انتقام کو انصاف کون سمجھے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام سوچ ہے کہ احتساب سے زیادہ مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانا نیب کے قیام کا مقصد ہے۔ ہر شخص جانتا ہے جب سے یہ ادارہ قائم ہوا اس کے حصہ میں کوئی بڑی کامیابی نہیں آئی۔ حالانکہ نیب بے پناہ اختیارات کا حامل ادارہ ہے۔ وہ جب چاہے کسی کو بھی گرفتار کرکے ایک خاص مدت تک حراست میں رکھ سکتا ہے۔ اس کے باوجود نیب کا دائرہ کار اک خاص طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے افراد تک محدود ہے۔ ہمیشہ اس کے پلیٹ فارم سے سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی تضحیک ہی نظر آتی رہی ہے۔

لیکن اس میں بھی یہ احتیاط رہتی ہے کہ ٹرائل کی زد میں مقتدرہ یا اس کے منظور نظر افراد نہ ہوں۔ عوام ہر روز کوئی نیا کیس اور گرفتاری دیکھتے ہیں، سالہا سال اس کا میڈیا ٹرائل چلتا ہے۔ ملزم کو پیشگی گرفتار بھی کر لیا جاتا ہے۔ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر عدالتوں سے ریمانڈ میں توسیع پر توسیع لی جاتی ہے۔ ملزم کی شہرت خراب کرنے اور معافی تلافی یا کسی سمجھوتے پر راضی کرنے کے بعد کئی ماہ حراست میں رکھ کر بالآخر خاموشی سے رہا کر دیا جاتا ہے۔ کچھ بتایا نہیں جاتا کہ ملزم سے کیا ریکوری ہوئی اور اگر نہیں ہوئی تو اس کی کیا وجہ ہے؟ ملزم کی شہرت کو اس تمام عرصے میں جو نقصان پہنچا اور الزام ثابت کرنے میں ناکامی پر ادارے کی ساکھ کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا۔

چند دنوں سے چیئرمین نیب جاوید اقبال صاحب کی ایک صحافی سے مبینہ ملاقات کا بہت چرچا ہے۔ اس ملاقات کی تفصیل صحافی نے اپنے کالم میں بیان کی، جس میں خود چیئرمین نیب کی زبانی اوپر بیان کیے تمام احساسات کی تصدیق ہوتی ہے۔ نیب کی غیر جانبداری پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں اور چیئرمین نیب یہ کہہ کر کہ نیب حکومت گرنے کے خوف سے اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا، بزبان خود ان شکوک و شبہات کی تصدیق کر دی ہے۔ اگرچہ نیب مذکورہ کالم میں چیئرمین نیب سے منسوب باتیں ماننے سے انکاری ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل نیب کی جو تھوڑی بہت ساکھ تھی اور حالیہ احتسابی عمل سے متعلق کسی ذہن میں خوش فہمی تھی، وہ بھی رفع ہو چکی ہے۔

مملکت خداداد کی گزری تاریخ میں وقتاً فوقتاً مختلف نعرے سنائی دیتے رہے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں بلکہ اس سے قبل بھی یہاں پر احتساب کے نام پر ڈنڈا اٹھایا گیا تو کبھی امن و امان کی بحالی اور ریاست کی رٹ قائم کرنے کا جواز تراشہ گیا۔ کبھی معاشی انقلاب کی نوید سنائی گئی تو کبھی سرمایہ داروں کے تسلط کا خاتمہ اولین ترجیح رہا۔ اپنے اپنے ادوار اور تقاضوں کے موافق سننے میں یہ باتیں نہایت بھلی محسوس ہوئیں مگر یہ صرف نعروں تک ہی محدود رہی اور ان پر عمل کی کبھی کوئی سنجیدہ کاوش قطعاً نظر نہیں آئی۔ کبھی مختصر مدت کے لیے کسی ایک بات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی بھی گئی تو اس کا جو طریقہ کار رہا اس کی نظیر آج بھی اچھے الفاظ میں نہیں فراہم کی جا سکتی۔

دو تین سال سے ایک بار پھر احتساب کا نعرہ شدت سے سننے میں آ رہا ہے مگر اس بار میں معمولی ترمیم کے ساتھ اسے ”احتساب سب کے لیے“ بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اب تک ہوئے اقدامات سے نظر یہی آرہا ہے کہ اس کا انجام بھی ماضی میں لگائے گئے نعروں سے مختلف ہرگز نہ ہوگا۔ ماضی میں جب بھی احتساب کا نعرہ لگا تو اس کی آڑ لے کر ہمیشہ مخالفین کو کمزور کرنے اور ان کی طاقت کو دبانے کی کوشش کی گئی اور اس بار بھی اب تک تو یہی نظر آ رہا ہے کہ احتساب کی آڑ میں ایک مخصوص طبقے کو کسی نہ کسی کی تسکین کی خاطر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شاید اسی لیے احتساب کے اصل شکار میاں نواز شریف بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے خلاف اقدامات کے پیچھے انتقامی جذبہ کار فرما ہے۔ ان کی اس بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ماضی کے برعکس اس مرتبہ جس بھونڈے انداز اور اناڑی پن سے یہ کام ہو رہا ہے، اس نے خود احتسابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر شکوک وشبہات کھڑے کیے ہیں۔

خواہ کوئی کچھ بھی کہتا رہے، مگر ملزم نواز شریف کی پیشی سے قبل احتساب عدالت کے جج سے اسی عدالت کے کمرے میں ایک خفیہ ایجنسی کے افسر کی ملاقات کی کیا تاویل پیش کی جائے گی؟ اس کے علاوہ کوئی بتائے گا کہ نواز شریف کے صاحبزادے کی تصویر لیک کرکے احتساب کے عمل کو کتنی تقویت حاصل ہوئی؟ اس سوال کا جواب بھی تاریخ پر قرض رہے گا کہ ”جے آئی ٹی“ کی تشکیل کے دوران ”ہیروں“ کی تعیناتی کے لیے اداروں کے سربراہان کو واٹس ایپ پر احکامات دینے کی ضرورت کیونکر پیش آئی؟ آخر کچھ ہے تو ہی پردہ داری ہے۔ مزید یہ کہ چیئرمین نیب نے آخر زرداری کے لرزتے کانپتے وجود کا بیان کس کی تسکین نفس کے لیے کیا۔

ہرچند کہ یہ تمام باتیں اپنی جگہ پر اہمیت رکھتی ہیں مگر ان کو کچھ وقت کے لیے پس پشت ڈال بھی دیا جائے تو بھی اس سوال کا جواب کون دے گا کہ آصف زرداری کے دست راست بتائے جانے والے ڈاکٹر عاصم حسین کی کھربوں کی کرپشن فائلیں عین الیکشن کے وقت کیوں گرد کی نذر کی گئیں؟ جن کا سراغ کسی حکومتی ادارے نے نہیں بلکہ خود قوم سلامتی کے ذمہ داران نے لگایا تھا۔ ایان علی کون تھی؟ کیا تھی؟ اور اچانک کہاں چلی گئی؟ اس کا جواب کس کے ذمہ ہے؟

عزیر بلوچ کے انکشافات کا کیا بنا؟ جس میں اس نے اپنے اور فریال تالپور کے دہشت گردوں سے روابط کا اعتراف کیا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آصف زرداری کو ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے دھمکی آمیز بیان کے بعد اچانک معافی کن شرائط پر ملی تھی؟ حکومتی صفوں میں نیب اور اداروں کے بھی بہت سے ترجمان بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک عالی دماغ فرماتے ہیں آصف زرداری کو انتخابات سے قبل تحفظ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی میچ فکسنگ سے ملا۔ کوئی عقل رکھنے والا شخص اس بات پر کس طرح یقین کرے جو شخص خود کو اور اپنے خونی رشتوں کو دن رات بے وقعت ہونے سے اپنی حکومت ہونے کے باوجود بچا نہیں پایا، وہ کسی دوسرے کو کیا تحفظ دے سکتا ہے؟ اسے مختاری کی نا حق تہمت کے سوا کیا کہا جائے۔

یہ بات بہت سے ذہنوں میں کلبلاتی رہے گی کہ ایک شخص وزیراعظم ہونے کے باوجود پیشیاں بھگتتا رہا۔ قانون چونکہ سب کے لیے برابر ہوتا ہے لہذا کسی کو خیال نہ گزرا کہ اس سے سیاسی بحران پیدا ہوگا۔ معاشی صورتحال خراب ہو سکتی ہے، سرمایا کاروں کو منفی تاثر جائے گا۔ دوسری جانب ایک دوسرا ملزم جو قانون کے رکھوالوں کو سرعام ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ اشتہاری قرار دیے جانے کے باوجود جلسوں میں رقص و سرور کی محافل سجاتا رہا۔

اسے سزا دینے کے بجائے نہ صرف وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا گیا بلکہ اس کے اتحادی چوروں اور لٹیروں کو بھی حکومت گرنے کے خوف سے ہاتھ نہیں لگایا جا رہا۔ کوئی بھی محب وطن شخص کبھی کسی چور لٹیرے کی حمایت نہیں کر سکتا۔ جس نے جرم کیا بلا تفریق اسے سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اگر ملزمان کے درمیان تفریق برتی جائی گی، خواہ کوئی بھی مصلحت پیش نظر ہو۔ پھر احتساب یا انصاف مکمل نہیں ہو سکتا اور اس فعل کی جتنی بھی ملمع کاری کرلی جائے تاریخ لکھتے وقت اسے انتقام ہی گردانا جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •