دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
میں نے صبح جاگ کر جب اپنے کمرے کا بلب روشن کیا تو گھڑی پر چار بج چکے تھے۔ ابھی باہر کافی اندھیرا تھا۔ پچھلے دس سالوں سے میرا اس وقت جاگنا معمول بن چکا تھا۔ صبح جاگنے کے بعد میں اپنے مویشیوں کو چارہ ڈالتا ہوں اور اس کے بعد نماز پڑھ کر باقی گھر والوں کو جگانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کام میں سب سے زیادہ مشکل تب پیش آتی ہے جب میں اپنے بڑے بیٹے کو جگانے کی کوشش کرتا ہو جو ابھی دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اس کو جگانے کے بعد میں حسب معمول اس کا یونیفارم استری کر کہ رکھتا ہوں اور پھر قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو جاتا ہوں۔
Read more
