ٹریفک حادثات اور پیدل چلنے والوں کے رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں پیدل چلنے والے لوگ سڑک پر سب سے زیادہ اہم تصور کیے جاتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ٹریفک حادثات میں سالانہ تقریباً 22 فیصد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ شدید زخمی اور عُمر بھر کے لیے معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ٹریفک حادثات میں پیدل چلنے والوں کا رویہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ پیدل چلنے والوں کی سیفٹی میں انسانی رویہ جات، مواقعاتی عوامل اور باقی عمومی عوامل ایک دوسرے کے ساتھ مُنسلک ہیں۔

اگر پیدل چلنے والوں میں حادثات کی وجہ دیکھی جائے تو معلوم ہوگا کے پیدل چلنے والوں میں منشیات کا بڑھتا استعمال، موبائل فون کا استعمال، سڑک پار کرنے کا غلط انداز اور طریقہ کار، سڑک پار کرتے وقت لاپرواہی، ڈرائیور حضرات کی طرف سے سڑک پر تیز رفتاری، پیدل چلنے والوں کے لیے سہولیات کا فُقدان اور اس کے علاوہ پیدل چلنے والوں اور ڈرائیورز حضرات میں ناقص تعاون ایک بڑی وجہ تصور کیے جاتے ہیں۔

پاکستان بھی ایک کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی لسٹ میں شمار ہوتا ہے جہاں اسے بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل میں ایک مسئلہ ٹریفک حادثات کا بڑھتا رُجحان۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کی آمدورفت کی وجہ سے سڑکوں کا ڈھانچہ اِسی کے مطابق بنایا گیا لیکن یہاں پر پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی خاص سہولیات میسر نہیں کی گئی اور ان کی ضروریات کو نظرانداز کیا گیا۔ پاکستان کے میٹروپولیٹن شہروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں کیونکہ یہاں پر % 84 سڑکیں ایسی ہیں جہاں پر فٹ پاتھ اور زیبرا کراسنگ سرے سے موجود ہی نہیں۔

سہولیات کے نہ ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے والے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر سڑک پار کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر تو دیکھا بھی گیا ہے کہ ڈرائیور حضرات کی طرف سے پیدل چلنے والے افراد کے حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، جہاں سڑک پر زیادہ رش ہو ڈرائیورز حضرات شارٹ کٹس کے چکر میں فٹ پاتھ کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے بھی حادثات رونما ہوتے ہیں۔ اگر موٹرسائیکل سوار بھی فٹ پاتھ کا استعمال کریں گے تو پیدل چلنے والے کدھر جائیں گے؟ اس کے علاوہ پیدل چلنے والوں میں حادثات عورتوں کی نسبت مردوں میں زیادہ ہوتے ہیں جو روزی روٹی کی تلاش میں نکلتے ہیں اور جان کی بازی ہار بیٹھتے ہیں جس سے ان سے منسلک بہت سے لوگوں کی زندگی کا نظام متاثر ہوتا ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کی طرف سے روڈ سیفٹی پر کی جانے والی حالیہ تحقیق پر میٹروپولیٹن شہروں میں پیدل چلنے والوں کے طرزِ عمل اور رویہ جات کے حوالے سے کچھ حقائق سامنے آئے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ فٹ پاتھ کے موجود نہ ہونے پر وہ کون سا راستہ اختیار کریں گے جواب میں اندازہ ہوا ٪ 48 ایسے افراد ہیں جو فٹ پاتھ کے نہ ہونے یاں اگر موجود ہوں بھی تو وہاں پر مُوجود سٹالز، بیچنے اور فروخت کرنے والوں کے رش اور اُنکے قبضہ کی وجہ سے سڑک پر پیدل چلنے والے مجبور ہیں ، پیدل چلنے والوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ فٹ پاتھ کے نا ہونے پر سڑک کے دائیں جانب چلیں یا بائیں، یہ وجہ افراد کے حادثات کی وجہ بنتی ہے۔

اس کے ساتھ ٪ 39 فیصد افراد ایسے ہیں جو کے سڑک پار کرنے سے پہلے دائیں بائیں جانب نہیں دیکھتے اور اِس بات سے آگاہ نہیں کہ کب اور کیسے سڑک پار کرنی چاہیے۔ جبکہ ٪ 21 افراد ایسے ہیں جو وہ راستہ اختیار کرتے ہیں جو انہیں صحیح یا سب سے آسان لگتا ہے پس وہ جس راستہ کا انتخاب کرتے ہیں وہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ چونکہ ایک وجہ سٹرک پر سہولیات کا نہ ہونا، دوسری وجہ لاپروائی اور شارٹ کٹس میں وقت کی بچت پیدل چلنے والوں کو اُکساتی ہے کے وہ جان کو خطرہ میں ڈال کر سڑکوں پر موجود بالائی گزر گاہوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مصروف شاہراہوں پر اندھا دھند دوڑ کر سڑک پار کرنے کو زیادہ بہتر اور آسان سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے میٹرو پولیٹن شہروں میں مُوجود پیدل چلنے والوں کے لیے موجود بالائی گزر گاہوں کی حالت ناقص ہے جو بارش کے پانی سے بھری رہتی  ہیں یا ان کا استعمال بھی موٹرسائیکل سوار ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ پیدل چلنے والے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ حساس زمرہ میں آتے ہیں۔ ان کا رویہ اور بنیادی ساخت (انفراسٹرکچر) کا ڈھانچہ ایک دوسرے سے منسلک ہے۔ پاکستان میں زیادہ حادثات کی ایک وجہ کم علمی اور ناقص معلومات ہے، دن بدن بڑھتی گاڑیوں کی وجہ سے پیدل چلنے والے اب غیر محفوظ ہیں۔

ایسے تین عوامل ہیں جو پیدل چلنے والوں کو مُتاثر کرتے ہیں جیسے کہ پیدل چلنے والوں کے حقوق کی خلاف ورزی، غیر معیاری ڈھانچہ، خطرناک اور لاپرواہ رویہ۔ دیکھا جا سکتا ہے پاکستان میں ٹریفک کی خلاف ورزی عام ہوتی جا رہی ہے جو کے ایک ایسا برا فعل ہے جسے برا نہیں سمجھا جاتا۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد ہونا چاہیے خواہ وہ پیدل چلنے والے ہی کیوں نا ہوں۔ ہم ہر بار ہر کام میں حکومت کو الزام نہیں دے سکتے بہت سی جگہوں پر قصور عوام کا بھی ہوتا ہے۔

حکومت و انتظامیہ کی ذمہ داری تو ٹھہرتی ہے کے وہ پیدل چلنے والوں کے تحفظ و حقوق کو یقینی بنائے، مصروف شاہراہوں پر جہاں تک ممکن ہو بالائی گزر گاہیں اور زیبرا کراسنگ بنائے، اس کے علاوہ سڑکوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے قوانین اور سائن بورڈز بھی ہونے چاہئیں جن سے سڑک پار کرنے والوں کو پتہ چلے اور معلومات میں اضافہ ہو۔ پاکستان میں روڈ سیفٹی کے بارے میں کم علمی ہی زیادہ حادثات کا باعث ہے، ہمیں سب اور حکومت کو اس کا فروغ عام کرنا ہوگا کیونکہ روڈ سیفٹی میں صرف حکومت کی ہی نہیں ہماری بھی بہت سی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس مسئلے کو پیچیدہ سمجھیں اور آپس میں ایک دوسرے کو قوانین اور اصول و ضوابط سکھائیں۔ اس کے علاوہ پیدل چلنے والے افراد کی بھی ذمہ داری ٹھہرتی ہے کے وہ ان بالائی گزر گاہوں کا استعمال یقینی بنائیں اور سڑک پار کرتے وقت دھیان رکھیں۔ ہماری چھوٹی سی احتیاط قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعدیہ اسلم کی دیگر تحریریں
سعدیہ اسلم کی دیگر تحریریں