حکومت کے خلاف مفاد پرست سیاستدانوں کا تماشا اور مولانا طارق جمیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالم اسلام کے عظیم مبلغ مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ”سیاسی افطار ڈنر کے اکٹھ“ سے ایک دن قبل ہی ہوا نکال دی تھی، جب ایک بڑے ٹی وی چینل پر مولانا کا انٹرویو چلا اور دوسرے دن قومی اخبارات کی زینت بنا، اس انٹرویو میں مولانا طارق جمیل نے برملا کہا کہ ”انہیں اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ملک کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لئے عمران خان کو ہی ذریعہ بنائے گا“، یہ انٹرویو سلیم صافی نے کیا تھا، صافی صاحب کی صاف کوشش تھی کہ وہ مولانا کی زبان سے عمران خان کے خلاف کوئی بات نکلوا سکیں، جس کے لئے انہوں نے کئی جتن کیے، مگر اس میں انہیں سخت ناکامی ہوئی۔

اگلے دن جب تحریک انصاف کی جمہوری حکومت کے خلاف مفاد پرست سیاستدانوں کا یہ ”تماشا“ برپا ہو اتو اس کی رہی سہی کسر قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی پریس کانفرنس نے نکال دی، جس میں انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر اس امر کا اعادہ کیا کہ شفاف احتسابی عمل جاری و ساری رہیگا، اگر کرپشن نہیں کی تو کئی سیاستدان ملک سے مفرور کیوں ہیں، فالودے اور ریڑھی والے کے اکاونٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی تو کیا خاموش رہیں، ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو ملکی مفاد میں ہوگا، ہمیں کسی دھمکی، خوف اور اثرورسوخ سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ نیب اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، اس طرح انہوں نے نیب کو جمہوریت کا دشمن قرار دیا ہے، جبکہ سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا بھی کہنا ہے کہ اپنے دور میں نیب قوانین کا خاتمہ نہ کرنا ہماری ایک بڑی غلطی تھی۔ دونوں لیڈروں کے یہ بیانات ”چور کی داڑھی میں تنکا“ کے مترادف ہیں، کیونکہ حالیہ چیئرمین نیب کی تقرری ان دونوں رہنماؤ ں کی باہمی رضا مندی سے ہوئی تھی، اس میں عمران خان کی رضا مندی شامل نہ تھی، یوں یہ اب اپنے ہاتھوں اپنا مذاق اڑانے کا باعث بن رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی کا افطار ڈنر عمران خان حکومت کی بجائے نیب کے خلاف کرپٹ مافیا کا نیا حربہ ہے، جس کی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ جب تک سیاسی میدان میں عمران خان نہیں تھا تب تک پیپلزپارٹی کے لئے ن لیگ چور تھی اور ن لیگ کے لئے پیپلزپارٹی ڈاکوو ں کا ٹولہ تھی، پھر کپتان آیا تو اس نے دونوں کو چور اور ڈاکو ثابت کردیا، تو اب دونوں ایک دوسرے کے لئے پاک صاف اور پوتر ہوچکے ہیں۔ کسی جذباتی اور ہوشربا فلم کی مانند پیپلزپارٹی کے افطار ڈنر کا کلائمکس سین یہ تھا کہ بھٹو کے نواسے بھٹو کے قاتلوں کی میزبانی فرما رہے تھے، جن کی وجہ سے بلاول کے نانا اور پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر پہنچے، بھٹو نے جن کے خلاف غداری کے مقدمے بنائے آج وہی ”نئے عہد کے بھٹو“ کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے۔

بہر حال پیپلزپارٹی کے افطار ڈنر میں طے پایا ہے کہ تحریک انصاف کی جمہوری حکومت کے خلاف عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی، جس میں آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ سنجیدہ اور باشعور سیاسی حلقے اس افطار ڈنر کو بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کا فوٹو سیشن قرار دے رہے ہیں، جس وقت آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن، شاہد خاقان عباسی، نیر بخاری، آفتاب شیرپاو¿، حاصل بزنجو سوکنوں کی مانند عمران خان حکومت کے خلاف لگائی بجھائی میں مصروف تھے، عین اس وقت وزیراعظم دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود میں مصروف تھے، ان کے اعزاز میں بھی اسلام آباد میں ایک افطار پارٹی کا اہتمام تھا جس میں شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈریزنگ کی جارہی تھی، اس موقع پر انہوں نے پیپلزپارٹی کے افطار ڈنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہورہاہے، مگر عوام کبھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے، میں ثابت کرکے دکھاؤ نگا کہ خطے میں ترقی اور خوشحالی میں پاکستان ہی سب سے اوپر جائے گا۔

ٹاک آف دی کنٹری بننے والے مولانا طارق جمیل کے عمران خان کے حوالے سے انٹرویو کی بازگشت اب بھی جاری ہے، ان کا کہنا ہے کہ میں عمران خان سے مایوس نہیں، عمران کی نیت میں خلوص اور محنت ہے، عمران خان پہلا شخص ہے جس نے مدینے کی ریاست کا نام لیا ہے، میں اس کی سیاسی پشت پناہی نہیں کررہا، میرے دل میں اس کے لئے اچھا گمان ہے، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی نے کبھی نہیں کہا کہ وہ پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانا چاہتے ہیں، میں نہ سیاسی ہوں نہ میرا سیاست میں آنے کا ارادہ ہے، بعض لوگ خوامخواہ میرے تبلیغی بیانات کو بھی سیاست کا رنگ دے دیتے ہیں، جو مناسب نہیں۔

مولانا طار ق جمیل حق اور سچ کے پیامبر ہیں، ان کا شمار عالم اسلام کے بڑے اور اہم مبلغین میں ہوتا ہے، پاکستان میں ان کے چاہنے والے کروڑوں کی تعداد میں ہیں، جن میں تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ ان جماعتوں کے قائدین بھی شامل ہیں، ان کا عمران خان کو خراج تحسین اصل میں نئے پاکستان کی نوید ہے، جس کی کرنیں آہستہ آہستہ اندھیرنگری میں چاندنی بکھیر رہی ہیں، ان اجلی اور بھلی کرنوں کی ایک جھلک ملاخطہ کیجیے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب تحریک انصاف کی صرف خیبر پختونخوا میں حکومت تھی، ایک روز عمران خان پشاور کے ایک ہسپتال کے دورہ پر تھے، جب وہ ہسپتال جارہے تھے تو انہوں نے ہسپتال کے گیٹ سے ملحقہ بس سٹاپ پر دو بزرگ میاں بیوی دیکھے، جو گھر واپسی کے لئے کسی کنوینس کے انتظار میں تھے، گھنٹہ بعد عمران خان ہسپتال سے نکلے تو بوڑھے میاں بیوی وہیں کھڑے تھے، عمران خان نے گاڑی رکوائی اور ان سے پوچھا! باباجی یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ کیا مسئلہ ہے؟

بزرگ بولے! بیٹا ہم غریب لوگ ہیں، اتنے پیسے نہیں کہ رکشہ ٹیکسی پر گھر چلے جائیں اس لئے بس کا انتظار کررہے ہیں، دو تین بسیں آئیں مگر رش کی وجہ سے جگہ نہ ملی، عمران خان نے انہیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور انہیں ان کے گھر ڈراپ کیا، بزرگ نے شکریہ اداکرتے ہوئے کہا، بیٹا کھانا تیار ہوگا۔ کھا کر جاؤ، عمران کو کسی اور جگہ جانا تھا جس میں دیر ہورہی تھی اس لئے انہوں نے انکار کردیا اور کہا باباجی اگر زندگی رہی تو پھر کبھی آپ کے یہاں کھانا کھالونگا، لیکن باباجی اپنی ضد پر اڑے رہے، اس وقت عمران خان کے ساتھ پرویز خٹک، اسد عمر اور جہانگیر ترین بھی تھے، چاروں کو کھانے کی تمنا نہ تھی، مگر عمران خان بابا کی دلجوئی کے لئے کھانا کھانے کو راضی ہوگئے، گھر میں داخل ہوئے، باباجی کی نوعمر بیٹی اپنے بابا کے ساتھ کپتان کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی، جلدی سے زمین پر دسترخوان بچھایا، جس پر عمران خان باباجی کے ساتھ بیٹھ گئے، نوالہ چباتے ہوئے عمران نے بزرگ سے پوچھا، کیا آپ کا کوئی بیٹا نہیں جو آپ دونوں کو ہسپتال لے جاتا، باباجی نے کہا 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں، بڑا بیٹا مزدوری کرتا ہے اور شام کو واپس آتا ہے، چھوٹا بیٹا پڑھتا ہے، ایک بیٹی کی شادی ہوچکی ہے اور دوسری گھر کے کام کاج میں بوڑھی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے، خان صاحب نے کھانا کھایا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے واپس چل دیے۔

تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عمر سرفراز چیمہ نے کپتان کی زندگی پر اچھوتا واقعہ بیان کرتے ہوئے ”خبریں“ کے کالم نگار کو بتایا کہ خان صاحب کے باباجی کے گھر سے جانے کے بعد یہ کہانی ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس کا خوبصورت انجام یہ ہوا کہ اس بزرگ کا جو بیٹا مزدوری کرتا تھا وہ اب جہانگیر ترین کے ڈیرے پر مہمانوں کی مہمان نوازی کرتا ہے جس کے عوض اسے معقول ماہانہ تنخواہ ملتی ہے، اس کا جو بیٹا پڑھتا تھا اب وہ نمل یونیورسٹی میں فری اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا ہے، جہانگیر ترین نے اس غریب گھرانہ کو لودھراں میں 15 مرلہ کا گھر بھی دے رکھا ہے جہاں بوڑھے میاں بیوی اور ان کی بیٹی مرغیاں پالتے ہیں، جن کے انڈے ان کی اضافی آمدن کا باعث بن رہے ہیں۔ یوں ایک درد دل رکھنے والے لیڈر کی ایک نظر سے اس دکھی گھرانہ کے دن پل بھر میں پھر گئے۔ یہی تو کپتان عمران خان کے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے جتن ہیں، جس کی گواہی مولانا طارق جمیل نے بھی دی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ریاض صحافی کی دیگر تحریریں
ریاض صحافی کی دیگر تحریریں