میرے ماموں مظہر کلیم کی پہلی برسی پر اُن کی یاد میں


ان کے لئے نئے کردار ایجاد کرنا کچھ مشکل نہ تھا جیسا کہ انہوں نے عمران سیریز میں بھی متعارف کروائے اور بچوں کے لئے بھی۔ عمران سیریز لکھنے کی وجہ قارئین کی فرمائش تھی جو کہ عمران سیریز پڑھنا چاہتے تھے۔ ذاتی طور پر میری خواہش تھی کہ وہ اپنے بچوں والے کردار چلوسک ملوسک، آنگلو بانگلو، چھن چھنگلو اور فیصل شہزاد سیریز پر مزید کہانیاں لکھتے لیکن پیشہ ورانہ مجبوریوں کے باعث ان کے بقول ان کے پاس صرف تین گھنٹے لکھنے کے لئے ہوتے تھے جو ہر مہینہ عمران سیریز کا نیا ناول لانے کے لئے بھی ناکافی ہوتے تھے۔ اب مبشر زیدی نے جو سو لفظوں کی کہانی لکھنے کے لئے مشہور ہیں عندیہ دیا ہے کہ وہ عمران سیریز پر طبع آزمائی کریں گے اور یہ عمران سیریز کے شائقین کے لیے انتہائی خوشی کی بات ہو کہ عمران کا کردار جاری رہے اور ہمیں معیاری ناول پڑھنے کو ملتے رہیں۔

ماموں کے ناولوں پر ایک اور تنقید سائنس کے بے دریغ استعمال پر ہوتی تھی اور عمران ہر ناول کے لیے ایک نئی شعاع استعمال کر لیتا تھا۔ حالانکہ ڈاکٹر داور اور اس کی ایجادات ابن صفی سے شروع ہوئیں تھی۔ میری نظر میں اس کو تعریف کے زمرے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تخیل کی کوئی حد نہیں ہوتی اور سائنس فکشن میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔ سائنس فکشن اس لئے کچھ عرصے کہ بعد حقیقت میں تبدیل نہیں ہوتی کہ مصنف مستقبل کو دیکھ رہا ہوتا ہے بلکہ سائنس دان اس کی سائنس فکشن سے انسپائر ہوتے ہیں اور اپنی تحقیق و جستجو سے فکشن کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ستر اسی کی دہائی کے ناولوں میں عمران نے ایسی گھڑی پہنی ہوتی ہے جس میں کال آنے پر کلائی میں ضربیں لگتی ہیں تاکہ خاموش سے کال کا پتہ چل سکے۔ آج یہ فیچر سمارٹ واچ کے وائبریٹر کی صورت میں بے شمار کلائیوں پر موجود ہے۔ عمران اور اس کے ساتھی گھڑی کو کان سے لگا کر بات کرتے ہیں اور آج سیمسنگ گیئر گھڑی اور آئی واچ استعمال کرنے والے اس سے بخوبی واقف ہیں۔ آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس پر مغرب میں اس وقت بہت بحٹ ہو رہی ہے جبکہ عمران سیریز میں قارئین اس کمپیوٹر سے بخوبی واقف ہیں جو سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور یہی چیز اور اس کے خطرات آج زیر بحث ہیں۔ آج بھی ایسے ایسے کمپیوٹر کی بغاوت کی صورت میں اس کی پاور بند کر کے کنٹرول کی بات ہو رہی ہے اور ایک ناول میں عمران ایسے کمپیوٹر کی سمندر میں موجود سی بیٹری تباہ کر کے قابو کرتا ہے۔ اس سے آپ ان کے تخیل کی طاقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

میں نے ان کو ہمیشہ زندگی سے بھرپور دیکھا اور منفی بات ان سے کبھی نہ سنی۔ گل نوخیز اختر نے ان کو ایک درویش صفت انسان قرار ریا اور میں خود سمجھتا ہوں کہ وہ ایک درویش صفت انسان تھے۔ روپے پیسے کی انہوں نے کبھی ہوس نہیں کی اور نہ ہی کبھی دوسروں سے مقابلہ کیا۔ میرے دوست اکثر مجھے کہتے کہ ناول لکھ لکھ کر تو انہوں نے کروڑوں کما لیے ہوں گے۔ ہماری ممانی بھی اکثر کہتیں کہ تمہارے ماموں پبلشرز سے زیادہ ڈیمانڈ نہیں کرتے اور ساری کمائی ان کے پاس چلی جاتی ہے لیکن ماموں ہنس کر ٹال دیتے کہ اس کے بہت اخراجات ہیں، کاغذ بہت مہنگا ہو گیا ہے، اشاعت بہت مہنگی ہو گئی ہے لہذا اچھا نہیں لگتا کہ میں زیادہ کا تقاضا کروں اور میرے پاس خود یہ سب بھاگ دوڑ کرنے کا وقت نہیں ہے۔

آخر تک ان کے زیر استعمال ان کا تہتر ماڈل کا سکوٹر رہا، وہ اپنی روٹین میں مگن رہے اور کبھی دوسروں سے مقابلہ میں نہ پڑے۔ انہوں نے اپنے تینتیس سالہ جوان بیٹے کو قبر میں اتارا اور پھر جوان داماد کی اچانک وفات کا دکھ دیکھا لیکن انہوں نے غموں کے یہ پہاڑ ثابت قدمی سے برداشت کیے اور ان کے منہ سے کم از کم میں نے کبھی زندگی کی شکایت نہ سنی۔ وہ پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہوئے جس کے رعشہ کی باعث انہیں وکالت بھی چھوڑنی پڑی اور ناول لکھنا بھی۔

بعد میں تو ان کے لیے سر اٹھانا بھی ممکن نہ رہا لیکن ان کی آنکھوں کی چمک ہمیشہ قائم رہی اور انہوں نے اس بیماری اور تکلیف پر بھی کبھی شکایت نہ کی۔ بزرگ لوگ اکثر گفتگو اپنے مسائل اور تکالیف کی کرتے ہیں لیکن میں جب بھی ان سے ملا، وہ ان دونوں موضوعات پر کچھ نہ کہتے اور بس اللہ کا شکر ادا کرتے کہ گزارہ چل رہا ہے۔ ایک روز جب پارکنسنز کا ذکر آیا تو ہنس کر کہنے لگے، ’ناں تاں بڑا سوھنڑا تے ماڈرن ہے پیا‘ ۔ (نام تو بہت اچھا اور ماڈرن ہے)

ایلو پیتھک سے علاج کے علاوہ حکمت پر ان کا بہت یقین تھا اور یہ چیز اکثر عمران سیریز میں بھی نظر آتی جہاں عمران لوگوں کو خمیرہ گاؤ زبان و عنبری جواہر دار تجویز کر رہا ہوتا۔ ملتان کے مشہور معالج مرحوم ڈاکٹر فاضل کو وہ بہت پسند کرتے تھے اور اکثر ڈاکٹر صاحب کے علاج کے سلسلے میں دیے گئے مشوروں کا ذکر کرتے تھے۔ ان کی حس مزاح انتقال تک قائم تھی اور ان سے ملنے والا ہمیشہ خوش ہی اٹھتا تھا۔

علی عمران کو انہوں نے نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے بہت استعمال کیا۔ ان کے ناولوں میں اصلاح کا عنصر بہت غالب تھا اور عریانیت اور فحاشی کا انہوں نے کبھی سہارا نہ لیا۔ اردو میں ان کی ایم اے کی ڈگری تھی اور غالب کے اشعار کی تشریح میں ان کو کمال حاصل تھا۔ ایک دفعہ غالب کا شعر ’نہ تھا کچھ تو خدا تھا‘ موضوع بحث آ گیا اور انہوں نے اس پر اتنا زبردست نقشہ کھینچا اور مختلف طرح سے تشریح کی کہ میں جا کر بازار سے دیوان غالب خرید آیا کہ خود اس کا مطالعہ کروں اور اگلی محفل میں کوئی اور شعر چھیڑ دوں۔

جناب خالد مسعود صاحب نے اپنے ایک کالم میں ان کو ملتان کی شان قرار دیا۔ وہ ملتان اور اپنی سرائیکی شناخت سے سخت محبت کرتے اور انہوں نے ترقی کی خاطر کبھی ملتان سے لاہور شفٹ ہونے کے بارے میں نہ سوچا۔ ماموں پر میں لکھتا جاؤں تو پوری داستان لکھ سکتا ہوں کیونکہ ان کے ہر پہلو کا احاطہ کرنا، ایک کالم میں ممکن نہیں ہے۔ ان کی وفات ہمارے لیے ایک شدید صدمہ تھا کیونکہ ان جیسا پورے خاندان میں کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کے بچوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

اسی بارے میں: مظہر کلیم اپنے انٹرویو میں ابن صفی سے اپنا تقابل کرتے ہیں

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3