سیاسی دلدل
افلاطون نے کہا تھا ”سیاست سے کنارا کشی کا انجام یہ ہوگا کہ تم سے بدتر لوگ تم پر حکمرانی کریں گے“
دیکھا جائے تو افلاطون کی یہ بات سو فیصد درست بے لیکن شاید افلاطون کو یہ نہیں پتا تھا کے ایک ایسی قوم بھی آئے گی جہاں سیاست میں حصہ لینے پر نیک سے بد ہونا لازمی ہوجاتا ہے۔ جہاں آپ سیاست دان نہیں کہلاوُ گے کے جب تک آپ کا کوئی سکینڈل سامنے نا آجائے، جہاں مخالفین کو گالیاں دینے پر آپ کو مہارت حاصل نا ہوجائے، جہاں آپ کو دوسرے کی کردہر کشی کرنی نا آجائے اور مزید بھی بہت ساری خوبیاں ہے مملکت خدا داد پاکستان کے اہل سیاست کی جس کو بیان کرنے لگو تو لکھتے ہوئے قلم بھی شرما جائے۔
سیاست ایک ایسا شعبہ ہے جس کے ذریعے آپ ریاست کے معاملات میں اپنی رائے شامل کرواتے ہو۔ کوئی کام یہاں سیاست کے بغیر نہیں ہوتا۔ سماجی، معاشی، مذہبی الغرض جتنے بھی معاملات ہیں سیاست کے بغیر نا ممکن ہیں۔ لیکن پھر وہی بات کے وطن عزیز کے سیاست دانوں نے اس شعبہ کے چہرے کو بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشیاں، ماں بہنوں کی عزت کو اچھالنا تو معمول بلکے سیاست کا حصہ بن چکا ہے یہاں۔ ایک دوسرے کو برے القابات سے نوازنا ان اہل سیاست کا وتیرا بن چکا ہے۔
کوئی کسی کو کھلنڈرے نیازی کہ رہا ہے تو کوئی صاحب کو صاحبہ بنا بیٹھا ہے۔ کسی کو شوباز کہا جا رہا ہے تو کسی کو ٹریکٹر ٹرالی پکارا جا رہا ہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کے اکثر یہ بیان کردہ القابات پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر عوام کے منتخب کردہ نمائندے، عوام کے ہی منتخب کردہ نمائندوں کو دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ لوگ کے جن کو عوام اسمبلی بھیجتی ہے کے یہ ہمارے لئے قانون سازی کریں گے، ہمارے زخموں پر مرہم رکھیں گے وہ لوگ تو ایک دوسرے کے کردہروں کو ادھیڑے بیٹھے ہوتے ہیں اسمبلی کے اندر۔ گویا اسمبلی نا ہوگئی شاید مچھلی بازار ہوگیا۔
ابھی یہ سلسلہ سیاستدانوں کے درمیان جاری تھا کے پھر آگیا سوشل میڈیا اور پھر سب اس حمام میں ننگے ہو گئے۔ وہ لوگ جو اپنے علاقے کی مسجد کے بجائے ٹی وی پے اذان سن کر روزہ کھولتے ہیں وہ بھی سوشل میڈیا پے دانش واری دکھانے لگے اور مخالف جماعت کے لوگوں کی ذات کے پرخچے اڑانے لگے۔ بحث سیاست پر شروع ہوتی ہے اور ختم ذاتی زندگی پر ہوتی ہے۔ کسی کی کوئی بات ہضم نا ہوئی تو اس کی ماں بہنوں کی تصاویر فوٹو شاپ کرکے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرنے والی لت نے اس ملک کی سیاست اور اخلاقیات کا بیڑا غرق کردیا۔ اور یوں سوشل میڈیا اور وہ عمارت کے جس کے ماتھے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اس دوڑ میں شامل ہوگئے کے کہاں زیادہ گالیاں دی جاتی ہیں۔
ابھی پاکستانی سیاست کی خوبیاں ختم نہیں ہوئی ہیں کے اب تو یہاں کسی کی موت پر ہنسنا، طعنے کسنا، مذاق اڑانا ایک فیشن بن چکا ہے۔ اس کی تازہ مثال پیپلز پارٹی کے جواں سال بیٹے کی حادثاتی موت ہے کے جس پر ایک مخصوص طبقہ کی جانب سے شدید مذاق اڑایا گیا اور افسوس کے اس طبقہ میں اکثریت کا تعلق حکمران جماعت سے دکھائی دیا۔ مذاق یہ کھ کر اڑایا گیا کے قمر زمان ایک ایسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے کئی ماؤں کے لعل چھینے ہے تو سوال ہے کے کسی پارٹی یا کسی شخص کے اعمال کا کسی شخص کی موت سے کیا تعلق ہے کے انسانی جان تو سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ خیر جانے دیجئے کے ایسے واقعات پر ایسا رد عمل نیا تو نہیں ہم نے تو علی رضا عابدی والے واقعہ پر بھی کچھ ایسا ہی رد عمل دیکھا تھا۔
پر کیا کریں لبوں پر آنے والے شکوؤں کو دل میں ہی دفن کر دیا کرتے ہیں کے صاحب ڈر لگتا ہے کے کہیں ہم بھی اس دلدلی سیاست میں پھنس نا جائیں۔
بس ایک گزارش کر سکتے ہیں اپنی سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے کے اپنے کارکنوں کی تربیت کیجئے۔ تربیتی نشست کا اہتمام کیجئے۔ ہم نے دیکھا کے نوے کی دہائی میں ایسی نشتوں کا اہتمام ایم کیو ایم کی جانب سے اپنے کارکنوں کے لئے ہوتا رہا ہے۔ اور سب اس بات کے گواہ بھی ہیں کے چاہے ایم کیو ایم کتنی ہی بری کیوں نا ہو لیکن ان کے کارکنوں کا نظم و ضبط مثالی تھا۔
اپیل ہے اپنے پاکستانی بھائیوں سے خدارا اس دلدل سے باہر نکلیں۔ جیتنا ہے دلائل کے ذریعے جیتیں۔ کامیابی حاصل کرنی ہے تو مخالفین کو گالیاں دینے کے بجائے صبر و تحمل والا راستہ اختیار کریں۔ ہمارا تو مذہب بھی ہمیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے۔ محبت سے محبت کیجئے اور نفرت سے نفرت کرنا سیکھئے۔ وسلام


