چھلڑ خان کا خط، حساس دوست کے نام


پیارے دوست\"zunaira،

کیا پوچھتے ہو بھائی ابھی گھر پہنچا ہوں۔ رات کے 12 بجے ہیں۔ 9 بجے ڈیوٹی ختم ہوتی ہے تو سڑک کنارے کھڑا ہو جاتا ہوں لفٹ مانگنے۔ گاڑی والے تو کبھی روکتے نہیں ہاں الله بھلا کرے موٹر سائیکل والے ترس کھا کر بٹھا لیتے ہیں۔ جہاں تک ہو سکتا ہے چھوڑ دیتے ہیں۔ آخر کے 20 منٹ پیدل چلتا ہوں تو گھر پہنچتا ہوں۔ 11 بج ہی جاتے ہیں۔ ابھی گھر آیا تو بیوی سر پکڑے بیٹھی تھی۔ کہتی ہے مالک مکان پھر آیا تھا باتیں سنا کر گیا ہے۔ کہتا ہے 2 دن تک کرایہ نہ دیا تو اٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔ بچوں کے اسکول کی فیس الگ سر پر کھڑی ہے۔ تیرے بچے تو ادارے کے اسکول میں پڑھتے ہیں نہ؟ کتنا اچھا ہے یار۔ کم از کم بچوں میں تو کوئی فرق نہیں رکھتے۔ خیر ابھی میں بیوی کو خالی تسلی دے کر بیٹھا ہوں تو تمہارا خط دیکھا۔

تم اچھے ہو یار کم ز کم کوئی مالک مکان آ کر روز دھمکیاں تو نہیں دیتا۔ اس ڈر سے تو آزاد ہو کہ کوئی سامان اٹھا کر باہر پھینک دے گا۔ ارے یار ہم تو نہ زندوں میں نہ مردوں میں۔ عوام الگ گالیاں دیتے ہیں اور صاحب الگ۔ کہیں مر مرا گیا تو کوئی میرے بیوی بچوں کو پوچھے گا بھی نہیں۔ قرضہ لے کر جنازے کا کھانا ہوگا میرا۔ میری بیوی دھکے کھائے گی دو ٹکے کی پنشن کے لئے۔ تم کو کیا پریشانی ہے یار۔ مر گئے تو شہیدوں میں نام۔ عزت الگ۔۔ جنازے سے لے کر پنشن کی گھر ڈیلیوری تک کا کام ادارہ کرے گا۔ کوئی رہنے کا بندبست بھی کر دے گا تمہارا ادارہ تمہارے خاندان کے لیے۔ ہمارا کیا ہے زندہ ہیں تو \”چھلڑ\” ہیں، مر جائیں گے تو کہیں گے ایک اور پولیس والا ہلاک۔ حکومت کہتی ہے پیسے نہیں ہیں پولیس کی ریفارمز کے لئے۔ ارے بابا ریفارمز کو چھوڑو کوئی بندوق ہی صحیح لے دو۔ کبھی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے۔

سارا دن سڑک پر ڈیوٹی ہوتی ہے۔ جس دن قسمت خراب ہو وی آئی پی ڈیوٹی لگ جاتی ہے۔ اس میں تو نہ دن ہے نہ رات۔ لیکن یہ ہے کہ اس دن کھانا ٹھیک سے مل جاتا ہے۔ سڑک کی ڈیوٹی کی اپنی خواری ہے۔ عوام کہتی ہے یہ تمیز سے بات نہیں کرتے رشوت کھاتے ہیں۔ یار تمیز سے بات کیسے کروں؟ ایک ہی جملے میں سب کو گندا کر دیتے ہیں۔ ہم سب رشوت کھاتے ہیں کیا؟ کسی کو اندر کے حالات تو پتا ہی نہیں۔ ایک تھانے کو 10 لیٹر پٹرول ملتا ہے۔ 10 لیٹر۔۔ ذرا اندازہ کرو۔ 10 لیٹر میں دو گاؤں پورے نہیں پڑتے راؤنڈ کے لئے۔ ہمیں کیا چھوڑنے لینے جائے گی موبائل۔ اسی لئے روز سڑک کنارے کھڑا ہوتا ہوں۔ میں کیا۔۔ میرے جیسے سب۔ ایک صاحب ہمارا اچھا تھا اس نے کہا میں کوئی بندوبست کرتا ہوں تمھارے لانے، لے جانے کے لئے۔ بڑے صاحب کو اس نے خط لکھا آگے سے ٹکا سا جواب آ گیا۔ بیچارہ ذرا ایماندار بھی تھا۔ بس کچھ عرصہ ہی ٹکا پھر جن کی اصلی حکومت ہے انہوں نے اس کا تبادلہ کروا دیا۔ ارے یار ہم تو نہ ادارے کو اچھے لگتے ہیں نہ اصلی مالکوں کو۔ کس کس کو پورے پڑیں؟ کس کی بات سنیں اور کس کی شنوائی کریں؟

اچھا خیر۔ کل میں نے ٹی وی پر دیکھا تمھارے ادارے کا گانا چل رہا تھا۔ میرے بچے بڑے شوق سے سنتے تھے۔ کبھی مجھے بھی مڑ کر دیکھ رہے تھے جیسے پوچھتے ہوں کہ کیا ضرورت تھی پولیس میں جانے کی۔ نہ پیسا نہ عزت۔ کم از کم عوام عزت ہی دیتے۔ کوئی 4-6 ملی نغمے ہمارے بھی نکل آتے۔ بچے فخر سے بتاتے میرے ابّا پولیس میں ہیں۔ ارے یار یہ بتاؤ یہ گانے بنانے کا بجٹ کیسے آ جاتا ہے؟ ہمارے تو صاحب کبھی کبھی اپنی جیب سے فوٹو کاپی کے پیسے دیتے ہیں تھانے میں۔ کبھی بڑے صاحب کو فنڈز کا بولو تو کہتے ہیں حالات نہیں دیکھتے ملک کے۔ ایک تو ملک کے حالات اس قدر خراب ہیں کہ 2 کروڑ کی گاڑی میں پھرنا آسان ہے لیکن پولیس والے کو بندوق لے کر دینا مشکل۔

تم نے پوچھا آگے کا کیا سوچا ہے؟ ارے یار زندہ بچ گیا تو ریٹائیر ہو جاؤں گا 60 سال کی عمر میں۔ پھر کیا کروں گا؟ ہماری نوکری لگتی ہے اسکول کے باہر ایک زنگ آلود بندوق کے ساتھ۔ 15000 روپے دیں گے تو بولیں گے جان دے دینا کوئی خطرہ ہو تو۔ میرا دوست تھا۔ خود کش حملے میں ٹانگ چلی گئی۔ پولیس کی نوکری تو ختم ہو ہی گئی۔ کوئی اعلان کردہ چیک بھی نہیں ملا۔ پیٹ پالنے کے لئے ایک گلی کا گارڈ لگ گیا۔ شومئی قسمت گلی میں ڈاکو ایک بندے سے موبائل چھین رہے تھے۔ بندے نے شور مچایا۔ پتا نہیں احمق کو کیا جوش چڑھا ڈاکوؤں کو لنگڑاتے ہوے للکار دیا ایک کو پیچھے سے پکڑ بھی لیا۔ انھوں نے جاتے جاتے سلامت والی ٹانگ میں بھی گولی مار دی۔ پولیس کی نوکری تو چلی ہی گئی تھی گارڈ کی نوکری سے بھی گیا۔ گلی والوں نے کمپنی کو کہا کوئی ایسا گارڈ دیں جو ٹھیک سے چلتا تو ہو۔ کمپنی والے نے 2 مہینے کی تنخواہ پکڑائی اور چلتا کر دیا۔ پچھلے مہینے سنا ہے اس نے چھت سے چھلانگ لگا کر جان دے دی۔ شکر ہے مر گیا۔ بچ جاتا تو لنگڑا تو تھا ہی باقی جسم سے معذور ہو کر مصیبت بنا رہتا۔ تمہارا کیا ہے یار۔ ریٹائیر ہو کر کسی ویلفیئر والی جگہ لگ جانا۔ ایک دو تھوڑی پورے 50 ادارے ہیں تمھارے۔ کہیں نہ کہیں عزت والی نوکری مل ہی جائے گی۔

ایک اور دوست تھا میرا۔ بم اسکواڈ میں تھا۔ ہنسی آتی ہے اس کو بم اسکواڈ کہتے ہوئے۔ تمھارے ذھن میں ہوگا کوئی اعلیٰ درجے کے سامان کے ساتھ جاتا ہوگا بم کو ڈی فیوز کرنے۔ ارے کیا بات کرتے ہو یار۔ یہاں تو کم بخت بلیٹ پروف جیکٹس نہیں ہیں اور بم پروف سامان کہاں سے آئے گا۔ شلوار قمیض میں ملبوس، ہاتھ میں پلاس اٹھائے یہاں بم کو ناکارہ بنایا جاتا ہے۔ اگر ناکارہ ہو جائے تو شکر ہے بچنے پر۔ جو نہ ہوا ناکارہ تو دنیا اور معاش کی فکر سے آزاد بندا سیدھا الله کے پاس۔ تو وہ میرا دوست تھا۔ کوئی فون آیا کہ علاقے میں ایک بارودی سرنگ کی خبر ہے۔ وہاں پہنچا تو ایک دو نہیں پوری تین بارودی سرنگیں تھیں۔ پہلی دو تو اس نے ناکارہ کر دیں۔ تیسری کر رہا تھا تو بس۔ تم نے شاید خبروں میں سنا ہو گا۔ ویسے تو ایسی باتوں کی خبر نہیں آتی لیکن اس کی ویڈیو بن گئی تھی نا۔ تو ہمارے میڈیا نے ویڈیو کو دھندلا کر کے بڑے \”ذمہ دارانہ\” طریقے سے سارا واقعی رپورٹ کر دیا۔ ویسے نہ بھی دھندلا کرتے تو کیا تھا اس کے گھر میں نہ ٹی وی نہ انٹرنیٹ۔ اس کے گھر والوں نے کہاں دیکھنا تھا۔ لیکن بندہ مرتے مرتے مشہور ہو گیا۔

بس یار تو بھی کہے گا شکایات کا پینڈورا باکس کھول کر بیٹھ گیا۔ کیا کروں صبح شام گالیاں ہی پڑتی ہیں۔ عوام سے، صاحب سے، گھر والوں سے۔ سوچ رہا ہوں میں بھی چھت سے کود جاؤں لیکن پھر سوچتا ہوں اگر بچ گیا تو معذوری الاؤنس بھی نہیں ملے گا۔ کہیں گے خود کشی کی کوشش ہے جیل چلو۔ ارے یار یہ خود کشی کیا ہوتی ہے۔ زندگی سے فرار۔ اس کو زندگی کہتے ہو؟ چل چھوڑ تو بتا کیسا چل رہا ہے سب؟ کہاں پوسٹڈ ہے آج کل؟

واسلام

چھلڑ خان

Facebook Comments HS

One thought on “چھلڑ خان کا خط، حساس دوست کے نام

  • 24/08/2016 at 9:02 شام
    Permalink

    کيا ياد دلايا ..غالباً دسمبر 2009 کی بات ہے۔جنت کا متلاشی خودکش بمبار پشاورپریس کلب کی عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ڈیوٹی پرموجود ہیڈ کانسٹیبل ریاض الدین خان اسے روکتا ہے حملہ اورکہتا ہے جانے دیں بھائی جیکٹ نہیں دیکھ رہے ،،انگریزی اصطلاح کے مصداق ریاض الدین خان جواب دیتا ہے۔۔۔اوورمائی ڈیڈ باڈی۔۔اوردھماکہ ہوجاتاہے ۔۔۔۔اسی شہرگل کے کچہری گیٹ اورشمع سینیما کے قریب دھرتی کے ان بہادر سپوتوں نے خودکش حملہ اورروں سے اسی قسم کے مکالمے کئے تھے ۔۔پہلی اوردوسری جنگ عظیم کو ختم ہوئے عشرے بلکہ ایک صدی بھی مکمل ہوگئی ہےلیکن امریکا اوریورپی ممالک کے ہیروز پر ڈرامے،ناول اور فلمیں اب تک بن رہی ہیں۔۔ کوئی ہیں جو ہمارے ان ہیروز کو یادکرے؟

Comments are closed.