حکومتی بے توجہی، عوامی جہالت اور پانی کی آلودگی
موسمیاتی تبدلوں کی وجہ سے دنیا کے جو خطے پانی کی قلت کا شکار ہوں گے اس میں پاکستان کا نام سرفہرست ہے۔ مستقبل قریب میں ہمیں بہت بڑی موسمیاتی تباہی کا سامنا کرنا ہے اور یہ تباہی یوں نہیں ٹل سکتی کہ ہم پلاننگ اور تیاری کیے بغیر اپنی پرانی بات کو دُہراتے رہیں کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ مشاہدے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ رزق کی کمی صرف انہی لوگوں یا علاقوں میں ہی ہے جن کے لوگوں نے کوئی عملی اقدام کیے بغیر صرف اسی بات پر اکتفا کیا کہ رزق اللہ دیتا ہے۔
دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور نیم ترقی یافتہ ممالک میں پانی اور آبی حیات کے تحفظ کے لیے ایک ادارہ موجود ہوتا ہے جس کو سنٹرل واٹر باڈی کہا جاتا ہے۔ یہ ادارۂ ماحولیات کے تحت کام کرتا ہے سنٹرل واٹر باڈی پورے ملک کے پانی کے وسائل کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ یہ اپنے لوگوں کو صاف ستھرا پانی میسر کرتی ہے۔ اور دریاؤں نالوں اور سمندر کو آلودگی سے بچاتی ہے۔
برطانیہ میں بھی دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کی طرح یہ پانی کے بندوبست کا ذمہ دار ادارہ ہے جوکہ انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا سب سے اہم حصہ ہے ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کنوئں اور ٹیوب ویل کا پانی صاف اور صحت کے لیے اچھا سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کنوین یا ٹیوب ویل کا پانی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے کیونکہ اس میں نائٹریٹ کاپر اور دیگر زمینی عناصر شامل ہوتے ہیں اس کے برعکس بارش یا دریا کا پانی صاف ستھرا ہوتا ہے اور اسمیں صرف بیکٹریا پایا جاتا ہے جس کو ٹریٹ کرکے صاف کرنا آسان ہوتا ہے۔
دنیا کے زیادہ تر ممالک دریاؤں اور جھیلوں کا پانی ہی پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انگریزوں کے زمانے میں صرف دریائے باڑہ کا پانی ہی پینے کے لیے انگریز استمعال کرتے تھے اور ان کا کوئی واٹر ٹریٹمنٹ سنٹر پشاور میں بھی تھا۔ جو اب غالبا ناپید ہوچکاہے
برطانیہ میں سنٹرل واٹر باڈی مختلف شہروں اور علاقوں میں مختلف دریاؤں سے مختلف کمپنیوں کو لائسنس جاری کرتی ہیں مثلاً لندن میں ٹیمز واٹر یا ساوتھ ہیمپشائر میں سدرن واٹر، سسکس واٹر وغیرہ وغیرہ۔ حکومت ان کمپنیوں کو آیک خاص مقدار میں قریبی دریا سے ضرورت کے مطابق پانی لینے کی اجازت دیتی ہے مثال کے طور پر سدرن واٹر دریائے ایچن سے اتنے لاکھ گیلن پانی یومیہ لے گی۔ وہ پانی پھر ٹریٹمنٹ سنٹر جاتا ہے جھاں پر صاف ہوکر پہر گھروں میں مہیا کیا جاتا ہے۔ یہی پانی جب گھروں میں کچن ٹوائلٹ وغیرہ میں آلودہ ہوتا ہے تو سیورج کے پائپوں کے ایک جال کے ذریعے ریسائیکل سنٹر میں چلا جاتا ہے جھاں پر ایک بارپہر تمام غلاظتوں سے صاف کرکے دوبارہ صاف سُتھرا پانی اُسی دریا میں بہا دیا جاتا ہے۔ اور صارفین کو استعمال کے مطابق کمپنی بل بھیجتی ہے۔
اس طرح آبی حیات کو خطرہ نہیں ہوتا اور تمام دریا صاف ستھرے رہتے ہیں یہ واٹر ریسائیکل سٹر اور واٹر ٹریٹمنٹ سنٹر پورے ملک میں ہر جگہ موجودہوتے ہیں۔
چند سال پہلے ایک سیورج پائپ لیک ہوگئی تھی جس کی وجہ سے کئی دنوں تک قریبی ساحل ِسمندر کو لوگوں کے لئے بند کیا گیا کیونکہ سیورج کے پانی سمندر تک پہنچنے کا خطرہ موجود تھا جس سے بیماری پھیل نے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔
ہمارے ہاں بد قسمتی سے پانی کے متعلق آگاہی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ نہ ہی پینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام ہے۔ جس کی وجہ سے گھر گھر مختلف بیماریاں پھلتی رہی ہیں اوپر سے غضب یہ ہے کہ حکومت میں بیٹھے لوگ نہ تو خود اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور نہ سمجھدار لوگوں کو آنے دیتے ہیں۔ نہ اج تک ان کے پاس کوئی واضح پلاننگ ہے۔ بیس سال پہلے جو ندی نالے گاؤں کے مسجدوں کے بیچوں بیچ گزرتے تھے اس سے نہ صرف لوگ وضو اور غسل کرتے تھے بلکہ اس کو پی بھی سکتے تھے اج پینا تو درکنار ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے کیونکہ پورے گاؤں کے ٹائیلٹ کے گٹروں کا اخراج ان ہی ندی نالوں میں ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر اپ پشاور کے مختلف بازاروں سے ہوگزریں تو آپ کو ان چھوٹی بڑی نالیوں میں انسانی غلاظت تیرتی ہوئی نظر اے گی۔ یہ چھوٹی بڑی نالیاں شہر کے بڑے سیورج میں گر کر باہر ایک گندے اور بہت بڑے نہر کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ایسی ایک نہر دلا زاک روڈ کے کنارے جاتی ہے جس کو میں نے خود گلوزئی، مامدز ئی اور پہر دلہ زاک سے گزر کر دریائے کابل میں گرتے دیکھا ہے۔ اسی طرح پشاور کا سب سے بڑاڈرین بھی دریاے کابل میں ہی گرتا ہے۔
جھاں جھاں سے یہ گندگی اور غلاظت کا دریا گزرتا ہے وہاں میلوں بد بو پھیلی ہوتی ہے۔ میرے خیال میں دریائے کابل میں اگر کوئی دوسری آلودگی نہ بھی ہو اس کو آلودہ کرنے کے لئے صرف یہی ایک گندی نہر کافی ہے۔ اس طرح پشاور سے نوشہرہ تک دریا ے کابل کے کنارے آباد لوگ اس سے بُری طرح متاثر ہوکر مختلف بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں۔ یہی حال دریاے باڑہ اور پشاور کے اردگرد تمام چھوٹے بڑے دریاؤں نالوں اور نہروں کا ہے۔
حیات آباد کارخانو سے جو نالہ گزرتا ہے پتہ نہیں کون کون سے کیمیکلز اس میں شامل ہوتے ہیں پیر بالا ورسک روڈ کے پاس پہنچ کر اس میں ماربلز فیکٹریوں سے اخراج شدہ آلودہ پانی بھی مزید شامل ہوجاتا ہے۔ یہ کچھ عرصہ پہلے صاف ستھرا نالہ تھا جس کا پانی اب انتہائی غلیظ اور بدبودار ہے۔ اسی طرح متھرا سے گزرنے والے دو بڑے نالے بھی تیزی سے آلودہ ہورہے ہیں۔ اب عوام کریں تو کیا کریں؟ کیونکہ یہ عوام کے بس کی بات نہیں ہے۔
پینے کا صاف پانی عوام کو میسر کرنا اور دریاؤں کو صاف رکھنا ہر جگہ حکومت ہی کا کام ہوتا ہے لیکن عوام کو بھی جس شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے اُس سے ہمارا بھی خدا واسطے کا بیر ہے۔ ہمیں اپنے فضول قسم کے بحث مباحثوں سے وقت ملے تو کچھ سیکھ سکیں۔ سوشل میڈیا پر جھاں ہر کوئی کالا باغ ڈیم کے لئے باجوہ اور چیف جسٹس تک یہ پوسٹ پہنچنے کے لیے دھڑا دھڑ شئیر کرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں ادھرہر دوسرا پاکستانی انڈیا میں ٹائلٹ نہ ہونے پر بھی پھولے نہیں سما پاتا جبکہ ان کو اپنے بارے میں جاننے کی بالکل ضرورت محسوس نہیں ہورہی کہ اپنے گھر کے جس ٹائلٹ پر جتنا اِتراتا ہے اُسی کا پانی پینے پر مجبور ہے۔ کاش ہمارے ہاں بھی انڈیا کی طرح ٹائلٹ نہ ہوتے لیکن اس کی جگہ شعور ہوتا۔ ہم اپنے ہاتھوں خود اپنے ندی نالے چشمے اور دریا نہ قتل کر رہے ہوتے۔ ہم باقی دنیا کی طرح رائٹ ڈائریکشن میں جارہے ہوتے تو وہ دن دور نہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں محفوظ ٹائلٹ بن جاتے جو ماحول کو اس طرح آلودہ نہ کر رہے ہوتے۔


