پی ٹی ایم بمقابلہ ریاستی ادارے اور حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 کسی واقعے یا حادثے کے ردعمل کے حوالے سے شدت پسندانہ اور یک طرفہ نقطہ نظر شاید ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ ہم نتیجہ پہلے اخذ کرتے ہیں واقعے کے بارے میں معلومات بعد میں حاصل کرتے ہیں۔ خوب و زشت، جائز و ناجائز اور وفاداری و غداری کے بھی ہمارے اپنے پیمانے ہیں جو معروضی حالات کے تحت نہیں بلکہ ہماری اپنی پسند و ناپسند اور افتادِ طبع سے جنم لیتے ہیں۔

میران شاہ چیک پوسٹ واقعے کے بیان کے پس منظر میں بھی میڈیا سمیت اعتدال اور توازن کا دامن عمومی طور پر چھوڑ دیا گیا۔ بجا کہ پی ٹی ایم کے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرنے والے احتجاجی مظاہرین پر فوج کی طرف سے سیدھی گولی چلانا بہت بڑا ظلم اور بربریت ہے۔ آٹھ لوگوں کی ہلاکت اور چالیس سے زائد افراد کا زخمی ہونا بھی از حد تکلیف  دہ واقعہ ہے مگر اس واقعہ کو 1971 میں پاک فوج کی طرف سے بنگالیوں پر ڈھائے جانے مظالم کے تناظر میں دیکھنا یا ان خون آشام واقعات سے اس کا تقابل کرنا نہ صرف حقائق سے انحراف ہے بلکہ تاریخ اور تاریخی شعور سے بھی ناواقفیت کا غماز ہے۔

یہ درست ہے کہ پی ٹی ایم تحریک وزیر ستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے واقعات کی کوکھ سے ابھری ہے اور منظور پشتین اور ان کے رفقا کے بیشتر مطالبات بھی بالکل فطری اور جائز ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ٹی ایم والے بھی بعض اوقات احتجاج کرتے ہوئے اعتدال کی راہوں سے بھٹک کر ریاستی اداروں کے خلاف گالی اور گولی کا استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ پی ٹی ایم کو بھی چاہیے کہ تحریک کو نتیجہ خیز اور کامیاب بنانے کے لیے اسے پر امن اور خالص سیاسی و جمہوری رویوں کے تابع رکھے۔

خاص طور پر غیر ملکی ایجنسیوں اور ملکوں سے پیسہ لے کر اپنے ملک میں بد امنی پھیلانے کے الزام کے حوالے سے انہیں خود کو کلیئر کرنا چاہیے۔ اس تحریک پر اس طرح کے تبصرے بھی مبالغہ آرائی اور دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہیں کہ خدا نخواستہ اس کے اندر سے بیرونی دشمن قوتوں کے گٹھ جوڑ سے کسی نئے الگ سیٹ اپ کے قائم ہونے کا جواز نکل سکتا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری فوج نے بھاری جانی و مالی نقصان اور گراں بہا قربانیوں کے بعد شمالی وزیرستان میں امن و امان کی فضا قائم کی ہے۔ ہم کسی قیمت پر اس فضا کو مکدر کرنے اور اس پر شب خون مارنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ لیکن ریاستی اداروں کی حب الوطنی اور گراں بہا قربانیوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ پہلے کی طرح آج بھی اپنی ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر لوگوں کو غداری اور ملک دشمنی کے سرٹیفکیٹ بانٹتے پھریں۔

شمالی وزیر ستان کے غیور اور نڈر باسی جنگ کے دوران میں کئی قیامتوں سے گزرے ہیں۔ ہجرت کے تلخ تجربے کا قلق وہی جانتا ہے جو اس صورت حال سے کبھی گزرا ہو۔ اتنی قربانیاں دینے کے بعد بھی اگر ہمارے ریاستی ادارے ان لوگوں کو ملک دشمن، دہشت گرد اور دوسرے ملکوں کی اینجسیوں کے ہاتھ میں کھیلنے والے سمجھتے ہیں اور ان پر بغیر کوئی مقدمہ چلائے لاپتہ کر دیتے ہیں تو اسے حکمت و دانائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہمارے ریاستی اداروں کی پالیسیوں نے ملک دولخت کردیا تھا۔ انہوں نے فاطمہ جناح سمیت بے شمار محب وطن سیاستدانوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے۔ غیروں کی جنگ کے لیے دنیا بھر سے جہادی اکٹھے کیے۔ پھر انہیں دہشت گرد بناکر امریکہ کو ڈالرز کے عوض فروخت کیا۔ ابھی کل ہی کی بات ہے ناموس رسالت کے نام پر ایک منتخب سیاسی حکومت کے خلاف مذہبی جنونیوں کو میدان میں اتارا گیا۔ دھرنے دلائے اور جب سپریم کورٹ نے شر پسندوں سے سختی سے نمٹنے کا حکم دیا تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم اپنے لوگوں پر گولی نہیں چلا سکتے۔ دنیا نے دیکھا کہ ان فتنہ پروروں کو انعام و اکرام دے کر باعزت رخصت کیا گیا۔ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں اور پولیس فورس کو سرِ عام زد و کوب کرنے والوں سے نرمی برتی گئی۔ ریاستی ادارے میران شاہ میں بھی یہی طرزِ عمل اختیار کر کے ”اپنے بچوں“ سے نرمی برت سکتے تھے۔ ہم دست بستہ عرض کریں گے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور سیاست دانوں اور سیاست کے مسائل پارلیمنٹ میں حل کرنے کے امکانات پیدا کریں۔

اس سارے کھیل میں میڈیا کا کردار بہت مایوس کن ہے۔ وہ سرکاری نقطہ نظر ہی کا پرچار کر رہا ہے۔ پی ٹی ایم کا نقطہ نظر بالکل سامنے نہیں آرہا۔ ریاستی اداروں کو یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یہ 1971 کا دور نہیں جب ان کے مظالم کی کہانیاں دہائیوں بعد منظر عام پر آتی تھیں۔ یہ سوشل میڈیا کے عروج کا دور ہے جہاں خبر پلک جھپکنے میں پوری دنیا کا چکر لگا لیتی ہے۔ اس واقعے میں سول سوسائٹی اور، سیاسی جماعتوں اور تعلیم یافتہ طبقوں کا ردعمل انتہائی مثبت، صائب اور دانشمندانہ ہے۔ اب بھی اگر ریاستی ادارے نوشتہ دیوار پڑھنے میں تجاہلِ عارفانہ کا مظاہرہ کریں گے تو ملک مزید انتشار اور خلفشار کی طرف بڑھے گا۔ معیشت کی دگرگوں صورت حال کی وجہ سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے۔ وہ نا اہل کٹھ پتلی حکومت کو ملک پر مسلط کرنے والے عناصر سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •