احترامِ رمضان


رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں جہاں لوگ ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات رکھتے ہیں وہیں مذہبی رجعت پسندی بھی اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر تحفظِ رمضان آرڈیننس کے ہوالے سے بات چیت ہو رہی ہے جس میں مختلف آرا دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بہت سے لوگ اس کو ایک نیک عمل جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسلامی ملک میں ایسے قوانین کا اطلاق لازمی ہونا چاہیے جبکہ باقی مانندہ لوگ اسے انفرادی آزادی کے بالکل خلاف سمجھتے ہیں۔

ایک صاحب نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ موٹروے پر سفر کر رہے تھے تو انھیں اپنے بچے کے کھانے کے لیے کچھ خریدنا تھا لیکن اس آرڈیننس کی وجہ سے تمام سٹورز اور کھانے کی دکانیں بند تھیں۔ اس طرح کے بہت سے واقعات سُننے کو ملے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بہت سے تعلیمی اداروں میں جہاں کم عُمر بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں اور جن پر روزہ فرض بھی نہیں ہے وہاں بھی کینٹینز وغیرہ بند ہوتی ہیں۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ قانون بنا ہی ایسا ہے یا اس کا اطلاق غلط ہو رہا ہے؟ جب میں نے تحفظِ رمضان آرڈیننس 1981 پڑھا تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس کا اطلاق بالکل غلط ہو رہا ہے۔

اس قانون کے مطابق وہ تمام لوگ جن پر روزہ فرض ہے وہ عوامی جگہوں پر کچھ کھا پی نہیں سکتے اور وہ تمام کھانے کی دکانیں یا دیگر جگہیں جہاں سے کچھ کھانے کو مل سکتا ہے ان تمام لوگوں کو جن پر روزہ فرض ہے ان کھانے کی اشیا فروخت کرنا ممنوع ہے۔ اس قانون سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے جن پر روزہ فرض نہیں اور وہ لوگ جو غیر مُسلم ہیں وہ عوامی جگہوں پر کھا پی بھی سکتے ہیں اور ہوٹل مالکان بھی انھیں کھانے کی اشیا فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں تو اس قانون کا اطلاق بالکل غلط ہو رہا ہے۔ عوامی مقامات پر کسی قسم کا کھانا پینا ممنوع ہے۔ ہوٹلز بند ہیں حتی کہ ریلوے اسٹیشنز اور اڈوں پر بھی کھانے کی اشیا ناپید ہیں جس کا اسلام میں واضح حکم ہے کہ سفر کے دوران روزے کی کوئی پابندی نہیں۔

اس قانون کے غلط اطلاق کی وجہ سے نہ تو کوئی غیر مسلم کچھ کھا پی سکتا ہے اور نہ وہ مُسلمان جو کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے۔ ایک اور بات جو بالخصوص قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ خواتین بھی ایامِ ماہواری میں روزہ سے مستثنا ہوتی ہیں ان کو بھی کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس مسئلے کو تو عمومی طور پر بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں جہاں حکومت کی نا اہلی ہے وہاں مذہبی انتہا پسندی کا بھی بڑا اثر ہے۔

تمام مذہبی رسومات خالصتاً انسان اور اللہ کا معاملہ ہیں اس کو ان کے درمیان ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی بالخصوص روزے کے لیے فرماتا ہے کہ روزہ بس میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ اور ویسے بھی رمضان کا مقصد اور روح ہی یہی ہے کہ ایک دوسرے کے لیے ایثار کا جذبہ پیدا ہو نہ کہ ایک دوسرے کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں۔ جبکہ یہاں تو گنگا بالکل الٹی بہہ رہی ہے۔ میرے خیال میں تمام مذہبی علما اور دیگر دانشوروں کو اس معاملے میں ایک متفقہ فیصلہ کر کہ لوگوں کو ان تمام معاملات سے آگاہ کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS