الباکستانی مطمئن رہیں


امریکا ایران تنازعے پر الباکستانی مزید فکر مند نا ہوں۔ ہمارے الباکستانی دوست مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اتحادیوں کی کئی ہفتوں سے جاری پھرتیوں کو ایران کی آڑ میں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش ثابت کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جا رہے تھے، اب ان کے لئے تازہ خبر ہے کہ امریکی پارلیمان ممبران شیلا جیکسن وغیرہ نے اپنے صدر سے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید بڑھایا جائے۔ ویسے بھی امریکا الباکستان کے ساتھ پہلے ہی کافی نرمی سے پیش آتأ رہا ہے۔

کیونکہ ”یس سر“ ہم بڑے تمیز سے کہنا جانتے ہیں۔ جس کی تاریخی اثبات پر کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ دوسری طرف الباکستان کے تمام مخیر عرب دوست اس ممکنہ جنگ میں کن کو اڈے، تیل، لاجسٹک اور دیگر لوازمات کیسے، کیوں، کس کے خلاف اور کب تک فراہم کریں گے یہ اب بچے بھی سمجھتے ہیں۔ تو اس جانب بھی الباکستان بہت ہی محفوظ ہے۔ ممکنہ طور پر اچھے سے پیش آنے پر مزید آفرز بھی حصے میں آتا رہے گا۔ جس میں امریکی ڈالر اور ریال و دینار سمیت تیل کی اچھی قیمت پر ترسیل بھی شامل ہوسکتی ہے جیسا کہ لیٹ پیمنٹ پر تین ارب ڈالر کے تیل کی ترسیل شروع ہونے کی خبریں عام ہے۔ لہذا سینیاریو اب الباکستان کے موافق ہے اس لیے پرشین گلف میں امریکی اور عرب اتحادیوں کی سرگرمیوں سے الباکستانیوں کو مزید پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

الباکستانیوں کے بقول ایرانی اتحادی اور ہمارے روایتی حریف انڈیا کے ساتھ بھی الباکستان کے بہتر تعلقات کی خبریں بشکیک سے آرہی ہیں۔ ہمارے وزیر خارجہ وہاں سشما جی سے مٹھائیاں کھا کے واپس آ رہے ہیں۔ تو یہ مسئلہ بھی اب فکرمندی والا نہیں رہا۔ وزرائے خارجہ کی مٹھائیاں کھانے کے ساتھ یہ خبر کہ الیکشن کے بعد مثبت پیش رفت ہوگی یہ بھی اطمینان بخش اس لئے بھی ہے کہ ہندوستان کے الیکشن میں مودی جی گزشتہ الیکشن سے بھی کئی گنا زیادہ بھاری مارجن کے ساتھ لیڈ کرنے کی خبریں ہیں۔ لہذا روایتی حریف ممالک کے معاملات پھر مذاکرات کے ساتھ ہی آگے بڑھیں گے۔

بس ایک اپوزیشن والا اندرونی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا رولا رہ گیا۔ جس کے لئے مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی نئی تازہ دم موروثی مگر ایکسیڈنٹل قیادتیں ملکر علاج معالجہ شروع کریں گے تو ممکن ہے عرب مخیر دوست پہلے کی طرح جہاز وہاز کا بندوبست کرکے کیسز میں پھنسے ان کے بڑوں کے لئے راہ حل نکال ہی لے گا۔ اس طرح اندرونی گرما گرمی بھی گرمیوں کی سیزن کے باوجود شاید کم ہوتی جائے۔

بس الباکستانی فکرمند ہونے کی بجائے مشرق وسطیٰ کے منظرنامے کو دیکھتے جائیں۔ امریکا بہادر تو ایک دھمکی دے کر دوبار کہتے نظر آرہے ہیں کہ ہم ایسا نہیں چاہتے، جبکہ ادھر عرب بہادر یمن کے غریب حوثیوں کے دو راکٹوں پر پوری عرب دنیا کا اجلاس بلانے پر مجبور ہیں۔ کچھ بڑا ہو گیا تو ان کا کیا بنے گا یہ سوچنے سے تعلق رکھتا ہے۔ رہ گئی پاکستان میں آئے روز بڑھتی مہنگائی اور ڈالر کے ریٹ تو اس کے لئے شاعر نے عرض کیا ہے،

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

Facebook Comments HS