انیلا پرمار کو سوشل میڈیا کے بلیک میلرز نے خودکشی پر مجبور کیا۔۔۔!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائبر کرائم کی شکار ہندو طالبہ کو خودکشی سے بچایا جا سکتا تھا لیکن افسوس کہ اس کے ورثا سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی، بدنامی کے خوف میں مبتلا رہے اور بارہویں جماعت کی طالبہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئی۔

اس نے تو اپنے بابا کو اپنا دوست سمجھ کر سب کچھ بتادیا تھا لیکن بابا صرف بابا پی رہا اور بدنامی کے خوف میں مبتلا رہا۔۔۔

انیلا کا تعلق سندھ کے چھوٹے سے شہر ٹنڈو غلام علی کے پڑھے لکھے خاندان سے تھا۔ اس کے والد ڈاکٹر لچھمن نے بیٹی کی خودکشی کے بعد مقدمہ درج کروایا ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب بیٹی کی زندگی میں ہی بدنامی کے خوف کی چادر اتار پھینکتے تو ان کو اپنی بچی کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ وہ بیٹی، جو بیچاری بیک وقت تین بلیک میلرز کے نرغے میں پھنس گئی تھی اور ناکردہ غلطیوں کی سزا بھی بھگت رہی تھی۔۔۔!

بارہویں کلاس کی طالبہ انیلا پرمار کا فیس بک پر سوم میگھواڑ نامی ہندو نوجوان سے رابطہ ہوا، جس کے بعد وہ واٹس ایپ پر بھی رابطے میں رہے۔ سوم میگھواڑ نے انیلا کی تصاویر کو ایڈٹ کرکے اپنے ساتھ بٹھایا اور پھر اسے بلیک میل کرنا شروع کردیا۔ وہ ہر ماہ انیلا سے پچاس ہزار روپے لیتا تھا۔

انیلا کی اڈیرو لال شہر کے نوجوان مہیش کے ساتھ منگنی ہوئی تو بلیک میلر سوم میگھواڑ نے کہیں سے انیلا کے منگیتر کا موبائل نمبر حاصل کیا اور اسے انیلا کی تصاویر بھیج دیں۔ مہیش نے نہ صرف انیلا سے منگنی توڑ دی بلکہ اس نے بھی سوم میگھواڑ کے ساتھ مل کر انیلا کو بلیک میل کرنا شروع کردیا۔۔۔!

 اب بیچاری انیلا کو بیک وقت دو بلیک میلرز کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔۔۔!

کچھ دن قبل ٹنڈو الہ یار شہر کے نوجوان اشوک کے ساتھ انیلا کی منگنی طے ہوئی۔ منگنی کی رسم کے دوران بلیک میلرز نے اشوک کو انیلا کی تصاویر بھیجیں تو اشوک منگنی کی رسم ادھوری چھوڑ کر چلا گیا۔

اور پھر۔۔۔۔

اشوک نے بھی انیلا کو بلیک میل کرنا شروع کردیا۔ اسے سخت اذیت ناک میسیجز بھی کرتا رہا۔

اب بیچاری انیلا بیک وقت تین بلیک میلرز کے نرغے میں پھنس گئی تھی۔۔۔ جب یہ سب کچھ برداشت کرنا اس کے بس میں نہ رہا تو اس نے زندگی کو الوداع کہا اور موت کی وادیوں میں چلی گئی۔۔۔!

وہ زندہ تھی تو اپنے بابا سے شکوہ کرتی تھی، “کیا ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی آپ کی کوئی نہیں سنتا کہ مجھے ناکردہ گناہوں کی سزا سے بچا سکیں۔۔۔!”

لیکن باپ صرف باپ ہی رہا۔۔۔ دوست نہ بن سکا۔۔۔ بدنامی کے خوف کی چادر اوڑھے خاموش بیٹھا رہا۔۔۔ اور انیلا نے اپنی جان دے دی۔۔۔!

انیلا کے والد ڈاکٹر لچھمن نے بدنامی کے خوف کی چادر اب اتار کر پھینکی ہے، جب بیٹی کبھی واپس نہ آنے کے لئے موت کی وادیوں میں جا چکی ہے۔۔۔!

خودکشی سے پہلے انیلا نے اپنے چھوڑے ہوئے خط میں تینوں بلیک میلرز کے نام لکھے ہیں۔

پاکستان کے سائبر کرائم قانون میں سنگین نوعیت کے جرائم میں چودہ سال قید اور پانچ کروڑ روپے جرمانہ تک کی سزائیں موجود ہیں۔ کاش کہ ہماری پولیس روایتی طور پر اپنی مٹھی گرم کرنے کے چکر میں نہ پڑے۔ انیلا کے والد کسی جرگے کے جال میں نہ پھنسیں اور بیٹی کو موت کی وادیوں میں دھکیلنے والوں کو سزا دلوا کر ان کے انجام تک پہنچائیں۔ وہ بیٹی، جس کی زندگی میں وہ اس کو درندوں سے نہیں بچا سکے تھے، اور بدنامی کے خوف کی چادر اوڑھے خاموش بیٹھے رہے تھے۔۔۔!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>