غیور قبائلی غدار نہیں ہو سکتے


دانشور واصف علی واصف کا قول ہے کہ جو انسان بیس سال سے زیادہ عرصے سے ملک میں رہ رہا ہو وہ ملک دشمن نہیں ہو سکتا، جس کے ماں باپ کی قبریں اس ملک میں ہیں وہ غدار نہیں ہو سکتا۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ”ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔ “
یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔

ماہرِ قانون ایس ایم ظفر کے مطابق ”غداری“ کا لفظ پہلی مرتبہ سنہ 1973 کے آئین میں استعمال ہوا۔ تاہم اس وقت دیے جانے والے غداری کے تصور میں اٹھارویں ترمیم کے بعد تبدیلی آئی۔
جو اضافہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ ”آئین کو معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرنے والا شخص یا ایسے شخص کی امداد کرنے والا شخص غدار ہو گا“۔

دو ہفتے قبل کی بات ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف جس کے چئرمین حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی ریاض فتیانہ کے پاس ہے انھوں نے پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو محب وطن قرار دیا تھا۔ قائمہ کمیٹی کو کور کرنے کی ذمہ داری چونکہ میری تھی۔ اس لیے میں چشم دید گواہ ہوں کہ جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو علی وزیر اور محسن داوڑ کی موجودگی میں ن لیگ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی رانا ثناءاللہ نے پوچھا کہ سرکاری طور پر ان دو ارکان پر غیر ملکی فنڈنگ لینے کے الزامات لگے ہیں یہ اپنے آپ کو کلیر کریں۔ اس موقع پر ریاض فتیانہ گویا ہوئے ان لوگوں نے آئین پاکستان کے تحت حلف لیا ہے اور جب بھی قومی ترانہ کی دھنیں بجتی ہیں یہ اُس کے احترام میں اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ان کی حب الوطنی تمام شکوک سے بالاتر ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں کے غیور عوام نے ہمیشہ دھرتی ماں کے لیے قربانیاں دی۔ خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب افغانستان جنگ میں جنرل ضیاء نے پاکستان کو شامل کیا۔ غیروں کی جنگ میں انھوں نے پاکستان کو دھکیل دیا روس شکست کے بعد واپس چلا گیا اور روسی فوج کے خلاف برسرپیکار لوگوں نے ان علاقوں میں پناہ لی۔ فوجی حکمران نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے اس جنگ میں حصہ لیا۔ کوئی پالیسی نہیں بنائی کہ جنگ سے فراغت کے بعد ان لوگوں کا کیا بنے گا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ جب افغانستان پر چڑھ دوڑا تو بدقسمتی سے پاکستان پر ایک اور جرنیل کی حکومت تھی۔ مشرف دور میں ان علاقوں میں پناہ گزین دہشتگرد مساجد، چرچ اور سکولوں پر خودکش حملے کرتے اور دندناتے پھرتے۔ فوج نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیا جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ان علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان کے دوسرے شہروں میں آ بسے۔

کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور بچہ جب تکلیف میں ہوتا ہے تو ماں اس کی تکلیف دور کرنے کی ہر ممکن سعی کرتی ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے دُکھی لوگوں کو سینے سے لگائے اور ان کے جائز مطالبات کو پورا کرے۔

1971 ء میں ہم ایک سانحہ کر بیٹھے اب اس کو دہرانا کم عقلی ہے۔ ہمیں اس سے سبق سیکھنا ہو گا۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو گلہ تھا کہ انھیں سیاسی حقوق نہیں دیے جا رہے وہ لوگ پاکستان کے خلاف نہیں تھے بلکہ وہ حکمران طبقے کے خلاف تھے جو ان کے سیاسی حقوق دبا کے بیٹھا ہوا تھا۔ حکمران طبقہ نے سمجھا کہ حقیقت میں پاکستان وہی ہیں اس طرح مشرقی پاکستان کے لوگ پاکستان کے خلاف ہو گئے۔

مشرقی پاکستان میں جب فوجی آپریشن ہوا تو آرمی سے پہاڑ سی غلطیاں سرزد ہوئیں، جس کا خمیازہ ہم نے علیحدگی کی صورت میں برادشت کیا۔
فاٹا کے غیور عوام کے آبا و جداد کی قبریں اسی علاقے میں ہیں یہ لوگ غدار اور وطن دشمن نہیں ہو سکتے۔ برسرِ اقتدار طبقہ اور پی ٹی ایم کے اکابرین ایک میز پر بیٹھیں، مذکرات کریں تاکہ مسائل کا حل نکلے۔

Facebook Comments HS

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 157 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui