تذکرہء اولیائے سندھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو برِّصغیرکی سرزمین، اولیاء اور صُوفیوں کی دھرتی سمجھی جاتی ہے، مگر سرزمینِ سندھ بھی اپنے سینے میں لاکھوں لعلوں کو بَسائے ہوئے ہے، جنہوں نے امن اور یگانگت کے پیغام کی تروِیج سے، مُحبّت اور اخوّت کا درس عام کیا اور لوگوں کے دلوں سے نفرتوں کو دھویا۔ آج کی اس مختصر نوشت میں ہم سندھ کی دھرتی سے متعلق کچھ اولیاء کا ذکر کر رہے ہیں۔

حضرت ابُو مُعشر ’نجیع‘ سندھی: ابُو مُعشر ’نجیع‘ سندھی، برِّصغیر کے اوّلین مُحدثین میں شمار ہوتے ہیں، جو سرزمینِ سندھ سے تعلق رکھتے تھے اور عربوں کے سندھ پرقبضے کے بعد مسلمان کیے گئے۔ آپ اپنی عمر کا کثیر عرصہ مدینے میں رہے، اسی وجہ سے ’مدنی‘ بھی کہلاتے ہیں۔ آپ اپنے زمانے میں فنِ مغازی و سیر کے امام تھے اور مؤرخین آپ کو ان بزرگان میں شمار کرتے ہیں، جنہوں نے اوّل اوّل اس فن کی بنیاد ڈالی۔ آپ کی وفات 170 ہجری میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کے جنازے میں خلیفہ ہارون الرشید بھی شریک ہُوئے تھے۔ قاضی عبدالکریم سمعانی نے آپ کا مختصر ذکر اپنی اہم کتاب ’الانساب‘ میں کیا ہے۔

حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ: کچھ مؤرخین کے مطابق، حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ، امام محمّد نفس الزکیہ کے فرزند تھے اوراہلِ بیت میں سے تھے۔ آپ کی ولادت، واقعہء کربلا کے 28 برس بعد سن 98 ہجری، بمطابق 720 ء میں مدینہء منورہ میں ہوئی اور یہ بنی امیّہ کی حکومت کا آخری دور تھا۔ آپ 40 برس کی عمر میں، تقریباً 138 ہجری بمطابق 760 ء میں سندھ تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہت زیادہ تعداد میں گھوڑے لائے، جو آپ نے عراق کے شہر ”کُوفہ“ سے خریدے تھے۔

آپ کا شجرہء نسب، حضرت علی المُرتضیٰ کرم اللہ وجہ سے یُوں ملتا ہے : سیّد ابُو محمّد عبداللہ العشتر، بن سیّد محمد ذوالنفس الزکیہ، بن محمّد سیّد عبداللہ، بن سیّد حسن مثنی، بن سیدنا امام حَسَن، بن شیرض خُدا، سیدنا امیرالمومنین علی ابنِ ابی طالب کرم اللہ وجہ۔ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کی کنیت ’ابو محمّد‘ اور لقب ’العشتر‘ ہے۔ بعض روایات کے مطابق عبداللہ شاہ غازیؒ کو، سن 151 ہجری میں، عبّاسی دورِ حکومت کے زمانہء جنگ میں خارجیوں نے جنگل میں چُھپ کر وار کر کے شہید کیا تھا۔ شہادت کے بعد آپ کی نعش کو آپ کے خادمین اور عقیدتمند کراچی لے آئے تھے اور یہاں ایک ٹیلا نُما پہاڑ (موجودہ کلفٹن، کراچی) پر دفن کردیا تھا، جہاں آج بھی آپ کا مزار موجود ہے۔ اور آپ کے بھائی مصری شاہؒ (جو کہ آپ کے ساتھ ہی شہید ہوئے تھے ) کو موجودہ ڈیفینس کراچی میں دفنایا گیا تھا۔

حضرت بابا قطب عالم شاہ بخاریؒ: سیّد قطب عالم شاہ بخاریؒ کا اصل نام سیّد عبدالوہاب شاہ اورالقاب، ’پیرِقُطب‘ اور ’عالم شاہ‘ تھے۔ حضرت بخاریؒ، 13 رجب المرجب 999 ہجری کو اُچ شریف ضلع بہاولپور (موجُودھ: پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم، والدِ گرامی، حامد علی شاہ بخاری سے حاصل کی، جن کا سلسلہء نسب، مخدُوم جہانیاں ”جہاں گشت“ سے جا ملتا ہے۔ ابتدائی بعیّت 17 برس کی عمر میں، سلسلہ ء سہروردیہ میں، والدِ گرامی سے کی اور 8 برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ جب آپ 21 سال کے تھے، تو والدِ گرامی نے آپ کو خرقہ و دستار عطار کی اور اشاعتِ دین کا حکم دیا۔

آپ بڑے فیّاض، سخی اور صاحبِ تصرُّف مانے جاتے ہیں۔ کراچی میں ساحلِ سمندر پر آباد ایک چھوٹی سی بستی تھی، جہاں کے لوگوں کا پیشہ سمندری قزاقی تھا۔ آپ کی تبلیغ، حُسنِ اخلاق اور دعا سے وہ لوگ راہِ راست پر آ گئے۔ بعد ازاں آپ ساحلِ سمندر سے اْٹھ کر بستی کی طرف نکل گئے، اور اُس وقت کے کلاچی (حال کے ”کراچی“ ) کے موجُودہ ’را م باغ‘ کے علاقے میں سکونت پزیر ہوئے۔ بابا عالم شاہ نے اُس مقام سے چند فرلانگ مغرب میں واقع، اُس میدان میں جاکر قیام فرمایا، جہاں اُس زمانے میں درختوں کا ایک جھنڈ واقع تھا۔

بابا عالم شاہ بخاری، کو اُن کے عقیدتمند ’قطبِ عالم‘ اور ’قطبِ کراچی‘ بھی کہہ کر پکارتے ہیں۔ آپ نے 25 ربیع الثانی 1046 ہجری بمطابق ستمبر 1636 ء میں وفات پائی۔ آپ کا مزار، کراچی میں، موجُودھ ایم اے جناح روڈ پر، عیدگاہ بالمقابل جامع کلاتھ مارکیٹ واقع ہے اور مرجعِ خاص و عام ہے۔ آپ کا مرقد سطحِ زمین سے کم وبیش 7 فٹ نیچے ہے۔

مخدوم محمّد زمان (اوّل) ؒ: مخدُوم محمد زمان (اوّل) ؒ، سندھ کی لواری شریف کی درگاہ کے بانی تھے۔ ان کو ’خواجہ کلاں‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مُحمّد زمان اوّل، 21 رمضان 1125 ہجری، بمطابق 1713 ء میں سندھ کے ایک قصبہ ”لواری“ (لوارو) میں پیدا ہوئے۔ مخدوم محمّد زمان اوّلؒ کے والد کا نام، شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندی تھا، جبکہ آپ کی والدہ، خواجہ عبدالسلام ساکن جون کی صاحبزادی تھیں۔ آپ کا سلسلہء نسب، امیرالمؤمنین، حضرت ابُوبکر صدیق رضہ سے جا ملتا ہے۔ خلیفہ مہدی یا ہارُون کے زمانے میں یہ خاندان سندھ میں وارد ہوا۔ مخدوم محمّد زمان اوّلؒ کے والد، عالم تھے اور تقویٰ میں مشہور تھے۔ وھ مخدُوم آدم کے صاحبزادے، خواجہ فیض اللہ کے مرید تھے، جبکہ مخدوم ابوالقاسم نقشبندی سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔

آپ نے علومِ ظاہری کی تعلیم، ٹھٹہ میں مولانا محمّد صادق جیسے معتبر عالم سے حاصل کی۔ اتفاقاً آپ کی ملاقات ابوالمساکین محمّد ٹھٹوی سے ہوگئی۔ آپ تعلیم ترک کر کے ان کے حلقہ بگوش ہوئے اور بیعت کے بعد مجاہدات اور ریاضتوں میں مشغول ہوگئے۔ بعیّت کے بعد آپ کو شیخِ طریقت، ابوالمساکین نے خلافت عطا کی، اور اپنی دستارِ مبارک آپ کے سر پر رکھی۔ جس کے بعد 150 ہجری میں آپ اپنے آبائی وطن لواری میں آکر مسندِ ارشاد پر فائز ہوئے، پُرانا ”لواری“ زمین کی شوریدگی کے باعث جب تباہ ہوگیا، تو آپ نے جدید شہر کی بنیاد رکھی اور اس کا نام بھی ’لواری‘ ہی رکھا۔ جو، اب ’لواری شریف‘ کہلاتا ہے۔ آپ 63 برس کی عمر میں 4 ذی القعد 1188 ہ بمطابق 1775 ء کو واصلِ بحق ہوئے۔ مخدوم محمد زمان اوّلؒ کا مزار شریف لواری شریف ہی میں ہے۔

سیّد میوں شاہ (المعرُوف میوہ شاہ) : میوہ شاہ باباؒ ایک صوفی بزرگ تھے اور اُنہیں جس مقام پر دفنایا گیا تھا، بعد میں وہ مقام ان ہی کے نام پر ’میوہ شاہ قبرستان‘ کے نام سے مشہور ہوگیا، جو اِس وقت کراچی کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔ اُن کا مزار سائٹ ٹاؤن میں واقع ہے۔ میوہ شاہؒ کا اصلی نام ’کبیر‘ تھا۔ ایک روایت کے مطابق ’میوہ شاہ‘ کے نام سے مشہور ہونے کی وجہ یہ تھی، کہ جب لوگ اُن کے پاس وعظ و نصیحت کے لئے آتے، تو آپ ان کی خدمت میں میوہ (پھل یا مِٹھائی) پیش کرتے تھے۔

کبیر شاھ، اٹھارہویں صدی میں ایک شہر ’کنڑ‘ سے یہاں آکر (موجودہ ”میوہ شاہ قبرستان“ کے علاقے میں ) آباد ہوئے تھے۔ انہوں نے اُنیسویں صدی میں کراچی میں انگریزوں کی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ انگریزوں کی آبادکاری کے سخت مخالف تھے۔ اُن کی اِن ہی کوششوں کو نابود کرنے کے لئے انگریز سرکار نے اُنہیں جیل میں ڈال دیا، اور پھر جلاوطنی کی سزا سُنا کر ایک کشتی میں سوار کر کے کراچی سے باہر نکالنے کی کوشش بھی کی، مگر اُن کی کراچی بدری سے متعلق کوئی مضبُوط تاریخی شواہد نہیں ملتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •