ایڈز : علامات، وجوہات اور بچاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مئی کے اوائل میں لاڑکانہ میں 410 نوزائیدہ بچوں اور 100 بڑوں میں ایڈز کی تشخیص کی گئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ سارا کیا دھرا ”ڈاکٹر مظفر گھنگھرو“ کی لاپرواہی کا ہے۔ جنھوں نے اپنے کلینک پر استعمال شدہ سرنج کو بار بار استعمال کر کے یہ خطرناک جراثیم لوگوں میں منتقل کر دیے۔

ایڈز ایک خطرناک بیماری ہے۔ یہ ایک ایسا مہلک عارضہ ہے جو پاکسان میں تیزی سے اپنے قدم جما رہا ہے۔

دنیا میں، 2017 کے اختتام پر ایڈز کے تین کروڑ انہتر لاکھ ( 36900000 ) مریض موجود تھے۔ اسی سال نو لاکھ چالیس ہزار لوگ اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار بیٹھے۔ ایک تحقیق کے مطابق، ہر ہفتے دنیا کی کل آبادی میں سے 7000 خواتین ایڈز کا شکار ہو رہی ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے کل ”ایک لاکھ پینسٹھ ہزار“ مریض ہیں۔ جن میں سے 24331 مریض یہ جانتے ہیں کہ انھیں ایڈز ہے۔ مرض کی تشخیص کیے گئے افراد میں سے 17149 لوگ اس سلسلے میں تھوڑی بہت ادوایات استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ مکمل علاج کی سہولت صرف 5228 لوگوں حاصل ہے۔ WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں ہر سال بیس ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جو کہ ایک پریشان کن صورتحال ہے۔

ڈاکٹر صائمہ پراچہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں ایک لاکھ پینتس ہزار لوگ ایسے ہیں جو نہیں جانتے کہ وہ اس مہلک بیماری کا شکار ہیں اور عام افراد کی طرح، بغیر کسی علاج کے ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ یہ ان لوگوں کے ساتھ ساتھ ہم سب کے لیے بھی خطرے کی بات ہے۔

ہمارے ہاں ایک بہت غلط تصور ہے کہ ایڈز کے مریضوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے، ان کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھانے، ان کے کپڑے پہننے، ان کے ہاتھ لگائی ہوئی چیز چھونے سے، ایڈز کی بیماری پھیلتی ہے۔ جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ نہ ہی یہ مرض ان میں سے کسی امر سے پھیلتا ہے اور نہ ہی مچھروں یا کیڑوں کے کاٹنے سے۔

ایڈز کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات میں غیر ازدواجی و غیر فطری تعلقات، ایڈز کے مریض کے جسم کا خون کسی اور شخص کے جسم میں داخل ہونا، نوزائیدہ بچے کے والدین میں سے کسی کو یہ مرض ہونا، استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال، اور دیگر طبی آلات کو جراثیم سے پاک نہ کرنا شامل ہیں۔

ان تمام لوگوں کے لئے ایڈز کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہے جو کسی ایسی جگہ کام کرتے ہوں جدھر ان کا لوگوں کے خون سے آلودہ طبی آلات سے واسطہ پڑتا رہتا ہو، جو سرنج کے ذریعے نشہ کرتے ہوں، جو غیر موزوں جنسی تعلقات کا شکار ہوں، وہ اشخاص جن کی پیدائش کے وقت ان کے والدین میں سے کسی کو ایڈز ہو، شعبہ طب سے وابستہ لوگ، اور وہ لوگ جن کو کبھی کسی اور شخص کا خون لگا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ٹیسٹ ان سب کو بھی کروانا چاہیے جو ہیپاٹائٹس بی ہیپاٹائٹس سی یا کسی اور جنسی بیماری میں مبتلا رہ چکے ہوں۔

ہمارے ہاں، لوگ ایڈز کا ٹیسٹ اس لیے نہیں کرواتے کیونکہ ان کے دل میں خوف بیٹھا ہوتا ہے کہ اگر ان کو یہ جان لیوا بیماری ہوئی، تو ان کا کیا ہو گا۔ انھیں لگتا ہے کہ شاید اگر ان کے مرض کی تشخیص ہو گئی تو وہ مزید زندہ نہیں رہ سکیں ہے۔ ان کی رائے کے مطابق، بے خبری کی موت، لمحہ لمحہ مرنے سے بہتر ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کو اس اذیت سے بچانا چاہتے ہیں جو انھیں یہ جان کر ہو سکتی ہے کہ ان کے عزیز کو ایک موذی مرض ہے۔

اور اگر کوئی شخص ٹیسٹ کروا کے یہ جان بھی لے کہ اسے واقعی ایڈز ہے، تو وہ بدنامی کے خوف سے علاج کرواتے ہوئے جھجکتا ہے۔ کیونکہ ہمارہ معاشرہ اس بیماری کو ہمیشہ بے راہ روی و بدچلنی سے منسوب کرتا ہے۔ ایسے مریض کو سکون سے جینے دینا تو دور کی بات، چین سے مرنے بھی نہیں دیا جاتا۔ اس کی موت کے بعد بھی بدکاری کی تاریک داستانیں اس کے نام سے جوڑی جاتی ہیں۔ جو کہ دراصل باتیں بنانے والوں کے اپنے ذہن کی اختراع ہوتی ہیں۔

ایڈز کی علامات میں سرفہرست دائمی کھانسی، زکام، بار بار چھینکیں آنا، ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصہ بخار رہنا، جسم پر لال دھبوں کی موجودگی، وزن میں تیزی سے کمی، قوت مدافعت کا خاتمہ، بلاوجہ کی تھکاوٹ، سر کا چکرانا، اور دیگر معمولی بیماریوں کا مستقل رہنا شامل ہے۔

ایڈز سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر میں استمعال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو ترک کرنا، کسی شخص کو خون لگانے سے پہلے خون کی مکمل جانچ پڑتال کرنا، ایک سے زائد شخص کا کسی بلیڈ کو استعمال نہ کرنا اور جراثیم سے بچنے کے لیے ہر ممکن اقدام شامل ہیں۔

جس کسی کو ایڈز ہو، اس کا فوری علاج ضروری ہے۔ اگر وہ شخص شادی شدہ ہو تو میاں بیوی دونوں کو علاج کروانا چاہیے۔ اگر اس شخص کا علاج نہیں ہونے دیا جائے گا تو یہ اس کے گرد و نواح میں رہنے والے تمام لوگوں کے لیے خطرہ ہے۔

اگر ہمارے آس پاس کوئی اس بیماری کا شکار ہو تو ہمیں چاہیے کہ اس کو تسلی دیں، اس کی حوصلہ شکنی کرنے والے کو سمجھائیں، اس کے ساتھ اچھوت لوگوں جیسا سلوک مت کریں، علاج کروانے کے سلسلے میں اس کی حوصلہ افزائی کریں، اس کے بارے میں غلط باتوں کو پھیلنے سے روکا جائے، اس کے گھر والوں کو اس کی بیماری کی تفصیلات سمجھائی جائیں اور اس کے ساتھ مشفقانہ سکوک کیا جائے۔ یہ سب امور اس مریض کو ایک بہتر زندگی گزارنے میں مدد دیں گے۔

چند روز پہلے لاڑکانہ میں اس بیماری سے متاثرہ مزید 35 افراد کی تشخیص کی گئی ہے۔ امید ہے کہ ان سب افراد کے بہترین علاج کو ممکن بنایا جائے گا جو کہ ہمارے معاشرے کی بہتری کے لیے ایک مثبت قدم ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •