فواد چوہدری کے کیلنڈر پر اعتراض نہیں بس رمضان اور عید پر نہ لگائیں: مفتی پوپلزئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشاور کی مسجد قاسم خان کی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہ ہے کہ انہیں اسلامی کیلنڈر کی ایپ لانچ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اسے رمضان اور عید الفطر کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
”مجھ سے کسی نے اسلامی کیلنڈر کے سلسلے میں رابطہ نہیں کیا لیکن میں یہ کہوں گا کہ رمضان اور عید الفطر شریعت کے احکامات کے مطابق چاند دیکھنے کے بعد کیے جانے چاہئیں۔ “

مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا کہ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی 29 رمضان کو مسجد قاسم خان پر میٹنگ کرے گی اور اگر اسے رویت ہلال کی قوی شہادتیں موصول ہوئیں تو عید الفطر کا اعلان کر دے گی۔

”ہم اسلامی کیلنڈر کی لانچنگ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اسے سرکاری دفاتر، عوامی مقامات اور گھروں میں آویزاں کیا جانا چاہیے تاکہ اسلامی قمری مہینوں کا اور ان کی اہمیت کا پتہ چلے۔ “ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا۔

انہوں نے تبصرہ کیا کہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری پریس میں دکھائی دینے کے زیادہ شوقین ہیں اور اسلامی کیلنڈر کے بارے میں نہیں۔
مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بتایا کہ انہوں نے دینی تعلیم پشاور کے سرحد مدرسے سے حاصل کی اور خطیب کے طور پر 1983 میں اپنے والد کی وفات کے بعد سے کام کر رہے ہیں۔

”مسجد قاسم خان کی رویت ہلال کمیٹی 1825 سے متواتر میٹنگز کر رہی ہے۔ اس نے کبھی بھی رمضان اور عید الفطر کا اعلان قوی اور شرعی شہادتوں کے بغیر نہیں کیا“۔ انہوں نے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد قاسم خان کی رویت ہلال کمیٹی کے کوئی باقاعدہ ممبر یا سربراہ نہیں ہے لیکن مقامی علما باقاعدگی سے مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور صاحب ایمان گواہوں سے شہادتیں اکٹھی کرتے ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ گزشتہ سال انہیں ملک چھوڑ کر دبئی جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا مگر اس کے باوجود مقامی رویت ہلال کمیٹی مسجد قاسم خان میں جمع ہوئی اور اس نے اپنا اعلان کیا۔
”یہ کسی فرد واحد کے چاند دیکھنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس چاند دیکھنے کے لئے ایک طویل عرصے سے ایک باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے“ مفتی پوپلزئی نے بتایا۔

یاد رہے کہ مفتی منیب بھی فواد چوہدری کی مخالفت کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ “دنیا کی ساری سائنس اور ٹیکنالوجی کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں : مفتی منیب الرحمان”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •