جھوٹے سیاستدان اور نرم دل چیئرمین نیب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے سیاستدان سفید جھوٹ بھی اس خوبصورتی سے بولتے ہیں کہ اس پرسچے سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔ ان ظالموں نے نرم اور پیار کرنے والے دل کے مالک چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بھی معاف نہیں ان کو خواہ مخواہ ایک سفاک، ظالم اور جابر شخصیت کے روپ میں پیش کیا، ان کے مظالم بیان کیے، ان کی سنگدلی اور سیاستدان ان کی سفاکیت پر طرح طرح کی دلیلیں پیش کرتے رہے۔ اب تک حالات و واقعات سیاستدانوں کے اس الزام کی تائید کرتے رہے۔ اور ہر شخص جاوید اقبال صاحب کو سنگدل اور سفاک ہی سمجھتا رہا۔

لیکن بھلا ہو اس خاتون کا جن کے ایک ویڈیو نے ان سارے سیاستدانوں کو یکسر جھوٹا ثابت کیا، عوام خوش ہیں کہ ان کے منصب احتساب پر ایک سفاک اور سخت دل والے نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت فائز ہیں جن کے سینے میں لطیف احساسات رکھنے والا دل دھڑکتا ہے۔ لطیف خیالات اور پیار بھرے جذبات ہر انسان میں پائے جاتے ہیں ہاں یہ احساسات اور خیالات کبھی کمزور ہوتے ہیں اور کبھی جوبن پر، کبھی جھوٹے ہوتے ہیں اور کبھی سچے، کبھی ظاہر ہوکر عشق کا عنوان بن جاتے ہیں اور کبھی دل کے سمندر میں غرق ہوکر ناکام عاشق کا شہرہ پاتے ہیں۔

ماہ رمضان ہے جب شیطان قید اور فرشتے آزاد ہوتے ہیں یہ الگ بات کہ اس رمضان میں آزاد فرشتہ قیدی شیطان کی ہوس کا نشانہ بنی لیکن چیئرمین صاحب کا قضیہ ہنوز حل طلب ہے کہ قصور آزاد کا ہے یا قیدی کا؟ پر قصور کا کیا ہے وہ تو بے زباں ہے اسے اپنے پاک مملکت میں قوت اور طاقت کے ترازو میں تولے جانے کا رواج ہے، سرمائے سے اس قصور کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اب یہی ہونا ہے کہ ایسا ہی ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔ طاقت اور قوت کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ صرف اپنے اثرات دکھاتا ہے خود پردے میں رہتا ہے سادہ لوح ان اثرات کو اصل طاقت اور قوت سمجھتے ہیں یوں طاقت کے اصل مراکز اپنا کھیل جاری رکھتے ہیں۔ اثرات کا کیا وہ تو تبدیل کیے جاسکتے ہیں وہ تو کٹھ پتلی ہوتے ہیں۔

بہر کیف پیار کرنے والے چیئرمین صاحب آپ سچے اور سیاستدان جھوٹے ہیں آپ نے اپنی غیر جانبداری ثابت کردی، آپ کا دعوی درست کہ احتساب کے نام پر انتقام نہیں ہورہا یکن سر دست آپ کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے ہر انسان کو دو چیزیں بہت عزیز ہوتی ہیں جاں اور عزت و آبرو۔ پاکستان میں یہی دو چیزیں سب سے سستی ہیں اتنی سستی ہیں کہ جان اور عزت پیاز اور ٹماٹر کے بھاؤ کے سامنے شرمندہ شرمندہ رہتی ہیں۔

چیئرمین نیب کو سمجھ آجانی چاہیے کہ اب ان کی عزت کا بھاؤ پیاز ٹماٹر سے بھی کم رہ گیا ہے۔ عقلمندی یہی ہے کہ اپنی اس قیمت کو بچا لیں وگرنہ طیبہ فاروق نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑنا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>