چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے نام ایک خط

چیف جسٹس جناب فائز عیسیٰ صاحب میں ایک عام شہری ہوں لیکن دوسرے درجے کی شہری ہوں اگر غیر مسلم عورت ہوتی تو تیسرے درجے کی شہری بھی نہ گنی جاتی اور اگر خواجہ سرا ہوتی تو۔ ۔ ۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں شہریوں کی کتنی قسمیں ہیں۔ جارج آرویل کی اینیمل فارم کا مشہور فقرہ یاد آ جاتا ہے کہ سب جانور برابر ہیں مگر کچھ جانور زیادہ برابر ہیں۔ بھلے آپ عدالت عالیہ کے

Read more

پاکستان ٹیلیویژن: حکومت کا قلندر مزاج چینل

پی ٹی وی کی سلور جوبلی یعنی 25 سال پورے ہونے پر انور مقصود کا پروگرام سلور جوبلی شروع ہو جس میں دیگر شعبوں اور خاص کر ٹی و فلم کی نابغہ روزگار شخصیات کو مدعو کیا جاتا، اس موقع پر نئے گلوکاروں کو موقع دیا جاتا جو مشہور پرانے گیت گاتے۔ بنجمن سسٹرز اس پروگرام کا اٹوٹ انگ تھیں تینوں بہنیں مل کر گاتیں۔ حمیرا چنا اور سجاد علی بھی اسی پروگرام کے ذریعے متعارف ہوئے سجاد علی نے

Read more

آبادی کا بم۔ کیا کوئی بم ڈسپوزیبل اسکواڈ اس کے لئے بھی ہے کہ نہیں

آپ کو ایک کہانی سناتی ہوں۔ ہمارا دفتر جس عمارت میں ہے یہ اور اس کے اس پاس کی زمینیں ایک ہی خاندان کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے اپنی زمینوں پر چند کوارٹر بنا رکھے ہیں جنہیں وہ غربت زدہ لوگوں کو دے دیتے ہیں اس کوارٹر کے بدلے دو افراد اس خاندان کی خدمت کرتے ہیں جس کے عوض چھت اور دو افراد کا کھانا دیا جاتا ہے۔ بجلی کے بل اور دیگر اخراجات کے لئے خاندان کے باقی

Read more

یہ ترقی کی رفتار تھوڑی آہستہ نہیں کر دیتے۔ الو نامہ

شاید تیس بتیس سال پرانی بات ہے ہم آپس میں گپ شپ لگا رہے تھے کسی ایک نے خواہش کی کاش میں اس دور میں پیدا ہوتی جس میں سارے کام بٹن دباتے ہی ہو جاتے۔ سستی میں میرا مدمقابل آج تک کوئی نہیں سو میں نے فوری طور پر کہا ”اور کاش میں اس دور میں پیدا ہوتی جس میں بٹن بھی نہ دبانا پڑے اور کام بھی ہو جائے“ ۔ اور پھر ہم نے وہ دور دیکھ لیا

Read more

الو نامہ: ٹائم مشین

مجھے ہمیشہ سے دو شوق رہے ہیں ایک بینک لوٹنے کا اور دوسرا ٹائم مشین میں سفر کرنے کا۔ یقین جانیں کہ بینک لوٹنے کا مجھے اس قدر شوق ہے کہ ایک عمر میں نے بینک لوٹنے کی منصوبہ بندی کی ہے لیکن کبھی قابل اعتماد ساتھی نہیں ملے کہ یہ شوق پورا کر سکوں۔ جب بھی بینک لوٹنے کی کوئی کہانی پڑھتی ہوں یا فلم دیکھتی ہوں میری شدید خواہش ہوتی ہے خدایا یہ لوٹنے والا کبھی نہ پکڑا

Read more

”بوری“ بندہ کھا جاندی اے

پاکستان سرکس کا پنڈال ہے جس میں سیاستدان مسخرے ہیں اور عوام تماشبین ایسے تماشبین جنہیں وقت پڑنے پر کبھی رسیوں سے لٹکا دیا جاتا ہے کبھی بھوکے شیر کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے۔ سرکس مالکان کا کام صرف سرکس سے حاصل ہونے والی آمدنی وصول کرنا ہے ان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ مسخرے اور تماشبین کیا کر رہے ہیں وقت پڑنے پر جب وہ دیکھتے ہیں کہ مسخروں کا گروہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا

Read more

"ویڈیو گیم” اور عورتیں

کون کہتا ہے پاکستان میں فلمیں نہیں بنتیں یا کم بنتی ہیں پاکستان میں فلمیں بہت بنتی ہیں مگر ریلیز موقع اور وقت دیکھ کر کی جاتی ہیں ان فلموں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ اس میں صرف ڈائریکٹر ہوتا ہے کہانی اور کیمرہ پرسن نہیں ہوتا ٹیکنیشن سے کام چلانا پڑتا ہے جو لوگ ان فلموں میں نظر آتے ہیں ان کی حقیقت سے قریب اداکاری سے ہم لوگ تو نہیں مگر فنکار خود متاثر ہو جاتے ہیں

Read more

گھریلو عورت جو کچھ نہیں کرتی۔

ہر دفعہ قدرتی آفات چند ایسے انسانوں سے ملا دیتی ہیں کہ انسانیت پر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ 2005 کے زلزلے میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے پیسے اکٹھے کر رہے تھے ایک دیہاڑی دار مزدور اپنی دیہاڑی کے ڈھائی سو روپے لے کر آ گیا یہ میری طرف سے شامل کر لیں ہم نے انکار کیا تو وہ جاکر دودھ کے ڈبے لے آیا کہ میری طرف سے زلزلے والوں کو پہنچا دیں ایسی باتیں ہو تو زبان گنگ ہو جاتی ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

Read more

پنشن، بیوہ اور نظام

انسان بڑا نا شکرا ہے وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں اور آسائشوں کو بغیر کسی شکر گزاری کے احساس کے صدیوں سالوں برتتا ہے اور اس کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے پھر جب خدا کی طرف سے کوئی آزمائش آئے تو احساس ہو تا ہے کہ وہ کس قدر نوازی ہوئی زندگی گزار رہا تھا۔ اس پر اللہ کا کس قدر کرم تھا انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت اللہ کے بنائے ہوئے رشتے ہیں جس میں اولین

Read more

صلا ح الدین منہ مت چڑاؤ

اے صلاح الدین! تم منہ کے چڑا رہے ہو ان بینکوں کو جو قاتل مسیحا ہیں جو اربوں روپے کے قرضے تو معاف کر سکتا ہے مگر ہزاروں روپے والے نہیں۔ تمھیں پتہ ہے صلاح الدین قومی روزناموں میں ایک دن پورے صفحے کا اشتہار چھپا تھا اس میں ان لوگوں کے نام تھے جو قرضہ واپس نہیں کر سکے تھے حالانکہ انہوں نے بینک کے پاس اپنا سونا گروی رکھا تھا چنانچہ بینک نے ان کا سونا ضبط کر

Read more

کردار کشی اور گالی کی سیاست

سیاسی یتیم تو اپنے دلاتل میں جان ڈالنے کے لئے عورتوں کی کردارکشی کا سہارا لیتے ہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ بھی اور غیر سیاسی تاریخ بھی ایسے مجرب نسخوں سے بھری پڑی ہے کہ جہاں آپ کی کسی مضبوط عورت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے وہاں اس کی کردار کشی کر دیں آپ کا پلڑہ بھاری ہوجائے گا۔ اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ بلاول کی افطار پارٹی کے بعد سے جس طرح کی باتیں

Read more

ہم لبرل ہیں

عورت مارچ نے تو گویا آگ لگادی ہے معاشرے کے چند گروہ جن الفاظ میں ان عورتوں کو یاد کر رہے ہیں مانو لعن طعن کی ڈگری حاصل کر کے آئے ہوں کون سی گالی ہے جو ان کے توشہ خانے میں موجود نہیں اگر الفاظ کے ذریعے ریپ کیا جاتا تو شاید یہ ریپ تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں عورتوں کے ریپ کے طور پر یاد رکھا جاتا۔ مگر حیرت ہے اس سائبر کرائمز کے قانون پر جسے چند افراد کی شان میں لکھے گئے جملے تو نظر آجاتے ہیں اور جن کی بنیاد پر وہ لوگوں کو اٹھا کر بھی لے جاتے ہیں مگر اس معاملے کو ایسے نظرانداز کرتے رہے جیسے یہ کسی اور ملک کے بسنے والوں کی بات ہورہی ہو

Read more