کیا میں کافر ہوں؟
تیرگی میں تو نے اتاری ہے روشنی
اب خود اتر کہ آ کہ سیاہ تر ہے کائنات
اپنی تمام تر دلیری اور حاضر جوابی کے باوجود سب سے زیادہ مشکل جس سوال کا جواب دینے میں آ تی ہے۔ وہ ہے آپ کاتعلق کس فرقے سے ہے؟ الحمدللہ مسلمان ہیں کہنے سے کچھ جہلا تو مطمئن ہو جاتے ہیں مگر مجال ہے جو کوئی صاحب عقل اس سادہ و مختصر جواب پر راضی ہو جائے اور جب اس قبیل کے عقل کل کو بتایا جائے تو اگر موصوف خود بھی ہم عقیدہ ہوں اس صورت میں تو بچت ہی بچت! بصورت دیگر پہلے تو بے چینی سے پہلو بدلا جاتا ہے اور غیر محسوس سا فاصلہ مشاہدے میں آتا ہے۔
چلیں یہ صورت حال بھی گوارا ہے بات تکلیف دہ اس وقت ہو جاتی ہے جب خدانخواستہ مد مقابل حجتی بھی ہو اور کسی معروف ”عالم دین“ کے مواصلاتی ارشادات کہ زیر اثر ہواور یہ ان ارشادات کو رائے عامہ تک پہنچانا اپنی دینی وملی ذمہ داری سمجھتا ہو۔ سب سے پہلے پوری کوشش کی جاتی ہے کہ مد مقابل تسلیم کر لے کہ وہ کافر ہے اور اس عقیدتی افلاطون کے سامنے ہی تائب ہو کر نئے سرے سے داخل اسلام ہو جائے۔ آج کل تو یہ وباء بے حد عام ہے جسے دیکھو فیس بُک کا اسلام پھیلانے میں مصروف ہے منت مانگنا، یہ تو گناہ ہے مزار پر حاضری، یہ تو بدعت ہے محفل میلاد، نہ بھئی دین کو خراب کررہے ہیں صلوت و سلام، اس کی تو گنجائش نہیں دین میں مرثیہ و ماتم، یہ تو کفر ہے۔ نذر نیاز، کو نہیں مانتے لو بھئی مر گئے مردود فاتحہ نہ درود الغرض ایسی ایسی موشگافیاں سننے کو ملتیں ہیں کہ الامان الحفیظ۔ کہاں وہ حرف جنہیں آگہی کہیں ناصر
بارہا قائل کرنے کی ناکام کوشش کی! کہ اے بندہ خدا ان چھوٹے چھوٹے اختلافات میں کیا رکھا ہے۔ اگر منت سے کسی کے دل کی مراد پوری ہو گئی تومان لینے میں کیا مضائقہ ہے۔ اگر درگاہوں پر بیٹھنے سے کسی بے قرار دل کو قرار ملتا ہے تو آپ کیوں بے قرار ہورہے ہیں۔ اگر نعت گوئی کرنے سے کسی کی روح سرشاری ہوتی ہے تو آپ کیوں ناشاد ہیں۔ اگر نوحہ ومرثیہ پڑھ کر کوئی آل رسول ( ص) کو پرسہ دے رہا ہے تو آپ کیوں واویلا مچا رہے ہیں۔ انسانوں کو ان کی عقیدتوں کے ساتھ جینے دیں۔ جنت کسے ملے گی یہ فیصلہ خالق پر چھوڑ دیں۔ مگر جناب کیا مجال ہے کہ یہ بقراط مان جائیں۔ من حیث القوم ”میں نہ مانوں“ کی بیماری ایسی شدت سے حملہ آور ہوتی ہے اک محشر سا برپا کر دیتے ہیں فرزانے!
اف کیا بتاؤں اک جنگ سی برپا کر دی جاتی ہے اپنی دلیل کو وزن دینے کے لئے ضعیف حدیثوں سے لے کر من گھڑت اقوال و فرمودات کا ایسا ذخیرہ فراہم کیا جاتا ہے کہ ذخیرہ اندوز بھی شرما جائیں۔ لہذا میں نے تو بہترین راہ فرار ڈھونڈ لی ہے آپ چاہیں تو استفادہ کر سکتے ہیں! ٹھہریں سن تو لیں اب کوئی مجھ سے عقیدے کے بارے میں استفسار کرتا ہے تو میں جواب دیتی ہوں "میں کافر ہوں”۔


