یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید


خالق حقیقی کے کن کہہ دینے سے زمان ومکان کی تخلیق ہوئی جس کے بعد اللہ کے امر کے نتیجے ہی میں ناری مخلوق اورپھر جمادات و نباتات اور حیوانات کے ارتقائی مرحلوں سے گزرنے کے بعد انسان کی تخلیق تکمیل تک پہنچی، جو اپنے اندر روحانی پہلو رکھنے کے باعث اشرف المخلوقات ٹھہرا اور اپنی جبلتوں کی تسکین کے لیے اس نے کائنات کو تسخیر کرنا شروع کر دیا۔ انسان کی خود کو ترقی دینے اور بہتر سے بہتر بنانے کی جستجو نے ہر زمانے کو ایک الگ روپ سے نوازا اور آج لاکھوں سال گزر جانے کے باوجود بھی ہم اسی کوشش میں ہیں کہ کسی طرح اپنے مستقبل کو ایک نیا رنگ دے سکیں۔ صرف ہم ہی نہیں بلکہ پوری کائنات اور اس میں پائے جانے والے مظاہر ِفطرت میں مجموعی تغیر و تبدل اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایجاد اور تخلیق کا عمل ابھی تک جاری ہے۔ اسی صورتحال کو اقبال نے اپنے کلام میں کچھ اس طرح قلم بند کیا ہے :

؎ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں

لیکن کائنات کے ناتمام یعنی مکمل نہ ہونے کا تصور صرف یہی تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے فکری ارتقا کے ساتھ بھی براہِ راست جڑا ہے۔ لہذا ان تمام پہلوؤں کا ایک مختصر جائزہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔

آج یہ ایک حقیقت ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز ساکت نہیں ہے، بلکہ کائنات خودکسی نامعلوم منزل کی طرف مسلسل پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ جیسا کہ اربوں کہکشاؤں میں سے ملکی وے کہکشاں اوراس میں ہمارے نظامِ شمسی میں موجود تمام چھوٹے بڑے سیاروں اور سورج کامختلف مداروں میں تیر نا۔ اسی حوالے سے قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے : (الذاریات، آیت 47 ) ، اور آسمان کو ہم نے ہی بنایا ہے اور بے شک ہم وسعت دینے والے ہیں۔

لہذا خدا تعالیٰ مسلسل نئے نئے حالات اور نئی اشیاء خلق کرتا ہے، اِس لئے کائنات میں ”کن فیکون“ کا عمل ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات مکمل ہونے کی جستجو میں ہے۔ علاوہ ازیں اگر ہم اپنے اردگرد موجود مظاہرہ فطرت پر بھی غور کریں تو تغیر کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ موجود ملتا ہے جو کہ کسی چیز کے ادھورے پن کا ثبوت ہے۔ کیونکہ جب کوئی چیز اپنی کامل حیثیت کا پہنچ جاتی ہے تو اس میں تبدیلی کا عمل تھم جاتا ہے۔

لہذا آج بھی ہمارے سامنے موسم بدلتے ہیں، نئے رنگ بکھیرتے ہیں، چیزیں نمو پاتی ہیں اور پھر معدوم ہو جاتی ہیں۔ بیج سے جڑیں پھوٹتی ہیں، جڑیں تنا بنتی ہیں، تنوں سے شاخیں نکلتی ہیں، شاخوں پہ پتے سجتے ہیں، پتوں کے آنگن میں پھول نکلتے ہیں، اور پھول فضا میں خوشبو پھیلاتے ہیں اور پھر پل بھر میں سر سبز و شاداب باغ خشک پڑجاتے ہیں۔ کبھی دریا اپنی روانی میں آکر بنجر زمین کو سیراب کردیتے ہیں تو کبھی مخلوق ِخدا بوند بوند پانی کو ترستی ہیں۔

کبھی سورج کہ پہلی کرن سے زندگی کو افزائش ملتی ہے تو کبھی انھی کرنوں کی تپش جسم کو جھلسا دیتی ہے۔ کئی زندگیاں ہر روز جنم لے رہی ہیں اور کئی جانیں موت کی آغوش میں لپٹتی چلی جا رہی ہیں۔ اسی سبب آج بھی ہم دن کے اجالے اور رات کی تاریکی کا یکے بعد دیگرے نظارہ کر رہے ہیں۔ ا س لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ

؎سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

یعنی قدرت میں سکوں محال ہے، تبدل و تغیر زمان کا خاصہ ہے، یہ ہر دم ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور ہمیشہ ایک نئے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔

اسی تصور کو بحیثیتِ انسان ایک الگ پہلو سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انسان کی زمین پر آمد کے بعد سے ہی مخلوق ِخدا زمین کے خدو خال میں مسلسل تبدیلی کا نظارہ کر رہی ہے، جس کا سبب انسان کی خود کو بہتر بنانے، معاملات زندگی میں آسائش لانے اور اپنی عقل کی تسکین کے لیے جستجو ہے، جو کہ ابھی تک جاری ہے۔ انسان کا وجود جب قدرت کے جبر تنِ تنہا سہتا تھا تو اس کے اعضاء قدرت کی سختیوں کی وجہ سے اسے جھیلنے کے قابل ہونے لگے، اور پھر قدرت کے تقاضوں کے مطابق ڈھل جانے میں اس کو لاکھوں سال لگے۔

پھر اوزاروں کے استعمال، آگ کی دریافت سمیت کئی چیزوں سے واقفیت پر اس کی زندگی قدرے سہل ہوگئی اور اس نے ایک خاندان کی تشکیل پر توجہ دی اور پھر ایک جوڑے سے خاندان، اس سے قبیلہ اور اس سے معاشرہ تشکیل ہوا۔ مل جل کر رہنے سے متعدد خیالات نے جنم لیا۔ کھیتی باڑی سے معاش کا مسئلہ حل ہوا تو انسان کو کئی چیزیں سوچنے کا موقع ملا اور آج کہاں غاروں میں رہنے والا، گھوڑوں پہ سفر کرنے والا، اور تلواروں سے لڑنے والا انسان آج بلند و بالا عمارات، تیز ترین طیاروں اور ایٹم بم کی تخلیق پر مطمئن نہیں اور اب زندگی بخشنے والے کسی نئے ستارے کی تلاش میں بہت دور نکلتا جا رہا ہے، جو غالب کے اس شعر کی کھلی تشریح ہے کہ

؎ بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

آج دنیا میں ہزاروں زبانیں موجود ہیں، ہزاروں مختلف ثقافتیں مقبول ہیں اور کئی قومیں اپنے رہن سہن، چال چلن، خوراک، لباس اور دیگر کئی پہلوؤں میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فرق مزید واضح ہوتا جا رہا ہے۔ لہذا یکسانیت سے انسان کی بیزاری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ محض تبدیلی کے لئے اچھی چیزوں کو کمتر چیزوں کے بد لے تبدیل کرنے کی بھی خواہش کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب، معاشرت، اور معاشیات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کا رخ اب سب سے مختلف ہے۔

نظریات بھی اب جدید سے جدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔ فلسفہ، ادب، سائنس سمیت تمام علوم کی ہیئت میں روز بروز ایک نیا رنگ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ سب ارتقاء کا ہی حصہ ہے اور یہ امر حقیقت ہے اس کو کوئی جھٹلا بھی دے تو اس کے دھارے سے نہیں نکل سکتا۔ لہذا ان تمام تبدیلیوں کا موجود ہونا اس بات کی نشانی دہی کرتا ہے کہ کائنات میں نئئی چیزوں کو قبول کرنے کی گنجائش موجود ہے اور کاملیت کے اس سفر میں وہ نئی تبدیلیاں قبول کرتی رہی گی۔

لہذا جب کائنات مسلسل تغیر و تبدل کے مراحل سے گزر رہی ہے، ایسے میں اس کے مستقبل کا مکمل ادراک کرنا ہمارے بس میں نہیں، البتہ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے اس دنیا کے کسی بھی نئے روپ کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اسی لیے ہماری ساری کوششیں ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے ہوتی ہیں۔ تاہم اگر صرف ایک فرد کی بات ہی کی جائے تو بھی صورتحال کسی قدر مختلف نہیں کیونکہ تقریباً ہر شخص خود کو بہتر بنانے میں مصروف ہے۔

ہماری ساری دلچسپیاں، ہمارے سارے کارنامے، ہماری ہر کوشش کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم کسی طرح سے اپنی موجودہ حیثیت سے نکل کر ایک بہتر روپ میں ڈھل سکیں۔ البتہ یہ بات بھی یقینی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی ذات میں مکمل نہیں ہوتا کیونکہ جہاں کسی شخص میں ہمیں متعدد خوبیاں ملتی ہیں وہیں کئی خرابیاں میں موجود ہوتی ہیں۔ بقول شاعر،

؎ کوزے بنانے والے کو عجلت عجیب تھی

پورے نہیں بنائے تھے سارے بنائے تھے

البتہ ایک بہتر زندگی گزارنے کا قاعدہ یہی ہے کہ ہم بدرجہ اتم اپنے کل کو بہتر بنانے پر دھیان دیں۔ کیونکہ اسی میں انسان کی ترقی کا راز میں پوشیدہ ہے۔ شاید اسی وجہ سے مایوسی کو ایک گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس کے برعکس ہر حال میں اللہ کا شکربجالانے اور صبر سے کام لینے کی تلقین کی گئی ہے۔ کیونکہ امید ہی وہ واحد سہارا ہے جس کی مدد سے انسان بڑی سے بڑی پریشانی کا ہنس کا مقابلہ کر پاتا ہے اور زندگی کا مقصد پا لینے میں کامیا ب رہتا ہے۔ لہذا اقبال کا یہ پیغام ہمیں ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ

؎اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

سر آدم ہے، ضمیر کن فکاں ہے زندگی

خلاصہ بحث یہ ہے کہ کائنات نہ صرف حرکت پزیر ہے بلکہ یہ ہر روز کسی نہ کسی چیز کے اضافے کے بحث بڑھتی بھی چلی جارہی ہے اور شاید اپنے اس سفر کی تکمیل کے لئے وہ لفظ ’کن‘ کی محتاج ہے۔ دوسری طرف انسان اپنی ایک الگ نئی دنیا بسانے کے لیے سر گردا ں ہے، البتہ اس کی یہ کوشش بھی لفظ ’کن‘ کی ہی دوسری اللہ کی رضا اور رحمت کے سبب ہی ممکن ہے۔

Facebook Comments HS