مسیحائی کی آڑ میں کاروبار
میڈیکل ایک ایسی فیلڈ ہے جس میں شامل ہونے کا خواب زیادہ تر نوجوان دیکھتے ہیں۔ والدین کی بھی اپنی اولاد کے لیے یہی خواہش ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں تو یہ محض والدین کی ہی خواہش ہوتی ہے۔ جس کی چکی میں ایک نوجوان پستا ہے۔ خیر یہ ایک الگ غور طلب موضوع ہے۔ بظاہر اس خواہش یا خواب میں کوئی برائی نہیں۔ لیکن جب غور کیا جائے کہ کیوں زیادہ تر والدین اپنی اولاد کے لیے اس پیشے کا انتخاب کرتے ہیں، تو جو وجوہات میرے سامنے آئیں وہ یہ ہیں کہ اس فیلڈ کا سکوپ (scope ) کبھی کم نہیں ہوتا بلکہ آبادی بڑھنے کے ساتھ ڈاکٹر کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ ہوں گے اتنے ہی زیادہ مریض۔ اس پیشے میں پیسہ، عزت یہاں تک کے اچھا رشتہ بھی باآسانی دستیاب ہوتاہے۔ لڑکیوں کو اس فیلڈ میں لانے کی ایک اہم وجہ بھی یہی ہے۔
لیکن ان وجوہات میں بھی کوئی برائی نہیں۔ کیونکہ ایک ڈاکٹر اس پیشے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جتنی محنت کرتا ہے، اپنی زندگی کے اہم دن و رات وقف کرتا ہے وہ ان سب کا حقدار ہے۔
مسلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ وجوہات اس پیشے کا اصل مقصد دھندلا کر دیں۔ ڈاکٹر مریض کو شفا کا طلبگار نہیں محض پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھے۔ جس کا مکمل علاج اس کے لئے ہر چیک اپ پر ملنے والے 1500 کا خاتمہ ہو۔
میرے حلقہ احباب میں ایک ڈاکٹر جو کہ اپنے پیشے میں بہت ماہر ہیں، کو میں نے ایک دفعہ کہتے سنا کہ جب ہمارے کلینک میں کوئی مریض آتا ہے تو ہم اسے ایسی دوائی دیتے ہیں جو اس کا وقتی علاج کرے۔ یعنی وہ وقتی سکون اس کا ہم پر بھروسا قائم کرے اور جب دوبارہ تکلیف ہو تو وہ ہماری ہی پاس آئے۔ یعنی ہماری دکان کا مستقل گاہک بن جائے۔
ڈاکٹر کو مسیحا کہا جاتا ہے۔ یعنی نجات دہندہ جو لوگوں کو مصیبتوں سے نجات دلائے۔ لیکن یہ کیسا مسیحا ہے جو مسیحائی کے لبادے میں دکان چلا رہا ہے۔
میرے نزدیک اس کی اہم وجہ وہ خودغرضی ہے جو آج کل ہر انسان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جس پیشے سے منسلک ہوں اس کے تقاضوں کو سمجھیں اور انھیں پورا کریں۔ خاص کر اگر وہ پیشہ مسیحائی جیسا افضل ہو تو ہمیں اسے دکاندار کی طرح نہیں انجام دینا چاہیے۔


