کردار کشی اور گالی کی سیاست


سیاسی یتیم تو اپنے دلاتل میں جان ڈالنے کے لئے عورتوں کی کردارکشی کا سہارا لیتے ہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ بھی اور غیر سیاسی تاریخ بھی ایسے مجرب نسخوں سے بھری پڑی ہے کہ جہاں آپ کی کسی مضبوط عورت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے وہاں اس کی کردار کشی کر دیں آپ کا پلڑہ بھاری ہوجائے گا۔ اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ بلاول کی افطار پارٹی کے بعد سے جس طرح کی باتیں سوشل میڈیا پر گردش، کر رہی ہیں مانو حد ختم کر دی ہے سیاسی سپورٹروں نے تو۔ دو سکرین شارٹس دیکھیں جس طرح کی باتیں مریم اور حمزہ شریف سے متعلق گردش کر رہی ہیں۔ بات مریم سے شروع ہوئی اور حمزہ کی ماں کے کردار پر ختم ہوئی۔

افطار پارٹی کے سیاسی اثرات کو زائل کرنے کے لئے بلاول بھٹو کو طعنے دیے گئے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہے جو اس کی ماں کو پیلی ٹیکسی اور بری عورت کہتے تھے۔ حالانکہ ان لوگوں نے کبھی عمران خان کو یہ نہیں کہا کہ آپ اس شخص کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں جس نے آپ کی کردار کشی کی آپ کی ناجائز بیٹی والا سکینڈل بنانے والی ٹیم میں رہا جی ہاں وجہ شخص جسے وہ اپنا چپڑاسی نہیں رکھنا چاھتے تھے۔

مریم اور بلاول کی تصویر کو لے کر ولیمہ ذہنیت نے ایک نکاح شدہ عورت کا مذاق اڑایا۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ولیمہ ذہنیت آج بھی 90 کی دہائی میں زندہ ہے حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اس دور میں پیدا ہوئے لیکن پلے بڑھے نئی صدی میں لیکن آج کی گفتگو دیکھ کر مجھے ان میں جنریشن گیپ نہیں محسوس ہوا۔ اس سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ گفتگو کرنے والے وہ افراد ہی جہنوں نے آئندہ سیاست کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اور جس پارٹی سے ان کا تعلق ہے وہ تبدیلی کی برانڈ ایمبیسڈر ہے۔ ان کا رویہ دیگر جماعتوں سے زیادہ خراب ہے کیونکہ تب بات نو از شریف اور بھٹو کی والدہ تک پہنچی تھی، کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ اس کی شکل کیوں اس کے چچا سے ملتی ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی اس گفتگو میں ہم والدین برابرکے قصور وار ہیں۔ ہم نے بچوں کو تیکنالوجی دے کر اپنا فرض پورا کرلیا ہے ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اخلاقیات کیا ہونی چاھیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ بالکل ایسے ہی ہم نے اپنے بچوں کو گاڑیاں دلادی ہیں اور انہی اسٹئیرنگ، بریک اور ایکسیلیریٹر کا بتا دیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ سپیڈ کتنی رکھنی ہے لہذا جگہ جگہ سپیڈ بریکر بنانے پڑتے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا استعمال کرنے والے خود بھی اس گراوٹ کے ذمہ دار ہیں۔ کیا وہ اچھے برے، گالی دلپل اور سوال اور تنقید کا فرق نہیں پہچانتے۔ کیا ان کی ساری علمیت اسی تک محدود ہے کہ ان کی پوسٹ پر کتنے لائکس آئے ہیں اور کتنی مرتبہ آگے شئیر ہوئی ہے،

سیاسی جماعتیں اور ان کے زیر سایہ کام کرنے والی سوشل میڈیا ٹیم بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہیں۔ یہ ٹیمیں سیاسی سکورنگ کے لئے گمراہ کن پوسٹ بناتی ہیں اور بہت فخر سے آگے بڑھاتی ہین۔ اور اگر آپ کی بدقسمتی آ ہی گئی ہے یا آپ کو آج آ بیل مجھے مار کا مرض لا حق ہے تو آپ ان سے اس دعوے کا ثبوت مانگ لیں پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ ہر سیاسی جماعت کے اپنے اپنے خادم رضوی ہیں اور ان سے بڑھ کر ہیں۔ ایسی ایسی گالیوں سے تواضح کی جاتی ہے کہ آپ شرما جاتے ہیں۔

ہر کوئی اپنی گفتار سے ایسا ریپ کرتا ہے کہ دل چاہتا ہے الفاظ کے ذریعے بھی ریپ پر عمر قید کی سزا ہو۔ سیاسی قائدین اس لفظی جنسی زیادتی میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ کبھی کسی پبلک فورم پر آ کر انہوں نے کبھی اپنے سپورٹروں کو اس فعل سے نہیں روکا بلکہ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ شاباشی دیتے ہوں گے کہ بھئی تم نے تو مخالف کو اڑا کے رکھ دیا ہے۔

آج کل پاکستانی سیاست 90 کی دہائی میں چل رہی ہے۔ مریم کی شادی اور بلاول کی جنس اسمبلی سے جلسوں تک یہی باتیں ہیں۔ ہو سکتا ہے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی سیاست کے یہی ڈھنگ ہوں تو کیا یہ طرز سیاست اپنانا درست ہے۔ کیا ہم مل کر سیاست کو صفی تعصب سے پاک نہیں کر سکتے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہمارے پاس سیاسی دلائل ختم ہو جائیں تو ہم اپنی گفتگو ختم کردیں۔ کسی بحث میں پڑنے سے قبل مطالعہ کر لیں تاکہ گفتگو کے پلڑے میں دلائل ڈال سکیں نہ کہ عورتوں کی کردار کشی۔ آپ کو مریم سے اختلاف کرنا ہے آپ کریں، ان کے سیاسی شعور پر تنقید کریں۔ ان کے نظریات سے اختلاف کریں مگر ان کی ذاتی زندگی پر بلا تحقیق جملے کسنا کون سی سیاست ہے۔ قطع نظر اس سے کے اس گندی سیاست کا بانی کون تھا، ہمیں اپنی سیاست کو اس گراوٹ سے نجات دلانی ہے۔

اک زمانہ تھا سیاسی جماعتوں کے کارکنان جیالے اور پیارے کہے جاتے تھے۔ آج پٹواری، یوتھئے اور نونیے پکارتے جاتے ہیں۔ اگر اپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے لیڈر اور جماعت کا احترام کریں تو آپ بھی دیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کا احترام کرین۔ سیاسی جماعتوں کو سنبھلنے کی ضرورت ہے۔ اپنے سیاسی کارکنان کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں مطالعے کی عادت کے لئے سٹڈی سرکل کروانے کی اشد ضرورت ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے لئے بہرحال علم درکار ہے۔ سیاسی جماعتوں کو صنفی معاملات پر حساسیت کی ضرورت ہے اور ایسے معاملات پر میچور سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اپنی جماعتوں میں عورتوں کو فیصلہ سازی کی سطح پر لا کر صنفی تعصب پر مبنی سوچ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

میں نے ایک سیاسی جماعت کے سپورٹر سے پوچھا تم نے دوسری سیاسی جماعت کو گالی کیوں دی۔ اس نے جواب دیا کیونکہ وہ غدار ہیں۔ میں نے پوچھا تمھارے پاس کیا ثبوت ہے اس بات کا۔ تو اس نے مجھ سے پوچھا جب آپ کے پاس ثبوت نہیں تو آپ کی طرفداری کیوں کر رہی ہین۔ میں نے کہا جب تمھارے پاس ثبوت نہیں تو تم مخالفت کیوں رکھتے ہو۔ ان کی مخالفت کی وجہ ان کی جماعت کے رہنما کی تقریریں تھیں۔ میری سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ وہ اسمبلیوں میں بھی ایک دوسرے سے اسی احترام سے ملا کریں جیسے نجی محفلوں میں ملتے ییں۔

نظریاتی اختلاف کو نظریاتی ہو نا چاھئے اور نظریات کی لڑائی علمی محاذ پہ کرنی چاھیے۔ جھوٹے پروپیگنڈہ اور ذاتیات اور صنفی تعصبات پر نہیں۔ براہ مہربانی اپنے حامیوں تک یہ پیغام پہنچائیں ورنہ آئندہ نسلیں بھی اسی غیر شائستہ اور صنفی تعصب کی سیاست کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔

ا

Facebook Comments HS