بچوں سے زیادتی کے کیسز میں والدین کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ہر چند دن کے بعد انٹرنیٹ پر کئی جگہوں پر لوگوں کا مطالبہ نظر سے گزرا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو چند دن میں پھانسی دی جایا کرے۔ گذشتہ کچھ عرصے میں جو واقعات ہوئے ہیں ا ن کی روشنی میں یہ مطالبہ بالکل جائز تو لگتا ہے۔ مگر سزا دینے سے بچے واپس نہیں آسکتے۔

اس لیے اس سے کہیں بڑھ کرضرورت ا س بات کی ہے کہ احتیاطی تدبیروں پر توجہ دی جائے۔ قومی سطح پر اس سے بچاؤ کے طریقے اختیار کیے جائیں۔ والدین اوربچوں کے سر پرستوں کو ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت ضروری ہے کہ ان کی تربیت کی جائے۔ اس طرح کے واقعات میں ایک بڑا ہاتھ مناسب حکمتِ عملی، احساس اور تربیت کافقدان ہے۔ بعد میں رونے پیٹنے یا سزائیں دینے سے ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ بے حسی بڑھتی ہے۔ سب لوگ کچھ دن شور مچا کر پھر پرانی ڈگر پر واپس آجاتے ہیں۔ بالکل اسیے جیسے کہ مرغیاں قصائی کا ہاتھ دڑبے میں آنے پہر کچھ دید کٹکٹا کر چپ ہو جاتی ہیں۔ ہم اگر اشرف ا لمخلوقات ہیں زندہ ہیں تو ہمیں ایک زندہ قوم کی طرح تدبیر کرنی ہو گی۔ مومن سب کچھ ہو سکتا ہے بے تدبیر نہیں ہو سکتا۔

بڑا دکھ ہوتا ہے کہ بعض اوقات چھوٹے ا ور نابالغ بچے بھی مجرم نکل آتے ہیں۔ ایسے میں کلیجہ دونوں طرف سے کٹتا ہے۔ یعنی وہ جس کی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں اور جسے ابھی اپنا یا زندگی کا ادراک بھی نہیں تھا وہ اتناگھناؤنا جرم کر بیٹھتا ہے؟ وہ بھی قابلِ رحم ہے کہ زندگی کو اتنا بڑا بٹہ لگا بیٹھا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی بچہ سڑک عبور کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو کر اپاہج ہو جائے تو انسان پوچھتا ہے ا س کے بڑوں نے اس کو تنہا سڑک پر جانے کے لیے کیوں چھوڑا؟

تو وہ جو کم عمری میں یہ بھیانک فعل کر گزرتے ہیں وہ تو مجرم بھی ہیں اور مظلوم بھی۔ کہ ان کے والدین نے ان کی حفاظت نہیں کر سکے اور اس پر اپنی ذمہ داری میں فیل اور ناکام ہو گئے ہیں۔

فرمان ہے کہ باپ اپنے کنبے کا نگران ہے۔ ا سکی غیرموجودگی میں اس کی بیوی اس کے بال بچوں گھر مال اور اس کی عزت کے امین ہے۔

اس طرح کے جرائم کا مجرم معاشرہ بھی ہے۔ پہلے وقتوں میں غیر لوگ بھی کسی بچے کو کچھ غلط کرتا دیکھتے تو ایسی ”گُھرکی“ دیتے کہ انسان سنبھل جاتا۔

والدین بچوں کے اچھے برے کے ذمہ دار ہیں۔ اگر کسی کا بچہ کسی دوسرے کی کوئی قیمتی چیز توڑ دیتا ہے تو وہ ا س کو لے کر والدین کے پاس جاتا ہے کہ آپ کے بچے نے ہمارا نقصان کردیا آپ اس کی تلافی کریں۔ تووالدین ہونا جز وقتی نہیں سال کے بارہ مہینے اور گھڑی کے آٹھوں پہر کی ذمہ داری ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین بچوں کے معاملے میں کسی پر بھی بھروسا نہ کریں۔ بچوں کو نظروں کے سامنے رکھیں۔

حیرت ہوتی ہے کہ والدین اس معاشرے اور ان حالات میں بھی لا پرواہ کیوں ہو جاتے ہیں کہ جو چاہے ان کے لختِ جگران کو بھنبھوڑ ڈالے۔ کپڑے کی گڑیا کی طرح چیتھڑے کردے۔ والدین کس طرح ایسے بے فکر ہوجاتے ہین کہ جیسے ہر طرف فرشتے بستے ہوں۔

ذرا سوچیں ان بچوں کے آخری لمحات کیسی اذیّت میں کٹے ہوں گے؟ لیکن والدین پھر بھی چوک جاتے ہیں اور خبیث باطن لوگوں کو موقع مل جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک واقعے میں ایک والدہ نے اپنی بچی کو قریبی ڈھابے سے باپ کے لیے چائے لانے کے لیے بھیج دیا۔ بس وہ بچی پھر زندہ نہیں ملی۔ باپ کی ایک وقت کی چائے کے لیے بچی کی زندگی خٓطرے میں ڈال دی؟

جب ہم جانتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بچوں کو جھپٹنے کے لیے ایک مگر مچھ کی طرح جبڑے کھولے بیٹھا ہو اہے تو والدین چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے بچوں کو خطرے میں کیوں ڈالتے ہیں؟

باپ سگرٹ خریدنے کے لیے بچوں کو بھیج دیتے ہیں۔ بعض اوقات تو مغرب کے بعد بھی بھیج دیتے ہیں کہ نشہ ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔

بچوں کو اکیلے اسکول بھیجنا بھی بہت خطرناک ہے۔ یا تو سب بچوں کے ساتھ جائیں۔ یا پھر والدین خود چھوڑ کر آئیں۔ ہونا تو یہ چاہیے بچوں کو اسکول میں گیٹ تک ہی نہیں کلاس تک چھوڑ کر آئیں۔ بچوں کو بلا وجہ دوستوں سہیلیوں کی طرف رشتہ داروں کی طرف نہ بھیجیں۔ بازار سے سودا سُلف بڑے ہی لے کر آئیں تو بہتر ہو۔ کسی پڑوسی یا پڑوسن کے پاس مت چھوڑیں۔ یا د رکھیں ایک والدہ دس بچے سنبھال سکتی ہے لیکن دوسرے دس لوگ مل کربھی بچوں کی وہ حفاظت نہیں کرسکتے۔ جو ایک ماں کر سکتی ہے۔

اگرآ پ بچوں کو پوری توجہ نہیں دے سکتے تو اتنے ہی بچے پیداکریں جتنے سنبھال سکتے ہیں۔ بلا وجہ کی لام ڈوری بنانے کی ضرورت نہیں۔ مائیں بلا وجہ کی فون پر گفتگو میں محو ہو کر بچے وں کو نظر انداز نہ کریں۔ ان کا پرائم فوکس بچوں کی نگرانی ہے۔

جب آصفہ، زینب اور فرشتہ جیسی بچیوں کی طرح کے واقعات ہوتے ہیں توجی چاہتا ہے کہ پورے ملک کو جھنجھوڑ دے انسان۔ ان کو جگائے کہ اپنے پھول سے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں۔ اب تو جی چاہتا ہے کہ ایسے بچوں کے والدین کو بھی مجرمانہ غفلت کی کوئی دفع لگائی جائے۔

پولیس والوں کو سختی سے اس بات کا مکلّف کیا جائے کہ بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے۔ اگر وہ دیر کریں تو ان کی سخت با زپرس کی جائے ا ور ایکشن لیا جائے۔

مغربی ممالک میں تو ایسی ہاٹ لائینزہوتی ہیں کہ آناً فناً پورا شہر ریڈ الرٹ ہو جاتا ہے۔ کوئی انسان کوئی بچہ لے کر کسی علاقے سے نکل نہیں سکتا۔ آنا فا ناً سب کے فونز پر ہائی الرٹ آجاتا ہے کہ علاقے میں کہیں کوئی مشکوک شخص دیکھیں تو کال کریں۔ مجرم کا حلیہ یا بچے کا حلیہ سب کو بتادیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سب بچوں کی حفاطت فرمائے ا ور اسن کے والدین کی آ نکھں ٹھنڈی رکھے۔ آمین۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •