سنایا کہ حمل کی پہلی سہ ماہی میں حکومت اسقاط کو بالکل روک نہیں سکتی۔ دوسری سہ ماہی میں حکومت اس کے لئے مناسب قوانین بنا سکتی ہے اور تیسری سہ ماہی میں اس کو بچے اور ماں کی صحت کے متعلق مسائل سے مشروط ہونا چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد سے اب تک امریکہ کی سیاست میں اس کے خلاف اور حمایت میں مسلسل تحریکیں چل رہی ہیں۔
1992 میں ایک اور کیس میں اس کا حوالہ دیتے ہوے کورٹ نے سہ ماہی کی بنیاد پر تقسیم کو بدلتے ہوے بچے کے ماں کے پیٹ سے باہر آ کر مصنوعی مدد کے بغیر زندہ رہنے سے مشروط کر دیا۔ یہ شرط تقریباً سات ماہ کے حمل پر پوری اترتی ہے۔ یعنی اس سے پہلے عورت حمل جاری رکھنے یا ضائع کرنے کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔
قدیم دور کے قوانین میں سے صرف آشوری قانون میں یہ مثال ملتی ہے کہ اسقاط پر سزاے موت دی جاتی تھی، لیکن یہ سزا صرف خاوند کی مرضی کے بغیرکروانے پر ہوتی تھی۔ اسی مملکت میں یہودیت پروان چڑھی۔ جس میں اسقاط حمل کو مذہبی کی بجائے معاشرتی مسئلہ کہا گیا۔ قدیم یونا ن میں اسقاط حمل پر کوئی سزا نہیں تھی۔ لیکن اگر خاوند فوت ہو چکا ہے تو اس کی وراثت کی وجہ سے اسقاط ممنوع تھا (معاشرتی مسئلہ)۔ کتاب خروج میں دو آدمیوں کی لڑائی میں ایک عورت کا حمل ضائع ہونے کا ذکر ہے، جس کی کوئی سزا نہیں دی جاتی۔ جس کی وجہ سے کچھ قدیم راہبوں کے نزدیک پیٹ میں موجود بچے کو خدا انسانی روح نہیں کہتا۔ اس لئے اسقاط جرم نہیں۔
ارسطو اسقاط کو بچے کی حرکت کے احساس سے مشروط کرتا ہے جو کہ چار پانچ ماہ کے حمل میں محسوس ہوتی ہے اور اس کے مطابق اسی وقت ہی بچے میں انسانی روح آتی ہے۔ سینٹ آگسٹن بھی ارسطو کی اسی نظریہ کے قریب ہی ہیں اور جب تک بچے کے اعضاء مکمل طور پر تیار نہیں ہو جاتے اس وقت تک اس کو جائز کہتے ہیں۔
اسلام میں بھی یہی کہا گیا کہ بچے میں روح حمل کے چوتھے ماہ میں آتی ہے۔ اسی بنیاد پر جامعہ الازہر کے علماء سمیت کچھ علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ اس سے پہلے اسقاط حمل جائز ہے۔ لیکن اکثریت کے نزدیک یہ کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت میں جائز نہیں۔ ہاں اگر ماں کی زندگی کو اس کے جاری رہنے سے خطرہ کا احتمال ہو تو حمل ضائع کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک تو اس حد تک جاتے ہیں کہ مانع حمل طریقوں میں سے اکثر حمل کو ہونے سے روکتے ہیں اور جائز ہو سکتے ہیں لیکن بچہ دانی کے اندر رکھنے والے آلات (چھلہ اور کاپر ٹی) چونکہ حمل ہونے کے بعد جنین کو بچہ دانی میں جڑنے implant سے روکتے ہیں اس لئے یہ بھی اسقاط ہی مانے جائیں گے اور ممنوع ہیں۔
انیسویں صدی میں طب کے شعبے میں ہونے والی ترقی سے اسقاط حمل پر بحث کا آغاز ہوا۔ اس سے پہلے ابارشن کے متعلق کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ ڈاکٹروں نے اس پر قانون سازی کی ضرورت محسوس کی۔ بچے کی حرکت کی بجائے اس پر زور دیا جانے لگا کہ بچہ تو پہلے دن سے ہی مکمل انسان ہوتا ہے۔ اس دوران سرجری میں ترقی سے اسقاط حمل آسان بھی ہوگیا۔ لیکن ساتھ ہی غیرتربیت یافتہ افراد کی اس کام میں آمد سے ابارشن کے بعد کے مسائل بھی سامنے آنا شروع ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس بحث میں حصہ لینا شروع کر دیا۔
2002 ۔ 2003 میں پاکستان میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق ہمارے ملک میں سالانہ نو لاکھ کے لگ بھگ اسقاط حمل ہو رہے تھے۔ پاکستان کا نام دنیا کے ان ممالک میں آتا ہے جن میں اسقاط حمل کوخاندانی منصوبہ بندی کے طریقے کے طور پر استعمال کیا جا تا ہے اور شرح کے لحاظ سے ہمارا نام دنیا میں سب سے زیادہ ابارشن والے ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ امریکی نیشنل پبلک ریڈیو کی موجودہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے تقریباً اڑتالیس فی صد حمل نا پسندیدہ ہوتے ہیں اور ان میں سے 54 فیصد کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ یہ اسقاط عام طور پر گندے ماحول اور گندے اوزاروں کی مدد سے نا تجربہ کار اتائیوں کے ہاتھوں کیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان میں سے ایک تہائی کو خطرناک اور نقصان دہ مسائل کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ جن میں مستقل بانجھ پن عام ہے۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


