ٹریفک اور ہمارے رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی ایک بہت ہی قیمتی شے ہے اور اس کی قدر کرنا ہر کسی کے لئے بہت ضروری ہے۔ مگر آج کل تو لوگ اس کی قدر و منزلت کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے ایک بہت بڑا ملک ہے اور پاکستان میں ہر کسی کے پاس ذرائع آمدورفت ہے اور جن کے پاس نہیں ہے وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ جیسے کہ پاکستان ایک گنجان آباد ملک ہے تو ٹریفک کا حد سے زیادہ ہونا تو کسی تعجب کی بات نہیں۔

سڑکوں پر، گلیوں میں ہر وقت ٹریفک کی آمد و رفت رواں دواں رہتی ہے اور سڑکوں پر افراتفری کا عالم نمایاں رہتا ہے اور ہر کسی کو اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے جس کے باعث ٹریفک قوانین کا خیال نہیں کیا جاتا۔ پاکستان میں ٹریفک کی دیکھ بھال کے لئے باقاعدہ ٹریفک کا ادارہ موجود ہے مگر وہ نہ ہونے کے برابر ہی ہے، اس ادارے نے قوانین تو بنائے ہوئے ہیں مگر افسوس کی بات ہے اس پر اس طرح سے عمل درامد نہیں کروایا جاتا جس طرح سے کروانا چاہیے۔

جس کی وجہ سے بہت سے حادثات رونما ہوتے ہیں، مگر کہتے ہیں نہ کہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک سے نہیں تو یہاں پر بھی ایسا ہی حال ہے مثلآ اگر ٹریفک اشارے پر ٹریفک وارڈن کھڑا ہوا ہے اور اشارہ بند ہے تو ہر کوئی چپ چاپ وہاں کھڑے اشارے کے کھلنے کا انتظار نہیں کرتا بلکہ اگر کوئی راہ دکھے مثلآ سروس روڈ یا کوئی ایسی جگہ جہاں وارڈن کی نگاہ نہ پڑ رہی ہو تو لوگ اس کا فائدہ اٹھا کر چھومنتر ہو جاتے ہیں اور اگر ٹریفک وارڈن پکڑ لے تو بہانے بنانا شروع کردیتے ہیں اور اگر بندہ اسرور سوخ والا ہو تو اپنے تعلقات کا استعمال کر کے بچ جاتا ہے۔

وہ کہا جاتا ہے نہ کہ یہاں قانون سب کے لئے برابر ہے مگر حقیقت میں صرف نام کا جہاں جس چوک پر ٹریفک وارڈن نہ کھڑا ہو وہاں تو مانو لوگوں کی عید ہوجاتی ہے۔ ٹریفک لائٹس تو مذاق ہی لگتا ہے اول تو کام ہی نہیں کرتی اور جہاں لائٹس اپنا کام بخوبی سرانجام دے رہی ہوں وہاں لوگ راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔ ہر کسی کو جلدی ہوتی ہے اور وہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اکثر حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنی قیمتی جان گنوا بیٹھتے ہیں یا کسی معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں اور آج کل تو ویسے ہی ٹریفک حادثات کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے اور اس کی کئی وجوہات میں ایک وجہ یہ ہے کہ نا بالغ بچوں کے ہاتھ میں مہنگی مہنگی کاریں، موٹر سائیکلیں پکڑا دی جاتی ہیں اور وہ نا تجربہ کار ہونے کے باعث حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ون ویلنگ اور کار ریسنگ بھی حادثات کی شرح میں خاصا اضافہ کرتے ہیں، اس میں گھر والوں کا بھی کردار ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حرکات پر نظر نہیں رکھتے اگر وہ نظر رکھیں تو یہ نوبت نہ آئے۔

حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنے فرض سے غفلت نہ برتے اور قوانین پر سختی سے عمل درامد کروائے اور لوگوں میں احساس جگائے تاکہ ملک کی ٹریفک کا نظام بہتر ہو اور مذید قیمتی جانوں کا ضیاء نہ ہو۔ بیشتر لوگ وقت کو بچاتے ہوئے قیمتی جان گنوا بیٹھتے ہیں لوگوں کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ اکثر اوقات ایک انسان کی غلطی کی وجہ سے کسی دوسرے کی جان چلی جاتی ہے مثلآ ایک انسان اشارے کھلنے پر نکلا ہے تو دوسرا اشارہ توڑ کر نکلا ہے وہ پہلے آدمی کے ساتھ ٹکراتا ہے اور خود کو نقصان پہنچاتا ہی ہے بلکہ دوسرے کو بھی نقصان پہنچا دیتا ہے اگر لوگ سڑکوں پر تحمل کا مظاہرہ کریں تو کسی کو بھی کسی قسم کا نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔

ہمارے لوگ جب باہر کے ممالک میں جاتے ہیں تو وہاں کے ٹریفک قوانین کا باقاعدہ خیال کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں مگر یہاں تو صورتحال الٹ ہے۔ پاکستان میں اب بہت سی جگہوں ایسے آلات لگائے گئے ہیں جو ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں، رکشوں، موٹر سائیکلوں اور دیگر آمدورفت کے ذرائع کے مالکان کے گھر ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے باعث چالان بھیج دیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں حکومت اور عوام دونوں کو مل کر ٹریفک کا نظام بہتر بنانا چاہیے تاکہ ملک میں بہتری آئے اور کسی کو بھی اپنے پیاروں کو کھونا نہ پڑے کیونکہ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقرا ریاض کی دیگر تحریریں