عالمی کپ مقابلے اور وہاب ریاض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے پہلے وارم اپ میچ میں افغانستان کے خلاف بھی ہدف کے دفاع میں ناکامی کے باوجود سلیکٹرز کے لیے واحدمثبت چیز وہاب ریاض کی عمدہ باؤلنگ ہی رہی جس کی ورلڈ کپ 2019 کے ممکنہ اسکواڈ اور ٹیم پلان میں شامل نہ ہونے کے باوجود غیر متوقع سلیکشن پر انظمام الحق کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

وہاب ریاض کا اتار چڑھاؤ کا شکار کیر ئیر شاید اتنا متاثر کن نہ رہا ہو لیکن اس کی عالمی کپ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کے لیے غیر معمولی کارکردگی کو فراموش نہیں کیا جاسکتاپھر حالیہ پاک انگلینڈ سیریز میں باؤلرز کی خراب ترین کارکردگی اور ریورس سوئنگ کے فن کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سلیکٹرز کا تجربہ کا ر وہاب ریاض پر بھروسا ظاہر کرتا ہے کے شاید قسمت نے اسے ایک بار پھر کچھ کردکھانے کا موقع دے دیا ہے۔

کرکٹ کے چاہنے والے تاریخ کے سب سے مشہور میچوں میں سے ایک ورلڈ کپ 2011 کے پاک بھارت سیمی فائنل کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے جس نے ایک دنیا کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔ اتنے اہم میچ میں شعیب اختر کی جگہ نوآموز وہاب ریاض کو ترجیح دی گئی اور شعیب اختر کے کیرئیر کا اختتام ہوا۔

اس میچ میں ٹورنامنٹ کے ہیرو یوراج سنگھ کو پہلی ہی بال پر کلین بولڈکرنے والا یہ وہاب ریاض ہی تھا جس نے جارحانہ رویہ اپناتی بھارتی بیٹنگ لائن کو پہاڑ جیسا ہدف دینے کے آغاز کے بعد گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کردیا اوربھارتی خیمے میں تشویش کے بادل چھا گئے مگر یہ میچ پاکستان اپنی ناقص فیلڈنگ اور غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ کے سبب ہار گیا اور دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا وہاب ریاض بے بسی کی تصویر بنا دیکھتا رہ گیا۔

اس کے چار سال کے انتظار کے بعد اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ 2015 جتوانے کا خواب سجائے وہاب ریاض آسڑیلیا پہنچاجہاں پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا جس کے دباؤکے تحت قریب تھا کے پاکستان زمبابوے سے بھی ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوجاتا لیکن یہاں بھی وہاب ریاض ہی تھا جس نے ناصرف باؤلنگ بلکے بیٹنگ میں بھی ذمہ دارانہ کارکردگی دکھاتے ہوئے پاکستان کی لاج رکھی۔ پاکستان کی اتنی بری پرفارمنس پر جہاں مبصرین اور سابق کرکٹرزافسردہ تھے وہیں سابق بیٹسمین باسط علی ایک پروگرام کے دوران رو بھی پڑے۔

کوارٹر فائنل میں آسڑیلیا کے خلاف پھر قومی ٹیم کی ناقص بیٹنگ کے سبب، ایک آسان ہدف کے تعاقب جاتی آسڑیلین بیٹنگ لائن کی راہ میں دیوار بننے والا بھی وہاب ریاض ہی تھا جس کے تاریخی اسپیل کے سبب آسٹریلین بلے باز پہلی بار اپنے ہی میدانوں پر بدحواسی کا شکاردکھائی دیے لیکن یہاں بھی شاباش ہے پاکستانی فیلڈنگ پر جو کیچز گرا کر آسٹریلیا کو موقع دے دیا گیا اور ایک بار پھر قومی ٹیم ناقص بیٹنگ اور فیلڈنگ کے سبب ٹائیٹل کی دوڈ سے باہر ہوگئی۔ یہ مصباح اور شاہد آفریدی کا آخری ون ڈے میچ تھا۔

اب کی بار شکست پر وہاب ریاض اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔ پاکستان کی شکست پر جہاں تنقید ہوئی وہیں وہاب کی صلاحیتوں کی ایک دنیا گرویدہ ہوگئی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کے برائن لارا جیسے عظیم کھلاڑی نے آئی سی سی کو وہاب ریاض پر جرمانہ لگانے کی صورت میں اسے خود بھرنے کی پیشکش کردی۔

اس کے بعد وہاب ریاض کی کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں رہی اور پچھلے دو سالوں سے وہ ون ڈے ٹیم سے بھی باہر رہا لیکن چیمپئینز ٹرافی جیتنے والی قومی ٹیم کی بیٹنگ اور فیلڈنگ کا معیار بھی دن بہ دن پستی کا شکار ہی نظر آیا اس پر باؤلنگ لائن کی فارم سے پریشان سلیکٹرز نے ایک بار پھر موجودہ فارم اور اہم مواقعوں پر کچھ خاص کردکھانے کی صلاحیت رکھنے والے وہاب ریاض کو ترجیح دی ہے جسے اگر اس بار فیلڈنگ اور بیٹنگ کی سپورٹ مل گئی تو شاید اب کی بار پھر سے وہ کچھ ایسا کردکھائے جو وہ پچھلے دونوں عالمی کپ مقابلوں میں اپنی ہی ٹیم کی خرا ب کارکردگی کے سبب نہ کر پایا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •