غریب محلہ حاصل پور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحصیل حاصل پور کا ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا کثیر آبادی اور کچے پکے مکانات پہ مشتمل ایک محلہ غریب محلے کے نام سے جانا جاتاہے۔ محلے کی کچی کوڑے کے ڈھیر لگی گلیوں میں غربت بھوک ننگ اور محرومیوں کے سائے جابجا رقصاں اور ہر تیسرے گھر کو پنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں اور محلے کی اس حالت کے ذمہ داران کا منہ چڑا رہے ہیں۔ جو محض الیکش کے دنوں میں ووٹ کی حد تک ان گلیوں میں تشریف لاتے ہیں۔ اس محلے میں بیسیوں ایسی کہانیاں ہیں جن کا تصور ہی روح کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔

متعدد خاندان نشے کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ کتنی حوا کی بیٹیاں ہیں جن کو مفلسی کے ساتھ ساتھ دو چار اور چھ بچوں کی سوغات دے کر نشے کے عادی مرد حضرات محرومیوں کی دلدل میں دھکیل کر نشے کی تاریک وادیوں میں کہیں کھو گئے ہیں۔ اب اس محلے میں سرکاری زمین پہ قبضہ مافیا کا راج ہے۔ مہنگی ہاؤسنگ کالونیوں کے رہائش پذیر چند مکروہ سوچ کے مالک افراد نے سرکاری اراضی کے پلاٹ بنا کر نہ صرف مہنگے گھر اور حویلیاں بنا رکھی ہیں بلکہ ان حویلیوں گھروں اور پلاٹس کو گائے بھینسوں والے دیہاتیوں کو کرائے پر دے رکھا ہے۔

محلے کے گھروں کے عین وسط میں گائے بھینسوں کے بھانوں کا غلاظت تعفن اور بیماریاں پھیلانے میں ایک بڑا حصہ ہے دربار محمد شاہ رنگیلا کے عقب میں بھی گائے بھینسوں کے ریوڑ مالکان نے ڈیرہ جما رکھا ہے۔ جونیجوسکیم کے تحت بیوہ عورتوں کے لیے تعمیر کی گئی بیوہ کالونی کے کوارٹرمسمار کر کے بڑے بڑ ے ناموں کے پتھر کے لگے کتبوں والے گھر بھی بنالیے ہیں۔ چند گلیاں اور بازار آج بھی جوں کے توں پڑے ہیں نہ بجلی نہ پانی نہ گیس نہ کوئی سولنگ سٹرک، غریب محلے سے ملحقہ چند ایک گلیاں ایسی بھی ہیں جہاں پہلے پختہ سولنگ تھے پھر سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے وہ سولنگ توڑ کر سڑکیں بنا دی گئیں، پھر مزید تعلق کی بنیاد پر ان سڑکوں کو توڑ کر ٹف ٹائل لگوالی گئی۔

مطلب باقی محلے کے حصے کا فنڈ بار بار انہیں مخصوص گلیوں میں ہی لگایا جاتا رہا۔ کچھ گلیوں میں آج تک کوئی ایک مٹی کی ٹرالی بھی نہیں پہنچ سکی جس سے گندے پانی کے تالاب ہی خشک ہو سکتے۔ محلے کے کچھ گھر ایسے بھی ہیں جن کے دروازوں میں سرکاری خرچ سے اسپیشل ٹف ٹائل لگوائی گئی ہے جس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ ان گھروں میں رہائش پذیر لوگ شاید کوئی أسمانی مخلوق ہیں یا کسی سابقہ حکمران جماعت کے عہدہ داران کے قریبی رشتہ دار۔

پورا محلہ چھوڑ کر محض چند ایک گھروں کے سامنے ٹف ٹائل لگنا بہرحال کسی طور مناسب نہیں۔ محلے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار دیواروں والے چند پرائمری سکول ہیں جن میں سکول ٹائمنگز میں پڑھنے والے بچے کم اور شام کے اوقات میں چھپ کرچرس افیون ہیروئن کا نشہ کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ محلے کی گلیوں میں لگے گندے پانی کے جوہڑعجیب منظر پیش کرتے ہیں۔ محلے کے بچے ان تعفن ذدہ پانی کے جوہڑوں کے کناروں پر بیٹھے گولیاں بنٹے اور گلی ڈنڈا کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔

محلے کی ایک نکڑ پہ جسم فروش عورتوں کے ڈیرے ہیں۔ جو آئے روز پولیس کے چھاپوں کا سبب بنتے ہیں۔ ان جسم فروش عورتوں کے ڈیروں پر آنے والے غلیظ لوگ اکثر شراب کے نشے میں دھت گلیوں میں گرے پڑے ملتے ہیں۔ محلے کے چندہ ہی گھرانے ایسے ہیں جن کے بچے شہر کے کسی اچھے سکول میں زیر تعلیم ہیں۔

ریت کے اونچے ٹیلے پر قائم حاصل پور کی مشہور معروف صوفی ہستی حضرت بابا رنگیلا شاہ کا دربار واقع ہے۔ اس دربار پر ہرجمعرات اور جمعہ کے دن عرس کا سماں ہوتا ہے۔ لوگ بڑی عقیدت سے اور شوق سے پالے ہوئے بکرے بیل اور بچھڑے دربار پہ لاتے اور زبح کر تے ہیں۔ دربار محمد شاہ رنگیلا کے عقب میں اگے سینکڑوں سال پرانے جنڈ کے درختوں کے نیچے دور دراز علاقوں سے منوتی لے کر آئے زائرین قیام کرتے اور ذکر اذکار کرتے نظرآتے ہیں۔ دربار محمد شاہ رنگیلاکے بارے مختلف غیر مصدقہ روایات ملتی ہیں۔ اس دربار کی خاص بات یہ ہے کہ اس دربار کے آس پاس ایک آدھ مجذوب ضرور گھومتا پھرتا دکھائی دیتا ہے اور مزے کی بات ایک مخصوص عرصہ کے بعد وہ مجذوب خود بخود کہیں چلا جاتاہے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا نمودار ہو جاتاہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ مجذو ب کبھی کسی سے بات نہیں کرتے اور نہ ہی کسی سے کچھ مانگ کر کھاتے ہیں۔ ننگے پاؤں، پھٹے کپڑوں والے ننگ دھڑنگ مجذوب اس دربار کا ایک معمہ ہیں۔ ان مجذوب لوگوں کا دربار پہ ایک تسلسل سے آنا اور پھر خود بخود تبدیل ہو جانا یہ سلسلہ چند سال پہلے ہی شروع ہوا ہے جو تاحال جاری ہے۔ غریب محلے کی اصل پہچان وہاں کے منشیات فروش ہیں۔ جگہ جگہ منشیات فروشوں کے ٹھکانے نظر آتے ہیں۔ محلے کے متعدد چھوٹے چھوٹے بچے ہیروئن کے عادی ہو کرزندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ ان منشیات فروشوں کو کچھ سیاسی رہنماؤں کی پشت پناہی حاصل ہے مگر میں اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا کیوں کہ کوئی لیڈر اس قدر گھٹیاغلیظ اور کمینہ کیسے ہو سکتاہے کہ وہ چند روپوں کی خاطر قوم کے مستقبل کو میٹھے زہر کا عادی کرنے والوں کی پشت پناہی کرے۔ بہرحال کہیں نہ کہیں کوئی راز پوشیدہ ضرور ہے جو ان منشیات فروشوں کا خاتمہ ہر دور کی حکومت اور افسران کے لیے ایک چیلنج بن جاتاہے۔

غریب محلے کی بڑھتی آبادی کے ساتھ جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک ہوتے اضافے کے پیش نظر اس محلے میں ایک تھانہ قائم کیا جانا اشد ضروری ہے۔ چند دن پہلے دربار محمدشاہ رنگیلا کی عقبی گلی میں ایک پولیس چوکی قائم کی گئی جو فعال ثابت نہ ہوئی تواسے ختم یا کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ دربار محمد شاہ رنگیلا سے ملحقہ ہاشمی چوک میں خواجہ سراؤں کے گرو بگو مائی کا ڈیرہ ہے جہاں ہر سال کسی خواجہ سراکا عرس منایا جاتا ہے اندرون اور بیرون ملک سے سینکڑوں کی تعداد میں خواجہ سرا اس عرس میں شمولیت کرتے اور اپنی گرو بگو مائی کے لیے عقیدت کے پھول نچھاورکرتے ہیں۔

دربار چوک کے بیسیوں مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ادھر ادھر کھڑے چنگ چی رکشے بھی ہیں۔ جس طرح دربار محمدشاہ رنگیلا سے محکمہ اوقاف لاکھوں روپے کمانے کے باوجود دور دراز سے أنے والے زائرین کے لیے پانی رہائش اور سائے کا مناسب بندوبست نہ کر سکا ہے بالکل اسی طرح ان رکشہ ڈرائیوروں سے پرچی وصولی کے باوجود کوئی مناسب رکشہ اسٹینڈ نہ بنایا جا سکا ہے ادھر ادھر کھڑے چنگ چی رکشے عام گزرنے والوں کے لیے ہمیشہ پریشانی کا سبب بنے رہتے ہیں اس بڑی آبادی والے غریب محلے میں ہائی سکول، پارک، سرکاری ہسپتال، گیس، بجلی، گندے پانی کی نکاسی کا انتظام نہ ہونا اور جابجا منشیات فروشی کے اڈے، جسم جسم فروشی کے ڈیرے، گائے بھینسوں کے بھانے جوئے کی بیٹھکیں ہونا جرائم میں اضافے کے ساتھ ساتھ محرومیوں بیماریوں اور غربت ناخواندگی کا کاباعث بن رہا ہے ارباب اختیار کا اس محلے کی طرف توجہ دینا انتہائی ناگزیر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •