آج کے دن کا سب سے خوبصورت لمحہ۔۔۔۔۔


غصہ زیادہ آیا یا افسوس زیادہ ہوا؟ فیصلہ مشکل ہے مگر پچھلے کچھ عرصے کے بیچ ایسے لوگ بھی آئے جو دوسری تیسری بیٹی کی پیدائش \"ramish-fatima\"پہ باقاعدہ ماتمی شکل بنا کر بیٹھے تھے اور بچی لاوارثوں کی طرح ایک کمرے میں پڑی تھی،
یہ بھی دیکھا کہ کہ لوگ الٹراساؤنڈ میں دلچسپی اولاد کی صحت سے زیادہ اس لئے رکھتے ہیں کہ علم ہو سکے بیٹا ہے یا بیٹی۔۔۔ تاکہ بیٹی کا پتہ چلے تو اسقاطِ حمل کی خاطر کسی دائی کی خدمات حاصل کریں اور پھر انتہائی بری حالت میں ہسپتال پہنچیں۔۔۔۔

بیٹی بیمار ہو تو علاج کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔۔۔

وہ بھی تھے جو صرف اولاد پیدا کرنا جانتے ہیں لیکن پالنے اور پڑھانے لکھانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔۔۔اس آگ نے جھلسا دیا تھا کہ جہاں جینے کا ، پیدا ہونے کا حق برابری کی سطح پہ دستیاب نہیں وہاں تعلیم ، فیصلے کی آزادی، لباس سب ثانوی باتیں ہیں۔۔۔۔ ابھی تو ہمیں اس حق کی خاطر لڑنا ہے کہ پیدائش کا حق تو برابری کی سطح پہ ہو، جینے کا حق ہو۔۔۔

پھر یوں ہوا کہ بارش ہوئی، گرمی کا زور ٹوٹا۔۔۔۔۔۔تھیٹر سے باہر نکلے تو اس منظر نے جکڑ لیا۔۔۔۔جہاں لوگ عورتوں کو دیدے پھاڑ کر دیکھتے ہیں اور اپنی زنانیوں کو چھپا کر رکھتے ہیں وہاں یہ صاحب اپنی بیٹیوں کے ساتھ بارش میں بھیگ رہے تھے ۔۔۔۔نہ سواری کا انتظار جیسی مجبوری تھی نہ ہی ایسی کوئی وجہ۔۔۔۔\"123\"

یہ فرمائش تھی ان بچیوں کی۔۔۔

بات چلی تو علم ہوا صاحب حجام ہیں، کچھ کھیتی باڑی کرتے ہیں، لیکن سب مشکلوں کے باوجود بڑی بیٹیوں اور بیٹوں کو تعلیم دلا رہے ہیں اور فی الحال چھوٹی والی ہسپتال میں داخل ہے۔۔۔۔۔

بارش اور ٹھنڈی ہوا بھی جو نہ کر سکے وہ کمال اس منظر اور گفتگو نے کر دکھایا۔۔۔۔ایک پسماندہ علاقے میں پہلی بار کچھ تھا جو معمول سے ہٹ کر تھا۔۔۔۔۔جہالت، کم علمی اور روایتوں کی آگ میں جھلستے جھلستے تھک گئی تھی، اس منظر اور ملاقات نے تھکن ختم کر دی۔

(درویش کی رائے میں ہر دن میں کوئی نہ کوئی منظر ایسا ضرور ہوتا ہے جو اگلے روز تک زندہ رہنے کی خواہش بیدار کر دے۔ اکثر ہم غیر مطلوب مناظر کے ہجوم سے اس قدر سٹپٹا جاتے ہیں کہ خوشبو جیسا انسان اور پروا جیسا لمحہ ہم پر کھلے بغیر گزر جاتا ہے )