بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں پی ٹی ایم کے خلاف علی محمد خان کی تقریر سن کر مشتعل ہو گئے


قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت جاری تھا کہ علی محمد خان کی تقریر کے دوران اپوزیشن مشتعل ہو گئی۔ بلاول بھٹو مائیک بند ہونے کے باوجود اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور نہایت جذباتی انداز میں تقریر کی۔ بلاول بھٹو کے تاثرات سے اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ وہ بہت اشتعال میں تھے ۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پرڈوکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے انہیں قومی اسمبلی میں بلایا جائے تاکہ وہ اپنا موقف پیش کر سکیں۔ تاہم علی محمد خان اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے غدار اس ایوان میں بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں۔ انہوں نے پاک فوج پر حملہ کیا۔ ہم اپنے جوانوں پر حملے کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے۔ جو پاکستان کی جڑیں کاٹیں گے، ہم ان کی جڑیں کاٹ دیں گے۔ علی محمد خان کا کہنا تھا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کی رکنیت معطل کی جائے۔ جو پاکستان کے جھنڈے کو نہیں مانتا، اس کے یہاں رہنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

علی محمد خان کی تقریر پر بلاول بھٹو زرداری شدید جذباتی ہو گئے اور اپنی نشست سے کھڑے ہوکر مائیک بند ہونے کے باوجود تقریر شروع کر دی اور ان کا انداز بیان نہایت ہی غصیلا تھا۔ اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر کے ڈائس کا گھیراﺅ کیا اور نعرے بازی کی ۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ہے ۔

Facebook Comments HS