سرسے پاؤں تک چوم کر منانا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چئیرمین نیب کے خلاف مبینہ سکینڈل کے منظرِعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان باتوں میں ملامت کا پہلو نمایاں ہے حالاں کہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے خلاف سازش کی گئی ہے۔ سازشی عناصر نے بڑی مہارت سے اپنے الفاظ ان کی زبان سے ادا کروا دیے۔ ویڈیو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے چئیرمین نیب طیبہ فاروق پر ریشہ خطمی ہوئے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن حیرت ہے کہ خاتون کے مٹھاس بھرے لہجے کی طرف کسی کی توجہ منتقل نہیں ہوئی۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ چئیرمین صاحب نے اگر قدم بڑھایا ہے تو گرین سگنل ملنے کے بعد ہی بڑھایا ہو گا۔ آپ خود ہی سوچئیے اگر ایک ماہ جبیں اپنے دست سیمیں کو کسی مرد کی طرف بڑھائے تو وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ ’دور باش۔‘ اور پھر ان کی گفتگو سے یہ اندازہ لگانا چنداں دشوار نہیں کہ خاتون ان سے ناراض تھیں اور وہ انہیں منانا چاہتے تھے۔ بیوی یا گرل فرینڈ کو منانے کے لئے بھی تو نہ جانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور وہ تو ان کی باقاعدہ گرل فرینڈ بھی نہیں تھیں۔ ایسے میں اگر انہوں نے منانے لے لیے چند مستی بھری باتیں کر لیں تو کیا غضب کیا۔

شاید انہوں نے اپنی جوانی میں وہ مشہور نغمہ سنا ہو گا:

’کچھ لوگ روٹھ کر بھی، لگتے ہیں کتنے پیارے۔ ‘ اور ان کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی رہی ہو گی تبھی انہوں نے کہا کہ آپ میرے پاس ہوتیں تو پتہ ہے میں آپ کو کیسے مناتا؛ سر سے پاؤں تک چومتا۔ ”واہ کیا بات ہے، بھلا اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ صاحب! وہ چاکلیٹ اور پھول وغیرہ بھیج کر منانے والے طریقے اب پرانے ہو چکے ہیں۔ وہ دن بھی گئے جب کسی کارڈ پر دل بنا کر سوری لکھا جاتا ہے۔ چناں چہ اس تخلیقی سوچ پر کچھ نہ کچھ ستائش کے حقدار تو وہ ہیں۔

تاہم طیبہ فاروق نے راز کی باتیں یوں طشت از بام کر دیں۔ رتی بھر پرواہ نہیں کی کہ ان کے اس اقدام سے چئیرمین صاحب کے گداز دل پر کیا بیتے گی۔ وہ ایک حساس عہدے پر فائز ہیں، لوگ ان کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ اس پر شکوہ تو بنتا ہے۔ اسی لئے تو نیب نے اس سکینڈل کی سختی سے تردید کر دی تھی۔ اس حوالے سے یاد آیا کہ خدائے سخن میر صاحب نے کہا تھا:

” فقیرانہ آئے صدا کر چلے، میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے“

یعنی اے میرے محبوب ہم تمہارے دروازے پر دل کا کشکول لئے آئے ہیں اگر تم محبت خیرات میں دے دو تو فقیر کا بھلا ہو گا وگرنہ ہم خالی ہاتھ لوٹ جائیں گے مگر تمہیں دعا دے کر جائیں گے کیونکہ کوئی کچھ دے یا نہ دے فقیرتو ہر حال میں دعا دیتا ہے لیکن دروازے سے خالی ہاتھ بھیجا جائے تو صاحب ثروت پر حرف ضرور آتا ہے۔

یہاں تو فقیر کو خالی ہاتھ بھیجنے کے ساتھ ساتھ اس کی رسوائی کا بندوبست بھی کر دیا گیا۔ اسی لئے تو ہمیں فقیر سے ہمدردی محسوس ہو رہی ہے۔ اس سے پیشتر عائشہ گلالئی نے بھی ایسی ہی ایک حرکت کی تھی اور عوام کے پسندیدہ اور ہر دل عزیز کپتان پر نازیبا الزامات لگا دیے تھے۔ اس کے باوجود عوام نے کپتان کو وزیر اعظم بنایا اور گلالئی کو مسترد کر دیا تھا۔ اس تناظر میں چئیرمین نیب کو بھی ان الزامات پر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی استعفیٰ دینے کی ضرورت ہے۔

چند دن سوشل میڈیا پر شور و غلغلہ ہو گا پھر عوام کو کوئی نیا موضوع مل جائے گا۔ تاہم طیبہ فاروق نے جس مہارت سے ویڈیوز بنائی ہیں اس کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہو گی۔ اب اگر سارے واقعے میں جنسی ہراسانی کا پہلو نکل آیا تو سوشل میڈیا پر چئیرمین نیب کے خلاف ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہو گا۔ ایسے میں ہم طیبہ فاروق کو یہی مشورہ دیں گے کہ جانے دیجئیے۔ آپ تو کچھ زیادہ ہی ناراض ہو گئیں۔ چئیرمین صاحب کی باتیں سن کر ہمیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ بہت رومینٹک انسان ہیں اور جنگ کے بجائے امن کے حامی ہیں۔

اسی لئے وہ منانے کی بات کرتے ہیں۔ ذرا سوچئے اگر وہ بھی منہ پھلا کر بیٹھ جاتے تو پھر ان میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق رہ جاتا۔ ایسے انسان کی قدر کی جانی چاہیے۔ یوں تو وہ جس منصب پر فائز ہیں اس کے بجا طور پر حقدار ہیں لیکن اگر کسی کی بے جا تنقید کے بعد وہ یہ منصب چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں پاکستان کے ہر شہر میں جا کر صلح، محبت اور منانے کے موضوع پر لیکچر دینے چاہییں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ادھیڑ عمر افراد بھی ان کے لیکچر ذوق و شوق سے سنیں گے۔ اب اجازت دیجیے ہمیں بھی کسی کو منانا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •