مبینہ طور پر غیر ملک میں پراپرٹی کو ڈیکلئیر نہ کرنے پر اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف حکومت کا ریفرنس
ایکسپریس ٹریبیون میں صحافی حسنات ملک کی فائل کردہ خبر کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے اعلی عدلیہ کے دو ججوں کے خلاف شکایت فائل کی ہے جو مبینہ طور پر خود یا ان کے شریک حیات بیرون ملک جائیداد کے مالک ہیں۔
خبر میں ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا کہ صدر عارف علوی نے ان ججوں کے خلاف ریفرینس بھیجا ہے جنہوں نے اپنی غیر ملکی جائیداد کو ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ڈیکلیر نہیں کیا ہے۔ لیکن اس خبر کی ابھِی تک آفیشل طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ایسا کوئی ریفرینس وصول کیا ہے۔
خبر کے مطابق وزارت قانون کے کے ایک افسر نے تصدیق کی ہے کہ ایسا ایک ریفرینس وزارت قانون میں تیار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق پی سی او جج کی خدمات اس ریفرینس کو فائل کرنے کے لئے حاصل کی گئی تھیں۔
ایک جج پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ان کی شریک حیات نے سپین میں مبینہ طور پر جائیداد خریدی ہے جو ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر نہیں کی گئی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات دلچسپ ہو گی شریک حیات کو ایک ڈیپینڈنٹ کے طور پر جج کے ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر کیا گیا ہے یا نہیں۔
ہائی کورٹ کے چند ججوں کے بارے میں بھی شکایت درج کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے ایک کی مبینہ طور پر برطانیہ میں جائیداد ہے۔
بار کونسل کے نمائندوں نے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے کہ حکومت کے ایسا کرنے پر کیا رد عمل دیا جائے گا۔
بیرسٹر اسد رحیم خان نے حکومت کی اس حرکت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال رکھنے کے لئے ایک متحرک اور منصف مزاج سپریم جوڈیشل کونسل ضرورت ہے۔ لیکن دستور کا آرٹیکل 209 یہ کہتا ہے کہ جج صرف اسی صورت میں ہٹایا جا سکتا ہے اگر اس کے فرائض سرانجام دینے میں جسمانی یا ذہنی معذوری حائل ہو یا وہ مس کنڈکٹ کا مجرم ہو۔ ریفرینس فائل کرنے سے پہلے موخر الذکر الزامات کی سنجیدگی اور ان کا ثابت کرنا ذہن میں رکھا جانا چاہیے۔
نوٹ: اس سے پہلے صحافی صبحیح الحسنین کی ٹویٹ کی بنیاد پر ادارہ ہم سب نے اس معاملے پر ایک خبر دی تھی جسے دیگر کورٹ رپورٹرز سے مزید معلومات حاصل ہونے کے بعد ہٹا لیا گیا ہے اور ہم اس پر معذرت طلب کرتے ہیں۔
Govt files reference against judges allegedly owning properties abroad


