بڑی طاقتوں کے حکمرانوں کو تاریخ کون پڑھائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدقے جاؤں کیسے ہیں یہ بیچارے راندۂ درگاہ فلسطینی۔ اِن بڑی طاقتوں اور ان کی حلیف چھوٹی چھوٹی ترقی یافتہ طاقتوں سے کیسی کیسی امیدیں باندھتے ہیں۔ اپنے موقف کو دنیا کے سامنے زندہ رکھنے کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلتے رہتے ہیں۔ ابھی ایک دن قبل کی خبر بڑی خوش آئند تھی اُس کاز جس کے لیے یہ بدقسمت قوم لگ بھگ پون صدی سے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے۔ جیلوں میں سالوں پر پھیلے ایام میں نوخیز جوانیوں کو گلتے سڑتے دیکھتے، ذلت کے نئے رنگ اور انداز سہتے، بیٹے سے باپ، باپ سے دادا اور دادا سے پردادا بنتے ہوئے ایک زمانہ گزار بیٹھے ہیں۔

خبر تھی کہ جمہوریہ چیک نے اپنا سفارت خانہ یروشلم سے واپس تل ابیب منتقل کرنے کے فیصلے کے اعلان کردیا ہے۔ فلسطینیوں نے اِس کا والہانہ خیر مقدم کیا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ ہم جیسے بے مایہ سے پاکستانی جن کی قسمتوں میں اِس مسلم امہ کی بے بسی پر جلنا کڑھنا ہی لکھا گیا ہے بھی تھوڑا سا خوش ہوئے ہیں۔ دل تو ہمارے اِن بڑی طاقتوں کو ہمہ وقت تبروں اور کوسنوں کی سان پررکھتے ہیں۔ زبانیں بھی برملا کہتی ہیں۔ ہدایت دے اللہ میاں اِس سپر پاور کو جو اسرائیل کی محبت میں اندھی ہوئی پڑی ہے۔

طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی طرح بین الاقوامی قاعدے قانون کو پاؤں تلے روندتی رہتی ہے۔ کوئی پوچھے اِس چھوٹے سے ملک کے اندر بھی تو آخر انسانیت کی رمق جاگی۔ اس کے ضمیر نے بھی سرزنش کی کہ اُسے بین الاقوامی قراردادوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ یہ صریحاً زیادتی کی بات ہے کہ ایک ایسے شہر جس کی حیثیت متنازعہ ہے اُسے اس ملک کا دارالحکومت مانا جائے۔

بات تو سولہ آنے سچ ہے کہ یہ کمبخت اسرائیلی چور بھی ہیں اور سینہ زور بھی۔ بنجمن نیتن یاہو کیا بن گوریاں سے لے کر ہر سربراہ یروشلم کو تو سمولچا نگل جانا چاہتا تھا اور چاہتا ہے۔ پہلی بسم اللہ اسی کم بخت ایک نمبر ضدی، ہٹ دھرم اور تعصب کی غلاظت سے اٹے ہوئے نے ہی کی تھی کہ میرے تمام دفاتر یروشلم منتقل کردیے جایں۔ اب یو این ٹرسٹی شپ کونسل نے کہا بھی۔ باز آؤ۔ ایسی زیادتیاں مت کرو۔ پر وہاں کون سُنے۔ اُن کی ڈھٹائی کا وہ عالم کہ کرلو جو کرنا ہے وہ تو ہرگز ہرگز وہاں سے اپنے دفاتر نہیں ہٹائے گا۔

پڑے دنیا بھر کے سفارت کار پریشان ہوتے پھریں۔ اُلجھتے رہیں کہ کریں تو کریں کیا؟ اگر وہ اپنی اسناد مغربی یروشلم جا کر پیش کرتے ہیں تو گویا یہ تو اس کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کے برابر قدم ہوگا۔

دنیا کی اِس سپر پاور کے ہر بڑے حکمران کی اپنے اِس لاڈلے کی اس خواہش کی تکمیل کرنا گویا اُن کے لیے بڑا اہم تھا۔ بیتابی وشتابی کا وہ عالم کہ اِس ککّے بھگے نے 6 دسمبر 2017 کو اعلان کردیا۔ اسرائیلی سپوت نام جس کا بنجمن نیتن یاہو ہے اس اعلان پر خوشی سے پھو ل کر کپا ہوگیا۔ پر اس بدمعاش تھایندار کے درباری وزراء، امراء کو شرم آئی کہ جگ بھر کے چوٹی کے لیڈروں اور رہنماؤں نے کھل کر کہا۔ ”شرم کرو کچھ۔ یہ کیا بہیودہ پن ہے۔ “

تو دو دن بعد ہی ریکس ٹلرسن سٹیٹ سکریٹری نے اس شتر بے مہاری پر پردہ سا ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا بھی کہ بھئی صدر کا ہرگز ہرگز یہ مقصد نہیں تھا۔ وہ تو خود چاہتے ہیں کہ دونوں فریق مذاکرات کریں۔ سرحدوں سمیت سارے مسائل پر بات چیت کریں اور حل ڈھونڈیں۔

یہ سرحدوں کے بارے بات چیت کی بھی خوب رہی۔ اُن کی تو خواہشات ہی لامحدود ہیں۔ کاش اقوام متحدہ جیسی تنظیم صحیح معنوں میں فعال ہو اور یہ کسی بڑی طاقت کی لونڈی والا کردار ادا نہ کرے۔ جی چاہتا ہے اقوام متحدہ کو ایک عرضی بھیجوں کہ اور تو تم کچھ کر نہیں سکتے ہاں یہ ایک کام ضرور کردو کہ ان سب بڑے ملکوں کے بڑے حکمرانوں کو بتاؤ کہ اُن کے لیے تاریخ سے آگاہی کتنی ضروری ہے۔

طاقت، غلبے اور توسیع پسندی کے فوبیا میں گرفتار یہ جاہل اِسے پڑھیں گے تو شاید بھیجے میں آجائے کہ کائنات کی اصلی سپر پاور دنوں کو قوموں کے درمیان پھیرتی رہتی ہے۔ کبھی کے دن بڑے اورکبھی کی راتیں۔ کائنات اور اس کا یہ سارا جہان اسی ایک فلسفیانہ نکتے کی مُٹھی میں قید ہے۔ وہ جن کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا آج کہاں ہیں اور جو آج آسمان کے تارے توڑنے اور دھرتی پر آگ خون کی ہولیاں رچا رہے ہیں اُن کی بھی عمر کتنی لمبی ہے۔ ہر عروج کے مقدر میں زوال تو لکھا گیا ہے نا۔ بس یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے جو کبھی کسی طاقت ور نے نہیں سمجھی۔ جس کسی نے سمجھی اُس نے فلاح پائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •