بارش میں بھیگتی آبدیدہ کہانی کی کتھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بزم ارباب نشاط کا ہفتہ وار ادبی اجلاس جاری تھا۔ ٹی ہاؤس سینئر جونیئر شعراء اُدباء سے بھرا تھا۔ ’جی بہت شکریہ آپ نے مجھے آج موقع دیا۔ ‘ ایک نوآموز کہانی کار تابش دوتانی نے گلہ صاف کیا۔ پھر سب پر ایک نگاہ ڈالی۔ پھر ایک لمبا سانس لیا اور گویا ہوا۔ ’شگفتہ دیہات کی الہڑ مُٹیار لڑکی جو پڑھی لکھی تو نہ تھی۔ ‘

’ میاں یہ افسانہ ہے یا کہانی۔ ؟ ‘ حماد راہی ایک بزرگ کہانی نگار نے اک عجیب سا برا منہ بناتے ہوئے سوال داغا۔

جی یہ ایک سچی کہانی ہے۔ اس پر تمام احباب نے گھور کہ حماد راہی کی طرف دیکھا۔ جو سر جھکا کے سوچنے کے انداز سے زمین کو گھورنے لگے۔ تابش دوبارہ سیدھا ہوا اور کہانی کو جاری رکھا۔

شگفتہ شہر میں زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ اسے شہری لوگ شہری رہن سہن اور لباس بہت پسند تھے۔ ایک دن اسے گاؤں کے عیاش جاگیردار جمالا نے دیکھ لیا۔ بس اغوا کر لیا اور اپنے ڈیرے پر اُٹھا لایا۔ منہ کالا کیا۔

’ تابش صاحب یہ تو ایک عام سی کہانی ہے۔ ہمارے دیہات کی کہانی گھر گھر کی۔ اس میں کیا نیا پن ہے۔ ‘ ایک ادیب نے اعتراض کیا۔

دوسرے ایک افسانہ نگار نے لقمہ دیا ’بلکہ ایسی کہانیاں تو اب پاکستان کی بدنامی بنتی چلی جا رہی ہیں۔ پورا نیا اور پرانا پاکستان اس قسم کی کہانیاں سے بھر ا پڑا ہے۔ ‘

اجلاس کے صاحب صدر نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو خاموش کرایا۔ اور نئے آموز کہانی کار کو کہانی جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔

جمالے نے منہ کالا کیا۔ پھر اس کے حسین چہرے پر تیزاب ڈال دیا۔ چہرہ جھلس گیا تھا۔ آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔ شگفتہ کی چیخ و پکار پورے گاؤں والوں نے سنی۔ لیکن کوئی مدد کو نہ آیا۔ ایسی چیخیں وہ سننے کے عادی ہو چکے تھے۔

’ یہ عجیب ٹرینڈ چل نکلا ہے۔ زنا کیا۔ عصمت دری کی۔ ریپ کیا اور پھر تیزاب ڈال دیا۔ خدا غارت کرے ایسے جنسی بھیڑیوں کو۔ میاں تیزاب ڈالنے کی کیا تُک ہے۔ ‘ راہی صاحب خود ہی بول کے خود ہی چپ کر گئے۔

بوڑھا باپ اکلوتی بیٹی کا انصاف ڈھونڈنے نکلتا ہے۔ مہینوں دھکے دھوڑے کھا کے گھر بیٹھ جا تا ہے۔ ایک دن وہ مسکراتا ہوا گاؤں کے اجرتی قاتل فیاض موہانہٰ کے ڈیرہ پر پہنچ جاتا ہے۔ اُسے شگفتہ کی تصویر دکھا کے تمام رام کتھا سناتا ہے۔ اس سے سودا کرتا ہے۔ وہ جمالے کو قتل کر دے تو وہ اسے اپنا داماد بنانے کو تیار ہے۔ تصویر دیکھ کے فیاض موہانہ کو اپنا بچپن یاد آ جاتا ہے۔ آخر کو وہ بھی اسی گاؤں کا رہنے والا تھا۔

وہ دل ہی دل میں شگفتہ کو پسند کرتا تھا۔ لیکن محبت میں وہ اناڑی تھا۔ کبھی اظہار نہ کر سکا۔ آج قدرت اسے ایک سنہری موقع دے رہی تھی۔ ”دیکھو نوجوان کہانی اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ کہانی میں زیب داستاں سے بھرت کی جاتی ہے۔ لیکن حقیقی واقعات میں بھرت نہیں مٹی کے بڑے بڑے تودے ڈالنے سے بات بنتی ہے۔ “ ایک پرانے بیور کریٹ کالم نگار نے سگار سلگاتے ایک نئی پخ ڈالی۔

تابش کچھ نہ سمجھتے ہوئے جلدی سے سر ہلا دیا او ر آگے بڑھا۔ وہ جمالے کو مارنے کا سودا پکا کر لیتا ہے۔ ایک صبح فیاض موہانہ بوڑھے باپ کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ وہ خوشی اور بے تابی سے بتاتا ہے۔ اس نے رات جمالے کو سوتے ہوئے فائر مار کے قتل کر دیا ہے۔ بوڑھا باپ خد ا کا شکر بجا لاتا ہے۔ اچانک اس دوران اندر کمرے سے ایک چیخ بلند ہوتی ہے۔ فیاض موہانہ ڈر سا جاتا ہے جب اندر کمرے سے شگفتہ باہر نکلتی ہے۔ ”یہ۔ یہ ککک کون؟

” فیاض موہانہ کی زبان لڑ کھڑا جاتی ہے۔ وہ ایک بد صورت اور جھلسے چہرے اور وجود کے ساتھ سامنے آ گئی تھی۔ “ یہ مری دکھوں کی ماری شگفتہ ہے ”۔ باپ نے آنکھیں چُراتے اسے بتایا۔ فیاض موہانہ کے سامنے آندھی اور جھکڑ چلنے لگے۔ اسے لگا کہ اک طوفان نے اسے اُٹھا کے کسی چٹان پر دیے مار ا ہے۔ وہ اجرتی قاتل تو پہلے ہی تھا۔ اس کا دل چاہا کہ اس بڈھے کھوسٹ کی گردن ابھی مروڑ دے۔ لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ آگے بڑھا اور۔ شگفتہ کو گلے لگا لیا۔

ایک جذباتی دانشور بھڑک اُٹھا۔ ہایں ہائیں۔ یہ غیر فطری فعل ہے نکاح کیے بغیر گلے ملنا۔ میاں ایسے اخلاق باختہ اور بے ہودہ منظر نگاری سے بات نہیں بنے گئی۔ بیور کریٹ پھر سگار کا دھواں چھوڑتے گویا ہوا۔ جب کہانی میں ریپ اور زنا بالجبر کا موڑ آیا آپ نہیں بولے۔ اب محض گلے ملنے پر آپ کو اخلاقیات یاد آگئے ہیں۔ حماد راہی بھی کچھ بڑبڑانے لگے۔ میاں کہانی تو منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ شگفتہ اور فیاض کا ملنا کچھ دل کو بھلا نہیں لگا۔ میرا خیال ہے فیاض ابھی مزید قتل کر سکتا تھا پھر کہانی میں جان پڑ جاتی۔

راہی کے ایک شاگر د رشید نے خوش ہوتے کہا۔ جی جی راہی صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ بھلا ایک قاتل کو کیا پڑی کہ ایک بد صورت تیزاب سے جلی لڑکی سے شادی کرئے۔ وہ قاتل ہے، کوئی مسیحا نہیں۔ ہاں اگر پیچھے کوئی دولت جائیداد ہو تو اور بات ہے۔

بزم ارباب نشاط کے جاری ادبی اجلاس میں چائے کی پیالیوں کی کھنک او ر سگریٹ کے دھواں کے مرغولے جاری تھے۔ سب اپنی اپنی دانست اور فہم سے کہانی پر تبصرہ کر رہے تھے۔ کہانی کے سبھی کرداروں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ سوائے جمالے کے کردار کے۔

یوں کہانی انصاف کی دھائی دیتی بھیگی پلکوں اور لرزتے ہونٹوں سے چپکے سے ٹی ہاؤس سے نکلی۔ باہر تیز بارش برس رہی تھی۔ اور کہانی مرکزی سڑک پر چلتی جا رہی تھی۔ بارش کی جھڑی اور بہتے آنسوؤں کی دھارا ایک ساتھ چل رہی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •