اپوزیشن اتحاد کا منطقی انجام

اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر حکومت کے خلاف صف بندی کرچکی ہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اتحاد وجود میں آ چکا ہے۔ وہی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں جو انتخابات کے فوراً بعد سنی گئیں تھی۔ وہی مطالبات دہرائے جا رہے ہیں جو دو سال قبل کیے گئے تھے۔ انتخابات کے بعد لہجوں میں جو شدت اور کرختگی تھی، ہنوز باقی بلکہ شدت میں مزید گرمی آ گئی ہے۔

اپوزیشن کے مطالبات اگرچہ وہی ہیں جو دو سال قبل تھے، جذبات میں پہلے سے زیادہ تندی اور تیزی بھی ہے۔ لیکن دو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب کچھ پلس پوائنٹس بھی ہیں جو اپوزیشن کے بیانیے کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور اس تحریک کو مزید تیز کرنے میں مددگار اور معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

Read more

اپوزیشن کی اے پی سی اور مولانا صاحب کی فیملی کے خلاف نیب ریفرنس

25 جولائی 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں ملکی نظم و نسق جس طبقے کے سپرد ہوا، آج پورے دوسال اور چند دنوں بعد ثابت ہوا کہ یہ طبقہ سرے سے اس بڑی اور اہم ذمہ داری کے لائق ہی نہیں تھا۔ معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ خارجہ پالیسی کے مرکزی محور کشمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ قانون ساز ادارے پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی نہیں ہورہی، صدارتی آرڈیننس سے کام چلایا جا رہا ہے۔ میگاکرپشن کیسز سامنے آرہے ہیں،

Read more

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر اور مسجد کا انہدام

وطن عزیز پاکستان ویسے تو ہمیشہ سے تجربات کی آماجگاہ رہا ہے۔ زیادہ تر تجربات اس کے نظریات پر ہوتے رہے ہیں۔ اس بار مگر پورا ملک ہی ایک ایسے شخص کے حوالے کیا گیا ہے جسے زندگی میں ایک یونین کونسل تک کے انتظامی معاملات چلانے کا تجربہ نہیں۔ لیکن مزاج یار کے کیا کہنے کہ پوری مملکت ہی اس کے حوالے کردی گئی۔ اور اب ہر ہر شعبے پر تجربے ہو رہے ہیں۔ خصوصاً مذہبی معاملات کو زیادہ چھیڑا جا رہا ہے۔

Read more

مولانا اسعد محمود کا علی امین گنڈا پور کو چیلنج

جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد مولانا فضل الرحمان دس سال قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں لہذا اندس سالوں کے کشمیر کمیٹی کے اخراجات اسمبلی فلور پر پیش کیے جائیں کہ معلوم ہو سکے کہدیگر چیئرمینوں کے مقابل مولانا صاحب نے کتنے اخراجات کیے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کی شخصیت کوانکی سیاست کی ابتداء سے ہی متنازعہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ کبھی تحریک قیام پاکستان سے قبلکے اکابرین کے ساتھ وابستگی کو دلیل بنا کر پاکستان کو تسلیم نا کرنے کے الزامات تو کبھی دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کیکوششیں، کبھی کرپشن کے الزامات تو کبھی ہمیشہ حکومتوں کے ساتھ رہ کر مفادات حاصل کرنے کی باتیں۔ وقت کی گرد تلے دبے ان الزامات کی شدت میں کمی آ گئی ہے۔ تاہم نیازی سرکار اقتدار میں آنے سے قبل جلسوں میں سیاسی قیادتوں کی بابت جو لب ولہجہ استعمال کرتے تھے لگتا یوں تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ اپنے تمام سیاسی مخالفین کا سخت احتساب کریں گے۔ وہ اقتدارمیں آئے یا لائے گئے تو حسب توقع انہوں نے اپنے مخالفین کا احتساب کیا، نیب کا بھرپوراستعمال کیا ایسے میں سیاسی جماعتوں کیاعلی قیادتوں نے خاموشی میں عافیت جانی لیکن یہ خاموشی بھی ان کو نا بچا سکی۔

Read more

آسمان ہدایت کا روشن ستارہ

پیر طریقت حضرت اقدس مولانا عزیز الرحمان ہزاروی رحمہ اللہ 23 جون پیر کی عصر کے بعد غروب آفتاب سے کچھ قبل ہزاروں علماء، محدثین مفسرین، شیوخ الحدیث، شیوخ القرآن، قراء کرام، حفاظ، مبلغین، واعظین اور نیک لوگوں کی موجودگی میں سفرآخرت پر روانہ ہوگئے۔ بٹگرام کے ایک گاؤں چھپر گرام سے علوم نبویہ سے اپنے سینے کو منور کرنے والے اسلام آباد کے علاقے ترنول کی بستی انوار مدینہ میں اپنی اماں جاں کے پہلو میں سپرد خاک ہوئے۔

Read more

اہم قومی مسائل پر جے یو آئی بلوچستان کی اے پی سی

ملک بھر میں سیاسی جمود ہے۔ ن لیگ، پی پی سمیت چھوٹی بڑی جماعتیں خاموش ہیں۔ اس جمود اور خاموشی کے پیچھے فی الحال کورونا لیکن درحقیقت سیاسی جماعتوں کی اپنی کمزوریاں، منصوبہ بندی کی کمی، وژن کا نا ہونا اور کارکنوں کی عدم دلچسپی ہے۔ بلکہ کارکنوں اور قیادت میں اعتماد کا فقدان ہے۔

ایسے میں جمعیت علماء وہ واحد قوت ہے جو اس جمود اور خاموشی کو توڑتی رہی ہے۔ آزادی مارچ ایسی توانا اور بھرپور آواز اپنے بدترین مخالف کے دور حکومت میں بلند کرنا بلکہ ہر طرح سے للکارنا، حکومت کے پس پردہ قوتوں بارے کھلم کھلی گفتگو، ان کو چیلنج کرنا ثابت کرتا ہے کہ جمعیت علماء کی قیادت مضبوط ہاتھوں میں ہے، منصوبہ بندی کے ساتھ کام ہورہا ہے، وژن واضح ہے، کارکنوں اور قیادت میں باہمی اعتماد کا رشتہ ہے۔

Read more

اسلام آباد آزادی مارچ: دلیل اور طاقت کی جنگ

پشاور موڑ میں اسلام آباد آزادی مارچ کے شرکاء کے پڑاؤ کو آج ہفتہ مکمل ہوگیا ہے۔ دو دن تیز بارش ہوئی اور اب موسم ٹھنڈ ا ہوگیا ہے۔ سخت جاں انساں بھی موسم کی شدت کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں آج بھی جائیں تو ساتھیوں کے چہروں پررونق اور شگفتگی دکھتی ہے۔ خیموں کی اس بستی میں زندگی کے سارے ہی آثار نظر آتے ہیں۔ کچھ خیموں میں بیٹھے گپ شپ میں مصروف ہیں تو کچھ کھانے

Read more

آزادی مارچ اور آئین میں موجود اسلامی شقوں کا دفاع

ایک جمہوری ملک میں موجود متفقہ آئین اور اس آئین کی اسلامی شقوں کا دفاع جبکہ ملک کے مقتدر حلقوں، حکمرانوں، میڈیا اور عدلیہ پر بیرونی دباؤ کے مبینہ الزامات ہو، ایک مشکل کاز ہے۔ مگر اس مشکل کاز کو جمعیت علماء اسلام اور اس کی قیادت کی پارلیمانی جدوجہد، سیاسی زندگی اور حکومتوں کے ساتھ اتحاد یا اختلاف میں ان شقوں کے دفاع کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس کاز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی حکومتوں میں شامل ہوئے

Read more

پاکستان کی نظریاتی اساس کا تعین آئین کرے گا یا بانیان پاکستان کا ناشتہ؟

روزنامہ جنگ میں آج کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ عمرہ زائرین کی تعداد ٹیکس دہندگان سے زیادہ ہے۔ خبر کے مطابق اس سیزن میں کم وبیش 16 لاکھ پاکستانیوں نے عمرہ کی سعادت حاصل کی ہے (لفظ سعادت میری جانب سے ہے ) جبکہ ٹیکس ادا کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد بارہ سے چودہ لاکھ کے درمیان ہے۔

Read more

پی ٹی ایم اور فوج: لڑائی کے فوائد

پی ٹی ایم اور فوج کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں ظاہر ہے قصور وار پی ٹی ایم نے ہی ٹھہرنا ہے کہ کمزور ہے اور منصب، طاقت والوں سے مقابلہ ہے۔ جھگڑا ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہمیشہ سے ایک ہی رائے چلی آتی رہی ہے کہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر جھگڑا ناگزیر ہو توپھر جلد از جلد ہو جانا چاہیے۔ پی ٹی ایم اور فوج کا جھگڑا اب ناگزیر ہو چکاہے اس لیے جتنی جلدی

Read more

جھوٹے سیاستدان اور نرم دل چیئرمین نیب

ہمارے سیاستدان سفید جھوٹ بھی اس خوبصورتی سے بولتے ہیں کہ اس پرسچے سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔ ان ظالموں نے نرم اور پیار کرنے والے دل کے مالک چئرمین نیب جاوید اقبال کو بھی معاف نہیں ان کو خواہ مخواہ ایک سفاک، ظالم اور جابر شخصیت کے روپ میں پیش کیا، ان کے مظالم بیان کیے، ان کی سنگدلی اور سیاستدان ان کی سفاکیت پر طرح طرح کی دلیلیں پیش کرتے رہے۔ اب تک حالات و واقعات سیاستدانوں کے اس الزام کی تائید کرتے رہے۔ اور ہر شخص جاوید اقبال صاحب کو سنگدل اور سفاک ہی سمجھتا رہا۔

Read more

مفتی تقی عثمانی پر حملہ، علم اور تہذیب پر حملہ

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم علم، تقوی امن، شائستگی اور تہذیب کی علامت ہیں۔ کسی کو کبھی کوئی اذیت کیا پہنچائی ہوگی شاید کبھی سخت سست بھی نہ کہا ہو۔ مفتی صاحب کا اوڑھنا بچھوناعلم ہے درس وتدریس ہے تحقیق و جستجو ہے وعظ و نصیحت ہے تفسیر قرآن ہے حدیث ہے فقہ ہے اور دارالعلوم کراچی ہے۔ علمی دنیا میں عالم اسلام کے بلند پایہ متبحرعالم، فاضل اور رہنما ہیں۔ گذشتہ جمعہ جامعہ فریدیہ تشریف لائے۔

آپ سے علماء اور طلباء حد درجہ عقیدت رکھتے ہیں اور اس کا اظہار کم تر درجے میں مصافحے سے کرتے ہیں لیکن جامعہ فریدیہ کے منتظمین مفتی صاحب کے ضعف اور ایذاء سے بچاؤ کے لئے مسلسل اعلان کرتے رہے کہ کوئی مصافحہ کی کوشش نہ کرے طلباء اور علماء نے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھا اور مصافحہ کے لئے کوئی دھکم پیل نہیں کی اور مصافحہ کرنے کی زحمت سے بھی مفتی صاحب کو محفوظ رکھا تاہم ان کی گاڑی کے نظروں سے اوجھل ہونے تک گاڑی کے ساتھ ساتھ رہے۔

Read more