بانو کا تیسرا ادبی خط۔ طبیبِ مہرباں۔ دانائے راز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

24 مئی 2019

طبیبِ مہرباں، دانائے راز

محترم جناب خالد سہیل صاحب

آداب!

جناب جوش نے پیرِ اشتراکیت کارل مارکس کو دانائے راز اور حکیمِ نو کا خطاب دیا تھا، آج بانو بھی آپ کو ویسے ہی احترام سے پکار رہی ہے۔

آپ کی پہلی چٹھی ملی، آپ نے اپنے اور رابعہ الربا کے شعور و لاشعور کی رو میں لکھی چٹھیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ دونوں کے تخلیقی سفر کا محرک جدائی تھی۔ اپنے اپنے پیاروں سے دوری اور جدائی نے آپ کے اندر چھپے تخلیق کار میں روح پھونک دی۔ آپ کے حوالے سے بانو اتنا ہی سمجھ پائی ہے کہ مادرِ وطن سے ہجرت اور والدہ سے جدائی کے نتیجے میں ملنے والا درد ہی آپ کی تخلیقی و ادبی روئیدگی کے لئے مہمیز ثابت ہوا۔

حکمت اور دانائی کے اس سفر میں عرفانِ ذات کی راہ پر چلتے ہوئے آپ نے ہست کی زمینوں اور فصیلوں کو علم اور آگہی سے منور کیا تو ایک تیسری آنکھ کھل گئی۔ وہ آنکھ جو علم، دانش اور حکمت کے حصول سے روشنی پاتی ہے، ادراک کی روشنی، فہم کی روشنی، حق کی روشنی، ایک ایسی مشعل جو دانشمندی کے سفر میں زادِ راہ ہوا کرتی ہے۔

آپ نے بیسویں صدی کے عالمی ادب میں مہاجر ادیبوں کی بات کی تو جبران خلیل کی سبھی تصانیف، نیرنگئی خیال اور خوش اسلوبی سمیت میری نگاہوں کے سامنے آ گئیں۔ شاید مہاجرت کے سبب جبران بھی ایسے ہی نوسٹیلجیا سے گزرے ہوں کہ جس کے زیرِ اثر انہوں نے ایسے فقید المثال اور عدیم النظیر شہ پارے تخلیق فرمائے۔

جدائی ہمیں جو درد عطا کرتی ہے وہی درد ہمیں اپنے جیسے انسانوں سے جوڑنے کا وسیلہ بن جاتا ہے، سچ کہئے تو یہ درد کی قوت ہی ہے کہ جس کی مدد سے ہم اپنی اور اپنے جیسے دوجے دردمندوں کی ذات کے بھید جان پاتے ہیں، اور لاشعور میں چھپی کرلاہٹوں کو سمجھ پاتے ہیں۔ درد بانٹنا بھی کسی سکھ سے کم نہیں، شاید اسی طرح درد گسار اور درد مند ایکدوجے سے ربط بنا پاتے ہیں اور درد کا احساس مندمل ہو رہتا ہے۔ فیض بھی تو کہہ گئے ہیں کہ

بڑا ہے درد کا رشتہ

طبیبِ مہرباں! آپ نے آرزو کے حوالے سے استفسار فرمایا کہ ”کیا آپ آرزو کا مقدر جانتی ہیں؟ “۔ ایسا ہے کہ آرزو جسے بانو تمنا کہا کرتی ہے وہ ہمیں جینے کی ترنگ اور جرات عطا کرتی ہے۔ اگر ہم خواب نہ دیکھیں یا تمنا نہ دہکائیں تو زندگی میں آنے والی آزمائشوں کی بیداد گری ہمیں شکستہ خاطر کرنے کو ہر آن موجود ہے۔ آپ تو راہرو ہیں اور اس بات سے بخوبی آشنا بھی کہ مسافرت (راہ نوردی) ہی سفر کا جوہر ہے نہ کہ منزل کا حصول۔ غالب بھی ایسا ہی کچھ فرماتے ہیں کہ

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم غالب

ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

بانو آپ کے لئے بہت خوش ہے کہ آپ نے اپنے ادبی دوستوں کے ساتھ مل کر ایک حلقہ ترتیب دیا ہے۔ جسے آپ ”فیملی آف دا ہارٹ“ کہا کرتے ہیں۔ بانو آپ کی طرح فیملی آف دا ہارٹ تو نہ بنا سکی لیکن اس نے ”ہارٹ تھروب آف دا فیملی“ بننے کی پوری کوشش کی اور جواباً اس کے جیون ساتھی نے اس کی ذات کے خالی حصوں کو اعتماد، محبت، ایثار، وفا اور اپنی کمٹمنٹ سے بھر دیا۔

بانو نے جو خواب محض استعاراتی طرز میں تحریر کیا تھا، وہ ایک عام عورت کے دل کی میں بسی تمناوُں کی آواز ہے۔ عورت خواہ مشرق کی ہو یا مغرب کی وہ پورا مرد جملہ حقوق کے ساتھ مانگتی ہے اور میرا حسنِ ظن کہتا ہے کہ یہ بات آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے۔

میرا ایک ساتھی کہا کرتا تھا کہ ”مرد کبھی یک جہت نہیں ہوا کرتا۔ “ وہ شاید سچ ہی کہا کرتا تھا میرا خیال ہے کہ مرد نئی راہوں کا مسافر اور ایک آزاد پنچھی ہے۔ جبکہ عورت طالبِ اختیار ہے اور وہ مختارِ کل بننے کے خواب دیکھتی ہے۔ میرا یہی ساتھی کہتا ہے کہ ”مرد کی جان احساسِ تصرف میں بند ہے۔ “ میں کہتی ہوں کہ اگر مرد کے تسلط کو قبول کر بھی لیا جائے تب بھی عورت اختیار کی خواہاں رہے گی۔ اس معاملے میں میرے ساتھی کا کہنا ہے کہ ”تعلق احساسِ اختیار تو بخشتا ہے لیکن اختیار نہیں۔ “ میں یہ گمان رکھتی ہوں کہ اس بال سے باریک فرق کو سمجھ نہ پانے والے / والیاں خسارے کا سودا کیا کرتے ہیں۔

میرے نزدیک تعلق (شادی یا محبت یا عشق) ایسی معصوم بھیڑوں کا ریوڑ ہے جسے کھونٹے سے نہیں باندھا جا سکتا۔ اسے تو پیار، محبت، چاہ اور لطف کے ساتھ منزلِ مقصود تک لے جایا جاتا ہے۔ یہ ریوڑ اعتماد اور یقین کے مرغزاروں اور چراگاہوں میں پروان چڑھتا ہے جبکہ شک اور حاکمیت کی رسی سے اس کا دم گھٹ کر رہ جاتا ہے۔

میرا پیارا شاعر جبران کہتا ہے (ترجمہ کرنے کی سعی ہے )

”محبت کچھ نہیں عطا کرتی سوائے محبت کے

اور محبت کچھ نہیں طلب کرتی ہاں فقط محبت ہی۔

یہ مختیار نہیں بنتی اور نہ ہی اسیری قبول کرتی ہے۔ محبت کے حسب دلخواہ و مکتفی تو بس محبت ہی ہے۔ جب تم محبت کرو تو یہ نہ کہو کہ خدا میرے دل میں ساکن ہے بلکہ یہ کہو کہ میں خدا کے دل کا مکین ہوں۔ ”

یہ جان کر مجھے دلی انبساط اور خوشی نے آن گھیرا کہ آپ اپنے دوست بلا تفریقِ جنس و نسل چنتے ہیں۔

طبیب مہرباں! بانو نے آج تک کوئی ایسا مرد دیکھا نہ سنا کہ جو عورت سے دوستی انسانی قدروں کی بنیاد اور احترام کے جذبے کے ساتھ نبھا پائے۔ آپ مشرقی عورت کو خود مختار، تعلیم یافتہ، صاحب الرائے، آزاد اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، کچھ ایسی ہی تمنا مشرقی عورت کی بھی ہے لیکن یہ سماج محض عورت کی مضبوطی اور تعلیم سے نہیں سدھر سکتا تاآنکہ یہاں کے مردوں پر بھی یہ اخلاقی اصول واجب کیا جائے کہ وہ عورتوں کے ساتھ تعظیم و تکریم سے معاملہ کریں گے۔

زمانۂ طالبعلمی سے ہی میرا ماننا ہے کہ انسانیت کے بڑے درویشوں میں سے ایک درویش برٹنڈ رسل بھی ہیں۔ اپنے ایک مضمون ”دا آئیڈیاز دیٹ ہارمڈ مین کائینڈ“ میں وہ انسان کو پہنچنے والی ایذا و تکالیف کو دو کٹیگیریز میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی قدرتی آفات ہے جیسے کہ زلزلہ، طوفان، سیلاب اور قحط وغیرہ جبکہ دوسری قسم ان مظالم یا آفتوں کی ہے جو ہم انسان ایک دوسرے پر ڈھاتے ہیں۔

رسل کے نزدیک انسان کے اس مکروہ رویے کا سبب اس کے اندر موجود شر کا عنصر ہے۔ انسان اپنے اندر موجود شر اور مکروہ جذبات کی گریٹیفیکیشن یا تسکین کی خاطر ہی اپنے سے کمزور انسان پر مظالم ڈھاتا ہے۔ اسی ضمن میں جب رسل خواتین کا ذکر کرتے ہیں تو ایک پرانی کہاوت لکھتے ہوئے یہ سوال اٹھاتے ہیں

A dog, a wife, and a walnut tree, The more you beat them the better they be.

”اخروٹ کے درخت کو اس طرح پیٹنے سے کس طرح کے اخلاقی نتائج حاصل ہو سکتے ہیں اس ضمن میں، میں کوئی تجربہ نہیں رکھتا ہوں البتہ یہ ضرور جانتا ہوں کہ کوئی بھی مہذب شخص بیویوں کے حوالے سے اس کہاوت کی تائید نہ کرے گا۔ “

اب رخصت لینے کا وقت آ پہنچا، بانو آپ سے اجازت چاہے گی لیکن جاتے جاتے ایک سوال آپ سے پوچھنا چاہے گی جو اسے اکثر زچ کیے رکھتا ہے کہ ہم اپنے خوف سے کیسے معاملہ کریں؟ مختلف لوگوں کو مختلف قسم کے خوف ہوا کرتے ہیں مثلا موت، اونچائی، پانی یا لڑائی کا خوف غرض کہ خوف کی کوئی بھی قسم ہو اک خوفزدہ شخص نقصان کے دکھ سے لرزتا رہتا ہے۔ ہم شاید اس شے کو کھونا نہیں چاہتے جو ہمارے پاس موجود ہے۔ (عزت، دولت، نیک نامی، رشتے، احباب، صحت، زندگی، وغیرہ) لیکن یہ دنیا اور اس سے جڑی ہر شے فانی ہے۔ کیا آپ مجھے خوف سے معاملہ کرنے کا سلیقہ اور طریقہ بتانا پسند فرمائیں گے؟

دعا گو

بانو

24 مئی 2019

خالد سہیل کا چوتھا ادب نامہ: قصہ چہار دانشور

بانو جی! شمالی امریکہ کے موسمِ بہار سے آداب عرض ہے

آپ ایک شاعرہ ہیں شاید اسی لیے آپ نے میری تعریف میں اتنی مبالغہ آمیزی کی ہے کہ مجھے ندامت ہونے لگی ہے۔ میں تو ایک ایسا طالب علم ہوں جو زندگی کے راز جاننے کا خواہشمند رہتا ہے۔ میں تو سچ کی تلاش میں نکلا ہوا ایک مسافر ہوں۔ ایک درویش ہوں۔ جب میرے دوست میری تلاش کرتے مجھے فون کرتے ہیں تو انہیں آنسرنگ مشین پر میرے چچا عارفؔ عبدالمتین یہ پیغام ملتا ہے

؎ جب کبھی آتے ہیں میرے پاس آپ

میں نکل جاتا ہوں خود کو ڈھونڈنے

میری یہ سچ کی تلاش کئی سالوں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور میری یہ خواہش ہے کہ وہ مرتے دم تک جاری رہے اور مجھے اپنی زندگی میں آپ جیسے ذہین اور دانا ہمسفر ملتے رہیں۔

اگر پہلے مجھے آپ کے دانشور ہونے پر کچھ شک بھی تھا تو وہ بھی آپ کے تیسرے ادب نامے سے بالکل دور ہو گیا ہے کیونکہ اگر آپ دانشور نہ ہوتیں تو آپ کبھی بھی ایک ادب نامے میں چار دانشوروں کا ذکر نہ کرتیں۔ حسنِ اتفاق یہ ہے کہ زندگی کے کسی دور میں مجھے بھی ان چاروں دانشوروں سے انسیت، محبت اور عقیدت رہی ہے۔ میں نے سچ کی تلاش کے سفر میں ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس ادب نامے میں اپنی چند یادیں آپ سے شئیر کرنا چاہتا ہوں۔

جب بھی میں جوش ملیح آبادی کا نام سنتا ہوں تو مجھے ان کا یہ قطعہ یاد آتا ہے جو مجھے بہت پسند ہے

؎ سنو اے ساکنانِ خاکِ پستی

صدا یہ آ رہی ہے آسماں سے

کہ آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر

غلامی کی حیاتِ جاوداں سے

میرا عاجزانہ خیال ہے کہ جوش کو وہ شہرت اور مقبولیت نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ کیا آپ میری رائے سے اتفاق کرتی ہیں؟ اگر کرتی ہیں تو آپ کی نگاہ میں اس کی کیا وجہ ہے۔

آپ نے کارل مارکس کا بھی ذکر کیا ہے۔ میری نگاہ میں کارل مارکس کے خیالات اور نظریات نے پچھلی صدی میں ساری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ چاہے وہ روس ہو، چین ہو یا کیوبا وہ سب کمیونزم سے متاثر ہوئے۔ میں تو یہ بھی سمجھتا ہوں کہ سکنڈینیوین ممالک اور کینیڈا میں سوشلزم کے اثرات بھی مارکس کے نظریات سے متاثر ہوئے

بانو جی! میں نے کچھ عرصہ پیشتر مارکس کی بیوی جینی کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا

THE PRICE OF LOVING KARL MARX

اس مضمون میں میں نے لکھا تھا کہ ایک دانشور کی شریکِ حیات بننے کے لیے جینی کو بہت سی قربانیاں دینی پڑیں۔ مارکس نظریاتی طور پر ہی نہیں نفسیاتی طور پر بھی مشکل پسند انسان تھے اور ان کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں تھا۔

جب ہم جوش ملیح آبادی کی خود نوشتہ سوانح عمری۔ یادوں کی بارات۔ پڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جوش کی شریکِ حیات کو بہت سی مصیبتوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جوش کی زندگی میں ایک ایسا دور بھی آیا کہ انہیں خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ ان کے ساتھ زندگی گزارنے سے کہیں ان کی بیگم نیم دیوانہ ہی نہ ہو جائیں۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کی حیثیت سے میں اس تکلیف دہ حقیقت سے باخبر ہوں کہ تخلیقیت کی حدت میں اتنی شدت ہوتی ہے کہ اس سے فرشتوں کے پر جل جاتے ہیں۔ اسی لیے بعض ادیب، شاعر اور دانشور یا خود دیوانے ہو جاتے ہیں اور بعض اپنے شریکِ سفر کو دیوانہ بنا دیتے ہیں کیونکہ

؎ دیوانے کے ہمراہ بھی رہنا ہے قیامت

دیوانے کو تنہا بھی تو چھورا نہیں جاتا

ادیب، شاعر اور دانشور کے من میں ایک آگ ہوتی ہے جو کبھی سلگتی ہے کبھی شعلہ بن جاتی ہے۔ ساقی فاروقی فرماتے ہیں

؎ صرف آگ پیتا ہوں

اس طرح سے جیتا ہوں

اس طرح سے جینے میں

الجھنیں بہت سی ہیں

بانو جی! آپ نے خلیل جبران کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کی کتاب۔ THE PROPHET۔ ہرمین ہیس کے ناول SIDDHARTHA۔ کی طرح میری چند پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ہے۔ محبت کے بارے میں ان کا یہ جملہ مجھے بہت پسند ہے

”DO NOT EVER THINK YOU CAN GUIDE LOVE

IF LOVE FINDS YOU WORTHY SHE WILL GUIDE YOU۔ ”

اپنے ادب نامے کے آخر میں آپ نے برٹنڈ رسل کا بھی ذکر کیا ہے۔ میری نسل کے نوجوانوں کو روشن خیالی کی تلاش میں رسل کی کتاب WHY I AM NOT A CHRISTIAN نے بہت متاثر کیا تھا۔ میں نے اس کتاب کے ایک باب کا ترجمہ اپنی کتاب۔ بھگوان۔ ایمان۔ انسان۔ میں بھی شامل کیا تھا۔

بانو جی! آپ کو رسل کے بارے میں ایک دلچسپ بات بتاؤں۔ جب میں نے ان کی کتاب۔ MARRIAGE AND MORALS کو پہلی دفعہ پڑھا تھا تو میں اس سے 80 فی صد اختلاف رکھتا تھا لیکن جب میں نے اسی کتاب کو بیس سال بعد پڑھا تو میں اس سے 80 فیصد اتفاق کرتا تھا۔ اس کتاب کو دوبارہ پڑھنے سے مجھے اپنی سوچ میں اہم تبدیلیوں کا احساس ہوا تھا۔

بانو جی۔ اب میں متجسس ہوں کہ آپ مجھے بتائیں کہ پچھلے پندرہ بیس برس میں آپ کی سوچ میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ اور آپ اتنی چھوٹی عمر میں کیسے اتنی بڑی دانشور بن گئی ہیں؟ آپ کی تخلیقات اور ادب نامے پڑھ کر مجھے خوش گوار حیرت ہوتی ہے۔

آپ نے خوف کے بارے میں سوال پوچھا ہے۔ یہ ایک گھمبیر سوال ہے۔ میرا مختصر جواب یہ ہے کہ بہت سے ماں باپ انجانے میں اپنے خوف بچوں میں منتقل کردیتے ہیں۔ چاہے وہ جہنم کا خوف ہو یا موت کا۔ تنہائی کا خوف ہو یا اکیلے سفر کرنے کا۔ ایسے خوف سے پیچھا چھڑانے کے لیے یا تو اپنی تحلیلِ نفسی کرنی پڑتی ہے یا کسی تھیریپسٹ سے کروانی پڑتی ہے۔ کسی دانشور کا کہنا ہے

”THE ONLY THING TO FEAR IN LIFE IS FEAR ITSELF۔ “

آپ کے اگلے ادب نامے کا انتظار رہے گا۔

آپ کا ادبی ہم سفر

خالد سہیل

25 مئی 2019

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •