جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بچیوں کے والدین پر ایک ایف آئی آر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا باہر کی دنیا میں جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات نہیں ہوتے؟ کم ہوتے ہیں، مگرہوتے ہیں۔ بالکل ہوتے ہیں، مگر ایک فرق ہے۔ باہرکی دنیا میں ہراسانی کے بعد بچے یا خاتون کو شکایت درج کراتے ہوئے کوئی جھجک نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہماری شکایت کے بعد والدین بدنامی کے ڈر سے خاموشی کی تجویز نہیں دیں گے۔ خاندان والے پیشگی عدالت لگا کر اپنی روایت کے مطابق بہر دو صورت لڑکی یا بچے کو غلط قرار نہیں دیں گے۔ معاشرے کے دیگر طبقات اور سوشل میڈیا صارفین بات سنے بغیر ہماری ذات پر سستے لطیفے ارزاں نہیں کریں گے۔

آج سے کوئی تین برس قبل پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی ایک پلئیر نے دبے لفظوں میں شکایت کی کہ مینیجمنٹ انہیں ہراساں کرتی ہے۔ اس آواز میں چار آوازیں اور شامل ہوگئیں۔ کچھ دن بعد اس موضوع پر ایک ٹاک شو ہوا۔ پانچ پلئیرز نے کوچ کی موجودگی میں کھل کر تلخ تجربات کا اظہارکیا۔ ٹاک شو کے ٹکڑے سوشل میڈیا پر پھیل گئے۔ آج بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان ویڈیوز کے اوپر کیپشن کیا ہیں اور نیچے تبصرے کیسے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے اس بنیاد پر لڑکیوں کو ہی قصور وار ٹھہرایا کہ وہ گھر سے نکلی ہی کیوں۔ انہوں نے لہو لعب کی دنیا اختیار ہی کیوں کی۔ جب وہ میدان میں دوڑیں گیں، تو ظاہر ہے مردوں میں جنسی ہیجان تو پیدا ہوگا۔

شرمین عبید چنائے کی بہن ایک ڈاکٹر کے پاس گئیں۔ ہسپتال میں انہوں نے اپنا نام و پتہ اور دیگر تفصیلات جمع کروائیں۔ ڈاکٹر سے اپنے مرض کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی۔ واپس لوٹیں تو دیکھا کہ ڈاکٹر نے فیس بک پر انہیں دوستی کی عرضی بھیجی ہوئی ہے۔ شرمین عبید چنائے نے ٹویٹر پر یہ مسئلہ اٹھایا تو لہجے کا توازن کھوبیٹھیں۔ زبان کی تلخی مسئلے کی اہمیت پر غالب آگئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس قوم کو اس بات پر ننانوے فیصد اتفاق قائم کرنے کا موقع مل گیا کہ ڈاکٹر غلطی پر نہیں ہے۔ غلطی پر خاتون ہیں کہ وہ رد عمل دے رہی ہیں۔

میشا شفیع کا کیس ابھی تازہ ہے۔ علی ظفر کے خلاف ان کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ مگر بیشتر نجی عدالتوں میں یہ فیصلے سنائے جاچکے ہیں کہ میشا شفیع غلطی پر ہے۔ دلیل یہ ہے کہ میشا شفیع اور علی ظفر کی کچھ ایسی تصاویر ریکارڈ پرموجود ہیں جن میں وہ بغلگیر ہیں۔ دو ماہ قبل اسما نامی لڑکی نے میڈیا پر آکر کہا، بات نہ ماننے پرخاوند نے اس پر تشدد کیا اور بال مونڈدیے۔ یہاں بھی لڑکی غلط قرار دے دی گئی۔ دلیل کے طور پر ایک ویڈیو پیش کی گئی جس میں وہ اپنے خاوند کے ساتھ دوستوں کی ایک محفل میں جھوم رہی ہے۔

دو ہفتے قبل سمرین نامی خاتون کی ویڈیو نشر ہوئی جس میں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا ماتم کررہی تھیں۔ خاتون نے زیادتی کا الزام اپنے ہی ایک دوست پر لگایا تھا۔ یہاں بھی پہلے ہلے میں خاتون کو غلط قرار دے دیا گیا۔ دلیل کے طور پر ایک وڈیو پیش کی گئی جس میں بیٹی کی موجود گی میں خاتون اسی ملزم کے ساتھ خوش گوار موڈ میں موجود ہے۔

کوئی پانچ برس قبل لاہور میں جنسی زیادتی کا ایک واقعہ ہوا۔ ملزم کا تعلق ایک بڑی سیاسی جماعت سے نکلا۔ پنجاب کے وزیر قانون نے صحافی کے ایک سوال کے جواب میں کہا، اس کیس کو رہنے دیں یہ غیر اہم ہے، ہم نے خاتون سے متعلق تحقیق کی ہے وہ تو پرانی پیشہ ور ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ اس خطے میں ہونے والے جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ والدین تربیت نہیں کررہے، دوسرا قانون پر عمل درامد نہیں ہے۔ سوال یہ ہے یہ والدین کون ہیں؟ درج بالا واقعات اور اس جیسے تمام دیگر واقعات پر ردعمل دینے والے لوگ ہی تو والدین ہیں۔ یہ والدین ہی کا تو خیال ہے کہ مردوں کی طبع نازک میں میں جنسی ہیجان پیدا ہونے کی وجہ خاتون کا گھر سے باہر نکلنا ہے۔ والدین ہی کو لگتا ہے کہ خاتون اگر ڈاکٹر کے تعاقب سے ہراساں ہوگئی ہے تو اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پر خاموشی اختیار کرے۔

یہ والدین ہی کا خیال ہے کہ دو لوگوں کے بیچ اچھی دوستی ہو تو بیچ سے ہراسانی کا امکان اٹھ جاتا ہے۔ والدین ہی کا احساس یہ ہے کہ اگر خاتون اپنی بیٹی سے زیادتی کا الزام ایسے شخص پر لگائے جس سے اس کے دیرینہ مراسم تھے، ایسے میں زیادتی کرنے والے مرد کے حصے کے سوالات بھی خاتون سے کرنے چاہئیں۔ والدین ہی اس تصور پر یقین رکھتے ہیں کہ پیشہ ور خاتون کا وجود کسی نامعلوم پیر کا مزار ہوتا ہے۔ جو بھی چاہے جب بھی چاہے آئے اور چادر چڑھاکر چلاجائے۔ والدین ہی تو سمجھتے ہیں کہ مسکراہٹ یا ہنسی دراصل جنسی زیادتی کا جواز ہوتی ہے۔ اور یہ کہ پورے فسانے میں خاتون کے حرفِ انکار کو ثانوی درجہ حاصل ہوتا ہے۔

یہ روایتی سماجی بیانیہ تربیت کے نام پر بچوں کو کیا دے سکتا ہے؟ اس طرح کے جنسی اور سماجی رجحانات کے ہوتے ہوئے قانون ہماری کیا مدد کرسکتا ہے؟ پھر یہ کہ بچوں کو اور خواتین کو جس درجے میں ہراسمنٹ کا سامنا ہے اس درجے پر جاکر کسی معاملے کو دیکھنا قانون کے بس میں بھی کہاں ہے۔ مثلاً ایک خاتون ایزی لوڈ کے لیے اپنا نمبرریٹیلر کو دیتی ہے۔ اگلے دن نامعلوم نمبر سے خاتون کو ”جمعہ مبارک“ کا میسج آجاتا ہے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تو وہی شخص ہے جس سے ایزی لوڈ کروایا تھا۔

ایسے میں خاتون کچھ بھی کہے گی تو اس کو تین باتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ پہلی یہ کہ اس میں ایسی کیا بات ہے بس ”جمعہ مبارک“ ہی تو کہا ہے۔ دوسری یہ کہ ایزی لوڈ کروانے کی ضرورت ہی کیا تھی، تمہیں پتہ تو ہے مردوں کا۔ تیسری یہ کہ اچھا بس اب چپ رہو ورنہ الٹا تمہیں لینے کے دینے پڑجائیں گے۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ اس طرح کی صورت حال میں قانون کیا کر سکتا ہے؟

فرض کریں گزشتہ ایک برس کے دوران لندن میں جنسی زیادتی کے دس اور ہراسانی کے بیس واقعات ہوچکے ہیں اور کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ آپ کی بیٹی وہاں زیر تعلیم ہے۔ وہ اکیلی ٹرین میں سفر کرتی ہے، یونیورسٹی پہنچتی ہے، مخلوط درس گاہ میں بیٹھتی ہے، سر شام واپس گھر پہنچتی ہے، سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے، ادبی تقریبات اور مذہبی مجالس میں جاتی ہے۔ اس پورے عرصے میں آپ کو دھڑکا لگے گا کہ بیٹی اب ہراساں ہوئی کہ اب ہوئی۔ ظاہر ہے کہ نہیں! کیوں؟ کیونکہ سماج کی شعوری اٹھان درست فکری رجحانات کے تحت ہوئی ہے۔ چنانچہ قانون کہیں سو بھی رہا ہوں تو عزت کو اجتماعی شعور سے خطرہ محسوس نہیں ہوگا۔

فرض کریں کہ پاکستان میں گزشتہ سال سے اب تک ہونے والی جنسی زیادتیوں میں ملوث افراد کو عبرت ناک والی سزائیں ہوچکی ہیں۔ کیا آپ اپنے دل کو اس دورانیے میں مطمئن رکھ پائیں گے جب آپ کی بیٹی پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کررہی ہوگی؟ مخلوط نظام تعلیم کے نہ ہوتے ہوئے بھی بچی کی یونیورسٹی میں موجودگی سے بے فکررہ سکیں گے؟ کیا اپنے کمسن بچوں کے معاملے میں قریبی عزیزوں اور دوستوں پر آپ کا اعتبار بڑھ جائے گا۔ کیا خواتین کو سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں برابری کا احساس ہونا شروع ہوجائے گا۔

کیا خواتین ادبی محفلوں تک میں بے ادبی کے خوف سے اسی طرح بے نیاز ہوکر جاسکیں گیں جس طرح مرد جاتے ہیں۔ کیا کسی خاتون کا معزز ہستیوں کی طرف سے ذو معنی جملوں کا دھڑکا ختم ہوسکے گا۔ یہ سوچنا آسان ہوجائے گا کہ پیشہ وارانہ زندگی میں صنف کی بنیاد پر تفریق نہیں ہوگی۔ فلم اور میڈیا انڈسٹری کو خود لیے محفوظ شعبے کے طور پر دیکھنے لگیں گیں؟ تاڑنے والی نگاہوں کی اذیت میں کمی کا کوئی امکان اپنے دل دماغ میں پال سکیں گیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں! کیوں؟ کیونکہ یہاں سماج کی شعوری اٹھان ہی غلط سمت میں ہوئی ہے۔ سو قانون یہاں چاروں آنکھ جاگ رہا ہو تو بھی عزت کو ایک خوف لاحق رہے گا۔

اجتماعی شعور کے آگے قانون بہت دیر تک سینہ تان کے کھڑا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قانون تو خود اجتماعی شعور کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور اسی کی گود میں پلتا بھی ہے۔ بنیادی تصورات کو نظر انداز کرکے جب بھی تربیت اور قانون کا سوال اٹھایا جائے تو زینب کیس پر نگاہ ڈال لیا کریں۔ زینب کیس کے لیے تحقیقاتی کمیشن قائم ہوا تو زینب کے والد نے اس پر اعتراض کردیا۔ کیونکہ کمیشن کے سربراہ کے متعلق مشہور کیا گیا تھا کہ وہ احمدی ہیں۔ زینب کے والدین کا خیال تھا کہ ایک شخص کا عقیدہ ہی اگر ٹھیک نہ ہو تو وہ سچ کیسے کہہ سکتاہے؟

جب مجرم گرفتار ہوا تو پہلے ردعمل میں والدین نے عمران کو مجرم ماننے سے انکار کردیا۔ کیونکہ عمران صوم وصلوۃ کا پابند تھا اور نعت خواں بھی۔ والدین کا خیال تھا کہ جو شخص نہ صرف یہ کہ عقیدے کا درست ہے بلکہ ثناخوان ِ رسول بھی ہے وہ جنسی بے راہ روی کا شکار کیسے ہوسکتا ہے۔

ایسے میں لے دے کر دو سوالات اپنی جگہ قائم رہ جاتے ہیں۔ سوچنے کا روایتی انداز برقرار رکھتے ہوئے بچوں کے لیے جو کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں، کیا اسے تربیت کہنا ٹھیک ہوگا؟ اور اس تربیت کے ہوتے ہوئے ہم اگر قانون کو پکاریں، تو کیا وہ ہماری کچھ خاص مدد کرپائے گا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •