ہم نے ظہیر کاشمیری کو کیوں بھلا دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسم بدلا، رت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے

فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے

یہ غزل ظہیر کاشمیری نے لکھی، استاد امانت علی خاں نے گائی اور اہلِ جنوں کی آواز بن گئی۔ وہ اسے گلیوں گلیوں گاتے پھرتے ہیں اور اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچاتے رہتے ہیں۔ شاعری کی مدد سے کوانٹم فزکس کی گتھیاں سلجھانے والوں کے لیے تو شاید اس میں کوئی دل چسپی نہ ہو مگر جو لوگ اپنی زندگی کی بنیاد محبت پر استوار کرتے ہیں، اُن کے لیے اس میں بہت کچھ ہے۔ جو جنگل گیا نہیں وہ جنگل کی خطرناکیاں کیا جانے۔ وہ چاک گریبانی کو دل لگانے کے خمیازے کے علاوہ اور کیا سمجھ سکتے ہیں مگر اہلِ دل کے نزدیک اس سے اچھا صلہ اور کیا ہو گا۔ بس دنیا والوں اور دل والوں میں یہی باریک سا فرق ہے۔ ایک کا خمیازہ دوسرے کے لیے صلہ کا درجہ رکھتا ہے۔

ظہیر کاشمیری کا ایک زمانے میں بہت چرچا تھا۔ یہ وہی دور ہے جس میں ترقی پسند تحریک اپنے سفر پر رواں تھی اور اس کی روشنی میں شاعر، ادیب اپنے اپنے کلام کو شکل دے رہے تھے۔ پروفیسر احتشام حسین، سید سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی موجود تھے۔ ظہیر کاشمیری نے فیض اور قاسمی جیسی شاعری کی توانا آوازوں کے درمیان اپنی آواز کو نمایاں رکھا۔ اس آواز کی انفرادیت پر کان دھرا جائے تو کچھ باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ ترقی پسندوں نے رائج رومانی فضا سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے اپنی فکر کی بنیاد کارل مارکس کے نظریات پر رکھی اور غزل کے بجائے نظم کی ہیئت کو ترجیح دی۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ ظہیر کاشمیری ترقی پسند شاعر تھے لیکن اُن کے کلام کو دیکھا جائے تو اس میں نظم کے بجائے غزلوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جہاں انقلاب کا بیان ہے وہاں رومانی فضا بھی موجود ہے۔ اسے ہم انحراف نہیں بلکہ ایک مزاج کَہ سکتے ہیں۔ اسی مزاج نے اِس فکر کی آبرو میں بہت اضافہ کیا۔ اس لہجے کو سمجھنا ہو تو اُس کے لیے تقابل کا سہارا لینا پڑے گا۔ یہ اسلوب ایسا نہیں جس میں کیفی اعظمی، علی سردار جعفری، مخدوم محی الدین، جانثار اختر، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض نے شاعری کی ہو۔ ان شعرا کے ہاں عرضِ مدعا سطح پر نظر آ جاتا ہے اور شاعری اور اعلان کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ ظہیر کاشمیری عصری موضوعات بیان کرتے ہیں انھیں مسلط نہیں کرتے ہیں۔ اس سے اُن کی شاعری ایسی قلبی واردات کا بیان بن جاتی ہے جس سے جذبہ آواز بنتا نظر آتا ہے۔

میں ہوں وحشت میں گم، میں تیری دنیا میں نہیں رہتا

بگولا رقص میں رہتا ہے، صحرا میں نہیں رہتا

بڑی مدت سے تیرا حسن دل بن کر دھڑکتا ہے

بڑی مدت سے دل تیری تمنا میں نہیں رہتا

موجود اور ناموجود کا ایسا اچھا بیان شاعری میں کم کم دیکھنے میں آتا ہے۔ مشاہدہ اپنی انفرادیت کا گواہ بن کر سامنے آتا ہے۔ تناسب کا امتزاج دیدنی ہے۔ وحشت میں گم، علائقِ دنیاوی سے دور، صحرا نوردی، بگولے کی طرح رقصاں رقصاں۔ لفظ جب شاعر پر مہربان ہوتے ہیں تو پھر وہ اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ اُس پر قربان ہو جاتے ہیں۔ کچھ بھی چھپا کے نہیں رکھتے اور شعر میں ایسے معجزہ پیدا ہو جاتا ہے جس پر کئی علوم نثار کیے جا سکتے ہیں۔ ایک چپ سی لگ جاتی ہے۔ شاعری کو اگر لفظوں کا کھیل کہا جائے تو اِس کے کھیلنے میں پوری زندگی صرف ہو جاتی ہے۔ اور اِس شاعر کی زندگی صرف ہوئی۔

ساری زندگی جس سلطانیِ جمہور کا خواب دیکھا تھا اُس کی نذر جوانی کر دی مگر وہ صبحِ درخشاں نہ آئی۔ جبر کا سورج سوا نیزے پر رہا اور شاعر کا دیکھا ہوا خواب تشنہ ¿ تعبیر رہا۔

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

اندھیرا اجالے میں نہ بدل سکا۔ ہم اقوامِ عالم میں بھکاری بن گئے۔ جب کاہلی، تن آسانی، بدنیتی، جھوٹ، مکر، فریب، کینہ ہمارا اجتماعی شعار بن جائے گا اور تحقیق، طلب، جستجو اور آسمانی صحائف سے ہمارا عمل دور پر ہوگا تو ادبار تو آئے گا۔

ظہیر کاشمیری کے قافلے میں کئی موسمی لکھاری، انقلاب کے نعرے کو وردِ زبان بنا کر داخل ہوئے مگر اُن کا انقلاب اپنی احتیاجات کی تکمیل تک تھا۔ وہ ضرورت کے پورا ہونے پر سلطانیِ جمہور کے بجائے سلطانیِ سلطان کے نام کی مالا جپنے لگے مگر اِس شاعر کا وطیرہ مختلف رہا۔ جیلیں کاٹیں، اذیتیں سہیں، تب جا کر اپنے ضمیر کی عدالت میں اطمینان نصیب ہوا۔ شاعری کی دیوی اتنی مہربان بھی نہیں ہوتی کہ آپ کا باطن تو کدورت سے لب ریز ہو اور آپ کا کلام حسن کا نمونہ بن جائے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ آپ دل سے دل ملاو ¿ گے تو کلام ضو دینا شروع کر دے گا:

عکسِ جمالِ یار کا اعجاز دیکھیے

اک چاندنی سی چھو گئی میرے بدن کے ساتھ

اس کی ہر تان سے ملتا ہے ستاروں کو گداز

عشق کہتے ہیں جسے، نغمہ جاں ہوتا ہے

حسن کا عکس بھی تسکینِ دل و جاں ہے ظہیر

حسن پر سایہ صاحب نظراں ہوتا ہے

یہ انقلابِ زمانہ تھا یا فریبِ نظر

گزر چکا ہے مگر انتظار باقی ہے

وہ کیا شہیدِ محبت تھے جن کی میت پر

مزار ہے نہ چراغِ مزار باقی ہے

یہ اور بات کہ تیرے کرم کی نذر ہوئے

شباب ہم پہ بھی تھا تیرے بانکپن کی طرح

یہ اور اس طرح کے کئی اشعار ظہیر کاشمیری کی کلیات میں شامل کتابوں ”عظمتِ آدم“، ”تغزل“، ”چراغِ آخرِ شب“ ، ”رقصِ جنوں“ اور ”شعر و غنا“ کا حصہ ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں کہ باطنی سچ کے ساتھ گزاری ہوئی زندگی کیسی ہوتی ہے۔ ہماری اُردو دنیا کا المیہ ہے کہ اگر کسی شاعر کے ساتھ ترقی پسند یا رجعت پسند کا سابقہ لگ گیا تو ہم اُسے بغیر پڑھے رد کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ اصل میں یہ ہمارے اُس اجتماعی تاثر کی جھلک ہوتی ہے جو ہم نے خود ہی طاری کیا ہوتا ہے کہ ترقی پسند ہے تو اس طرح کی شاعری ہوگی اور رجعت پسند ہے تو اُس طرح کی شاعری ہوگی اور شاعری کے بارے میں ہم سے بہتر کون جانتا ہے۔ شاعری کی تعبیر میں جاننے کا لفظ ویسے ہی جچتا نہیں۔ ظہیر کاشمیری کی شاعری کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معروف معنوں میں ترقی پسند شاعر احمد ندیم قاسمی یا فیض احمد فیض سے کسی طرح بھی کم نہیں۔

ہم لوگ آپ آ گئے شب کے فریب میں

اک جھٹ پٹے پہ ہم کو گمانِ سحر ہوا

تیرا مقامِ فن تو بجا ہے مگر ظہیر

اُس شوخ پر کلام ترا بے اثر ہوا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •