چائنہ ڈول: ریپ کو روکنے کے لئے وقت کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کڑوا ترین سچ یہ ہے کہ زنا بِالجبر کرنے والے بھی ایک زمانے میں ہماری طرح معصوم اور پاک و صاف ہوا کرتے تھے، یہ اس زمانے کی بات ہے جب وہ تازہ تازہ اپنی ماں کے پیٹ سے نکل کر مہذب دنیا میں آئے تھے۔ تب ان کے ماتھے پر زانی نہیں لکھا تھا، اس لیے انہیں یہ بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہم مہذب معاشرے میں مستقبل کے زانی بن جائیں گے۔

زنا بالجبر کرنے والے وہ درندے ہیں جن کے ذہن میں سیکس کا لاوا ابل رہا ہوتا ہے اور یہ لاوا ان کے ذہن سے انسانیت کو مکمل طور پر جلا کر راکھ کر دیتا ہے جس کے باعث زانی کو یہ ہوش بھی نہین رہتا کہ سامنے والے کی عمر کیا ہے! اور پھر یہ زانی معصوم بچے اور بچیوں کو بھی نہیں بخشتا، ایسے درندوں کے لیے سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے۔ ان زناکاروں کی وجہ سے ایسا وقت آچکا ہے کہ مہذب آدمی کو معصوم نابالغ بچے اور بچیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے یا انہیں پیار کرتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا ہوتا ہے کہ بچوں کے والدین ہمیں بھی غلط آدمی نا سمجھ بیٹھیں۔

جیسا کہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ چین ہمارا بہترین دوست ہے کیونکہ وہ ہر برے وقت میں ہمارا ساتھ دیتا ہے۔ چین ایک ایسا ملک ہے جس نے تمام مسائل سائینس اور ٹیکنولوجی کے ذریعے حل کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے اور اس مشن میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کر چکا ہے۔ سائینس اور ٹیکنولوجی کے میدان میں مختلف ایجادات میں شامل ایک ایجاد سیکس ڈول بھی ہے۔ پیوجینگ اے ایف کرسٹل کرافٹ نامی کمپنی کے مطابق یہ ایک ایسی ٹیکنولوجی ہے جو جنسی بھوک کو ختم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے اور اس کو ایسے لوگ بھی استعمال کر سکتے ہیں جنہیں معاشرے کا کوئی بھی شخص منہ لگانا پسند نہیں کرتے۔

لہذا چین کو مثالی دوستی نبھاتے ہوئے چاہیے کہ وہ اپنے دوست ملک پاکستان میں سلیکون سیکس ڈول مناسب قیمت پر متعارف کرائے۔ تاکہ مہذب معاشرے میں مستقبل کے زانی کو متبادل راستہ مل سکے کیونکہ اب مہذب عوام ان ہوس کے ماروں سے شدید تنگ آچکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •