پیر ودھائی کے اڈے پر اترنے والا باغی فرشتہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک فرشے نے آوازِ بغاوت بلند کی کہ فرشتوں کو بھی انسانوں کی طرح آزادی ہونی چاہیے۔ ہمیں صدیوں سے ان بیکار انسانوں کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔ ہم انسان ہوتے تو زمیں میں بہت اچھے کام کر سکتے تھے، زمین کا نقشہ بدل سکتے تھے۔ مجھے اگر موقع ملے تو میں زمین پہ بڑے بڑے انقلاب لا سکتا ہوں۔ دو تین سو سالوں کے احتجاج کے بعد فرشتے کی بات سنی گئی وہ بھی اس شرط پہ کہ اُسے جہاں بھیج دیا جائے بغیر چوں چرا کئے چلا جائے گا۔

فرشتے نے شرط مان لی اور اُسے چند ہزار روپیوں کے ساتھ راولپنڈی کے پیر ودھائی اڈے پہ اتارا گیا۔ فرشتے کی ڈیوٹی ترقّی یافتہ ممالک میں تھی اور اتارا اسے ایک ترقی پزیر ملک میں گیا جہاں کے حالات سے اسے کچھ خاص واقفیت نہیں تھی۔ پیر ودھائی اڈے پہ قدم رکھا تو فرشتے کو ادھر کی بدبو میں بھی آزادی کہ مہک محسوس ہو رہی تھی۔ شلوار قمیض پہننے کی عادت نہیں تھی مگر پھر بھی آزادی اور کچھ نیا کرنے کی لگن میں اسے سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔

دائیں طرف کی جیب میں پیسے بھرے ہوئے تھے اور بائیں جیب میں کیو مبائیل کا کوئی سستا سا سمارٹ فون تھا۔ فون کے استعمال سے تو فرشے کو خوب واقفیت تھی مگر مصروفیات کہ وجہ سے کبھی توجہ نہیں دی تھی۔ اب وہ بار بار نکال کے دیکھتا اور واپس جیب میں ڈال دیتا۔ ارد گرد بسوں اور لوگوں کا مشاہدہ کرتے کرتے کافی وقت نکل گیا اور اسے بھوک محسوس ہونے لگی۔ بھوک محسوس ہونا بھی اس کے لئے ایک نئی چیز تھی سو جلدی سے اس نے موبائل میں گوگل مار کے پتہ لگایا کہ راولپنڈی میں سب سے مشہور کھانے کی چیز کیا ہے۔ سیور نام کی کوئی چیز تھی جس کی بڑی تعریفیں دیکھنے کو ملیں۔ رکشہ کرنے چلا تھا ک ساتھ کسی دکان میں کوئی سفید سی ٹوپی پسند ا گئی وہ خرید کے پہن لی اور اڈے کے باہر سے کوئی رکشہ روکا۔ رکشے والے نے کہا۔ خان بھائی کہاں جانا ہے؟ فرشتے نے جواب دیا ’سیور‘ ۔

ڈرائیور بولا ’خان بھائی سیور بہت دور ہے ہزار روپے لونگا وہ بھی اڈوانس میں۔ اکثر لوگ کرایہ دیے بغیر غائب ہو جاتے ہیں، ۔ فرشتے نے جیب سے پیسے نکال کے دیے اور کہا‘ چلو ٹھیک ہے۔ رکشے میں بیٹھ کر فرشتے نے پوچھا ’یہ تم مجھے خان بھائی کیوں بول رہے ہو؟

اپکی شکل اور ٹوپی سے لگا۔

فرشتے کو اطمینان ہو گیا کہ اس کا حلیہ زمین والوں سے ملتا تو ہے۔

راستے بھر فرشتہ روڈ پہ چلتے رکشوں کی آوازوں سے محظوظ ہوتا رہا۔ تنگ اور رش والی جگہوں سے کٹ مار کے نکلنے کا گُر بھی دیکھا۔ ایک جگہ رش لگا ہوا تھا اور آگے جانے کا رستہ نہیں تھا۔ فرشتہ نیچے اترا اور آستین چڑھائے اور سب کو آگے پیچھے دھکیلتے ہوے سب سے پہلے تبدیلی لانے ہجوم کے درمیان پہنچا۔ دو بندوں کی لڑائی ہو رہی تھی۔ ایک دوسرے کے گریبان پکڑ کر دنیا جہاں کی گالیاں دے رہے تھے اور لوگ جمع ہو کر تماشا دیکھ رہے تھے۔ فرشتے نے انہیں بازوؤں سے پکڑ کر الگ کرایا اور پوچھا مسئلہ کیا ہے۔ ایک نہ بتایا کہ یہ بندہ دو گھنٹے سے سانڈے کو زندہ کرنے کے دعوے کر رہا ہے، میں نے دو بوتلیں بھی خریدی ہیں مگر یہ سانڈے کو زندہ نہیں کر رہا۔ مجھے تپ چڑھی اور میں چپیڑ مار دی۔

فرشتے نے کہا تو تم بیوقوف سے کس نے کہا تھا دو گھنٹے بیٹھ کے انتظار کرتے رہو؟

یہ سنتے ہی اس بندے کو غصہ آگیا اور اس نے فرشتے کو بھی دو چپیڑیں رسید کر دیں۔ ساتھ ہی آگے پیچھے سے ایک دو لاتیں بھی پڑیں۔

رکشہ والے نے فرشتے کو مشکل سے رش سے نکالا اور رکشے میں بٹھا دیا۔ فرشتہ گالوں پہ ہاتھ رکھ کہ سُن ہوگیا اور راستہ بھر کوئی بات نہیں کی۔ رکشے والے نے سیور کے باہر اتار دیا اور کہا۔ خان بھائی دل پہ نہیں لینا اس شہر میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔

فرشتہ سیور کے کسی کونے میں بیٹھ گیا۔ آس پاس کے حسن کو دیکھ کہ آنکھوں اور چہرے پر انسانوں والے تاثرات امڈنے لگے تھے کہ گال کا درد یاد آیا۔ نظریں جھکا کے بیٹھا رہا اور آرڈر دیا۔ ایک منٹ میں آرڈر پہنچ گیا اور اس نے سیور کے ساتھ ایک سلفی لے کے فیسبک پہ اپلوڈ کردی تاکہ دوسرے فرشتوں کو جیلس فیل کرائے۔ ساتھ میں لکھ دیا ”انجوائنگ سیور ایٹ سیور فوڈز“

کھانے کے بعد گال کا درد بھی غائب ہوا تھا اور فرشتہ بچی ہوئی کوک کی چسکیاں لے رہا تھا کہ ویٹر بل لے کے آگیا۔ فرشتے نے مسکراتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ہاتھ نیچے کرسی تک پہنچ گیا اور پیسوں کا نام نشان تک نہ تھا۔ فرشتے نے یہ بات ویٹر کو بتائی تو اس کے چہرے پہ موت کے فرشتے جیسے تاثرات نمودار ہوے، پھر ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ وہ اسے اپنے ساتھ اندر کسی کمرے میں لے گیا جہان دو موٹے تگڑے بندے برتن دھو رہے تھے۔ ایک بندے نے فرشتے کو دو چپیڑیں ماری اور کہا، شکل سے تو بہت معزز لگتے ہو خان صاب مگر حرکتیں دیکھو اپنی۔ جب تک یہ سارے برتن نہیں دھو گے تم کہیں نہیں جا سکتے۔

رات کے دس بجے برتن دھو کے فارغ ہوا اور تھکن سے نڈھال باہر نکلا۔ پیدل چلتے چلتے سکستھ روڈ پہنچا۔ فلائی اوور کے نیچے کچھ دیر تھکن نکالنے کے لئے لیٹ گیا۔ آنکھیں بند کر کے سوچ میں تھا کہ اب بغیر پیسوں کے کرے گا کیا۔ اچانک کسی نہ لات ماری اور کہا ”خان یہ میری جگہ ہے تم اپنے لئے جگہ ڈھونڈو۔ فرشتہ بغیر کچھ بولے اٹھا اور گالوں پہ ہاتھ رکھ کے دور ہٹ گیا۔ ٹہلتے ٹہلتے چاندنی چوک پہنچ گیا اور آدھی رات ہو گئی۔ فرشتہ پھر فلائی اوور کے نیچے لیٹ گیا اور سامنے والے ستون کے نیچے ایک فقیر لیٹا سوٹے لگا رہا تھا۔

ابھی انکھ لگی تھی کہ موٹر سائیکلوں کی آوازیں آنے لگیں۔ فرشتہ اٹھ کے بیٹھ گیا کہ اب کون سی آفت آگئی۔ دبلے پتلے لڑکوں کا ایک گروپ رنگ برنگی موٹر سائیکلوں پہ سوار ایک ٹائر پہ موٹر چلاتے آ رہا تھا۔ فرشتہ ان کے کرتب دیکھ کے کچھ دیر کے لئے دنگ رہ گیا۔ وہ سارے لڑکے چوک پہ رکے اور ایک نے کیپسٹن سگرٹ کی ڈبی نکالی۔ ایک لڑکا فرشتے کے پاس آیا اور کہا۔ خان جی۔ لائٹور ماچوس کوئی نی؟ فرشتے نے گالوں پہ ہاتھ رکھ کے کہا ”کوئی نہیں۔

پھر وہ لڑکا دوسری طرف فقیر کے پاس گیا جو لیٹے لیٹے سٹے لگا رہا تھا۔ فقیر سے کہا ”راجا جی سگریٹ پکڑاو سو“ اور اس کے سگریٹ سے اپنی سگریٹ سلگائی اور سارے باری باری سوٹے لگانے لگے۔ کچھ دیر بعد ٹریفک پولیس کی بائک دیکھ کر سارے لڑکے بائیکوں پہ سوار ہوے اور وہیلنگ کرتے کرتے کمیٹی چوک کی طرف نکل گئے اور پٹرولنگ والے ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔ فرشتے نے اب کی بار دوسرے جیب میں ہاتھ ڈالا تو موبائل غائب تھا۔ پریشان فرشتہ اس لیٹے ہوے فقیر کے پاس جا کے بیٹھ گیا۔ فقیر نے پوچھا۔ پریشان ہو؟

فرشتے نے کہا۔ جی۔

لو ایک سُوٹّا لگا لو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

فرشتے نے سُوٹّا لگایا اور فقیر سے پوچھا۔

کون تھے یہ لڑکے؟

فقیر نے کہا۔ پنڈی بوائز کا نام سنا ہے؟

نہیں سنا۔ فرشتے نے جواب دیا۔

کس دنیا میں رہتے ہو بھائی۔ لگتا ہے نئے آئے ہو۔

فرشے کو نشے کی وجہ سے چکر آ رہے تھے اور اپنے فیصلے پہ ندامت ہو رہی تھی۔ غنودگی سی طاری ہو رہی تھی اور فرشتے نے نشے میں اپنی آپ بیتی سنا دی۔ کافی دیر خاموشی سے سننے کے بعد فقیر نے کہا۔ ایک شعر سناؤں؟

فرشتے نے کہا سناؤ۔

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا۔

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا۔

فقیر نے تین چار بار پہلا مصرعہ دہرایا اور شعر مکمل کرنے سے پہلے ہی اسے نیند نے آلیا۔

مگر اس میں ملتی ہے زلّت زیادہ۔

فرشتے نے خود سے اگلا مصرعہ مکمل کیا اور فقیر کی منہ سے سگریٹ کی بیٹ نکال کے ایک اور سوٹا لگایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •