مٹی کی عورت اور تخلیق کا جوالا


\"naseerپانچ سو سال قبل مسیح کے قدیم یونانیوں کا نظریہ تھا کہ ہر چیز چار عناصر مٹی، پانی، ہوا اور آگ سے بنی ہے۔ ارسطو نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک پانچواں عنصر بھی ہے جسے اس نے ایتھر کا نام دیا۔ اس کا خیال تھا کہ ستارے اس پانچویں عنصر سے بنے ہیں۔ سائنس، طب اور فلسفے میں یہ نظریہ دو ہزار سال تک مقبول رہا۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ چار عناصر انسان کے مزاج میں بھی اسی طرح اثر پذیر ہیں جس طرح اس پوری کائنات میں مادے کی صورت میں موجود ہیں ۔ یہ نظریے کا روحانی اور استعاراتی پہلو ہے جو نظریہ باطل ہونے کے باوجود فلسفے کی رو سے  درست معلوم ہوتا ہے۔ مذہبی عقائد اور اساطیر کے مطابق آدمی کو مٹی کے سن رسیدہ بدبودار گارے سے تخلیق کیا گیا اور اس میں زندگی کی روح پھونکی گئی۔ یوں خدا کے علاوہ بھی ایک عالمِ تنہائی وجود میں آ گیا۔ پھر تنہائی سے تنہائی کا جوڑ اور توڑ پیدا کیا گیا اور آدمی کے پہلو سے عورت نکالی گئی۔ اس لحاظ سے عورت کی ماہیت تو وہی ہے جو مرد کی ہے لیکن اس میں پانچویں عنصر یعنی ستارہ صفتی کا عجز بھی آ گیا اور مٹی کی وہ ساری تخلیقیت بھی جو انسانی روپ میں خدائی وصف ہے۔ اس طرح مرد کی زندگی میں بھی ایک ایسی تنہائی در آئی جس میں عورت کے بغیر دنیا کی کوئی بھی تنہائی مکمل نہیں ہوتی۔ وہیں سے مٹی کی عورت گوشت پوست کی عورت میں ڈھلی اور محبت، جدائی، وصال، جدال اور تخلیق کا استعارہ ہوئی، مٹی محض ایک \”علامتی پیراڈوکس\” رہ گئی۔

اس تناظر میں جب ہم ثمینہ تبسم کو پڑھتے ہیں تو یہ عورت نہ مٹی کی ہے نہ پانی کی، نہ محض آگ کا شعلہ ہے نہ ہوا کا جھونکا۔ یہ سب تو اس کے وجود کے تناسبات ہیں جو باہم آمیخت ہو کر اسے ستارہ یا شعلہ صفت بناتے ہیں۔ مٹی ہی میں سونے کے ذرےہوتے ہیں اور مٹی (ریت) ہی پگھل کر شیشہ بن جاتی ہے۔ دراصل یہ لفظوں سے گندھی ہوئی عورت ہے۔ سر تا پا لفظ ہی لفظ، جس کا ہر لفظ مٹی کی طرح تخلیقی مرکزیت کا حامل ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ثمینہ تبسم کی شاعری کی دوسری کتاب کا نام \”مٹی کی عورت\” ہے۔ پہلی کتاب میں نے نہیں پڑھی اس لیے میرے لیے ثمینہ کے شعری سفر کا ارتقائی جائزہ اور موازنہ ممکن نہیں۔ اس کتاب میں ثمینہ کی 113 نظمیں اور بہت سی آراء شامل ہیں۔ زیادہ تر نظموں میں ثمینہ کی شعری زبان اور اسلوب  نسائی ہے، جن میں الفاظ و تراکیب کی بنت کا سیدھا سادا بلیک اینڈ وائٹ طریقِ کار نمایاں ہے۔  ان میں شاعری کے تمام تو نہیں لیکن دو بنیادی عناصر یعنی خیال اور جذبے کی فراوانی ہے۔ البتہ ایک تیسرے اہم جزو یعنی وزن \"poet\"یا میٹر کے بارے میں ثمینہ زیادہ تردد نہیں کرتی اور تخلیقی رو میں بعض الفاظ کا تلفظ اور وزن اپنی مرضی سے کھینچ تان کر پورا کر لیتی ہے۔ جولیا کرسٹیوا نسائی زبان کو معنی سے معمور اور نشانیاتی قرار دیتی ہیں اور ورجینا وولف کہتی ہیں کہ اب تک جو ادب خواتین نے تصنیف کیا ہے اس پر مشروط کا جبر ہے یعنی یہ وہ نہیں جو وہ لکھنا چاہتی تھیں۔ لیکن ثمینہ کی شاعری پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ ثمینہ نے اس مشروط یا غیر رقم شدہ جبر سے خود کو آزاد کر لیا ہے اور وہی لکھتی ہے جو وہ لکھنا چاہتی ہے۔ تاہم  بھرپور تخلیقی اظہار کے لیے ثمینہ کو عروضی پابندیوں سے نکل کر نثری نظم کے وسیع تر امکانات کی طرف آنا ہو گا، جذبے کی شدت کے ساتھ نثری نظم کے علامتی و استعاراتی نظام کو اپنانا ہو گا اور اظہار کی تنگ دامنی اور تر دامنی سے چھٹکارا پانا ہو گا۔ اگرچہ یہ سب کچھ ناتمامیت کا محض شعری اپائے ہے مداوا نہیں۔ کیونکہ راقم کے خیال میں شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ اور جب جذبے اور کیفیتیں بس سے باہر ہو کر وجود کی حدیں پار کرنے لگتی ہیں تو نثری نظم سرزد ہوتی ہے۔ ممتاز ناول نگار محمود ظفر اقبال ہاشمی ثمینہ کے بارے میں رقم طراز ہیں:
\” مٹی کی عورت ثمینہ تبسم سخن وری کے افق پر ابھرنے والا ایک نیا چاند ہے۔ تذکیر و تانیث کی قیود سے آزاد ان کی شاعری کہیں تنہائی، شدت، احساسات، تیکھے پن، غیض و غضب میں ملفوف ہے ( راقم کے خیال میں ملفوف نہیں عیاں ہے۔ کیونکہ شدت اور غیض و غضب ملفوف نہیں رہ سکتے) تو کہیں کانوں میں کی گئی اپنے آپ سے سرگوشی یا خلوت میں اپنے محبوب سے کی گئی بےحد رومانوی گفتگو ہے جسے صفحہ ء قرطاس پر منتقل کرنے کے لیے اکثر سخنور اپنا دل کڑا نہیں کر پاتے۔ ثمینہ تبسم کی شاعری موت کے منتظر ایک اکیلے بوڑھے شخص کا آخری گیت بھی ہے۔ ساحل پر مردہ پڑے ہوئے ایک بچے کا نوحہ بھی، سیاست، سماج اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر مکروہ دھندہ کرنے والوں پر بھیجی گئی بھرپور لعنت بھی، وقت کی دھار پر رکھی ہوئی مجروح زندگی کی آخری کراہ بھی، اپنی تلاش میں سرگرداں کسی بےچین روح کی صدا بھی اور محبت کے مزار پر دھرے ہوئے دیئے کی پھڑپھڑاتی ہوئی لَو بھی!\” خود ثمینہ اپنے بارے میں کہتی ہے:
میں اس دنیا کی دھڑکن ہوں
میں اک مٹی کی عورت ہوں

ایک شاعر یا شاعرہ کے طور پر آپ عورت ہوتے ہیں نہ مرد بلکہ پانی، مٹی، آگ اور ہوا ہوتے ہیں اور ان سب عناصر سے مل کر محض ایک\"title\" لفظ ہوتے ہیں۔ ثمینہ کی شاعری اسی فلسفے کی مظہر ہے۔ بظاہر مرد سے نالاں لیکن دراصل اسی کی تلاش میں سرگرداں، روحِ اصل سے جڑنے کی متلاشی، ان مادی عناصر کی یکجائی اور وجودی فاصلوں کو مٹانے اور جنتِ حقیقی کو پانے کی تمنائی ۔ یہ تحریکِ نسواں یا حقوقِ نسواں کی شاعری نہیں بلکہ تلاشِ نسواں اور رجال الغیب یا دساسول کو کھوجنے کی شاعری ہے۔ مٹی کی اس عورت میں تخلیق کا جوالا بھرا ہوا ہے۔ جیسے آتش فشاں میں لاوا، جو اس کے اندر کھولتا اور نظموں کی صورت مسلسل نکلتا، بہتا،  پھیلتا اور جمتا رہتا ہے۔ ثمینہ کی نظمیں پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کے تخلیقی وجود میں پانی اور ہوا کی نسبت مٹی اور آگ زیادہ ہے۔  اگر وہ اپنی ہر دم آوا چڑھی ذات اور تخلیقی بھٹی میں مٹی، آگ، پانی، ہوا کے آمیزے میں ہوا اور پانی کا تناسب بڑھانے یا چاروں عناصر کو متناسب رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو موجودہ سے کہیں زیادہ بہتر شاعری کر سکتی ہے۔ شاعری میں اگر یہ تناسب قائم ہو جائے تو وہ سب لائم اور شعری افزائش یا باز آوری کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر آ جاتی ہے۔ ہم ثمینہ سے یہی امید  رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS