دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

میں نے صبح جاگ کر جب اپنے کمرے کا بلب روشن کیا تو گھڑی پر چار بج چکے تھے۔ ابھی باہر کافی اندھیرا تھا۔ پچھلے دس سالوں سے میرا اس وقت جاگنا معمول بن چکا تھا۔ صبح جاگنے کے بعد میں اپنے مویشیوں کو چارہ ڈالتا ہوں اور اس کے بعد نماز پڑھ کر باقی گھر والوں کو جگانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کام میں سب سے زیادہ مشکل تب پیش آتی ہے جب میں اپنے بڑے بیٹے کو جگانے کی کوشش کرتا ہو جو ابھی دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اس کو جگانے کے بعد میں حسب معمول اس کا یونیفارم استری کر کہ رکھتا ہوں اور پھر قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو جاتا ہوں۔

Read more

مذہبی رجعت پسندی اور کرونا وائرس

اس وقت کرونا وائرس کی دہشت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مر رہے ہیں اور اس سے کئی گناہ زیادہ لوگوں میں اس وبا کی تشخیص ہو رہی ہے۔ ہر کوئی اس پریشانی میں مبتلا ہے کہ اس سے کیسے بچا جائے۔ دن رات…

Read more

ہم دیکھیں گے

ہم جنوری 2020 میں قدم رکھ چُکے ہیں۔ سال گزرتے جا رہے ہیں اور ہم بھی گنتی جاری رکھے ہوے ہیں۔ ہمارے لیے یہ ماہ و سال کا گزر حالات کے بدلاؤ کے بجائے بس اوقات کار کا چلتا ہوا گھڑیال ہے جو رہتی دُنیا تک ایسے ہی چلے گا۔ میں اپنا ہوش سنبھالنے سے…

Read more

احترامِ رمضان

رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں جہاں لوگ ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات رکھتے ہیں وہیں مذہبی رجعت پسندی بھی اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر تحفظِ رمضان آرڈیننس کے ہوالے سے بات چیت ہو رہی ہے جس میں مختلف آرا دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بہت سے…

Read more

لائن آف کنٹرول پر بسنے والوں کے شب و روز

میرا تعلق سیکٹر نکیال کے گاؤں منڈھیتر سے ہے جو کہ خونی لکیر (ایل۔ او۔ سی) سے تقریباً دس کلومیٹر کی دوری پر موجود ہے۔ میرے گاؤں میں پچھلے سال بھارتی دراندازی کی وجہ سے کافی شیلنگ ہوئی تھی لیکن حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت ٹینشن میں میرا گاؤں اس شرپسندی سے محفوظ رہا۔ اس کہ برعکس نکیال سیکٹر ہی کے دوسرے دیہات جیسے موہڑہ، پیر کلنجر، جندروٹ وغیرہ میں لوگوں کو بہت مُشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ضلع کوٹلی سے ملحقہ جتنے بھی علاقے ایل او سی کے قریب ہیں اُن میں سب سے زیادہ نُقصان نکیال سیکٹر میں ہوا ہے جہاں چار لوگ پاک بھارت ٹینشن کا نشانہ بنے اور اپنی زندگیوں سے محروم ہو گئے۔

Read more

ہاسٹلز میں رہنے والے لوگ

بہت سی تحریریں روزانہ آنکھوں کو راحت بخشتی ہیں پر آج میں سوچ رہا ہوں معاشرے کے ایک ایسے طبقے کے بارے میں بھی تھوڑی بات ہونی چاہیے جو حصولِ علم کے لیے گھر سے دور ہاسٹل نُما جیلوں میں رہائش پزیر ہوتے ہیں۔ میں خود پچھلے چھ سالوں سے مختلف ہاسٹلز میں رہ رہا…

Read more