مودی کی حلف برداری اور ’’آر ایس ایس‘‘ کا دبائو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اطلاع مجھے بہت ہی قابل اعتماد ذرائع سے یہ ملی تھی کہ بھاری اکثریت سے انتخاب جیتنے کے بعد نریندر مودی پاکستان کے وزیراعظم کو اپنی حلف برادری کی تقریب میں بلانا چاہ رہا ہے۔ اسی باعث اس کی حلف برادری کی تقریب کے بارے میں پہلی خبر یہ چلوائی گئی کہ سری لنکا کا صدر وہاں موجود ہو گا۔ اس خبر کے بارے میں ’’چلوائی‘‘ کا لفظ میں نے سوچ سمجھ کر لکھا ہے۔ مقصد اس خبر کا پاکستان کو یہ پیغام دینا تھا کہ آج سے پانچ برس قبل ہوئی تقریب حلف برادری کی مانند بھارتی وزیراعظم اس بار پھر سارک تنظیم کے ممالک کو مدعو کرنا چاہ رہا ہے۔ مجھے ہرگزخبر نہیں کہ ہمارے وزیر اعظم اور ان کے مشیروں نے اس پیغام کو کیسے لیا۔

اگرچہ ذہن میں یہ سوال ضرور اُٹھا کہ سارک تنظیم کا ’’کریاکرم‘‘ تو بھارت اپنے ہی ہاتھوں سرانجام دے چکا ہے۔ اس تنظیم کی آخری سربراہی کانفرنس پاکستان میں منعقد ہونا تھی۔ بھارت اس میں شرکت کے لئے تیار نہ ہوا۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم نے اس ضمن میں اہم ترین سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

اس کے بعد سے یہ تنظیم بس کاغذی تنظیم ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔سارک کے نام سے رچائے ڈرامے کو بھلاکر بھارتی وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب کا مبارک باد کا فون وصول کرتے ہوئے براہِ راست اپنی تقریب حلف برادری میں شرکت کی دعوت بھی دے سکتا تھا۔اس نے ایسا کرنے سے اجتناب برتا۔اشاروں کنایوں میں اگرچہ اس فون سے قبل یہ پیغام آتا رہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کسی بااختیار شخص کو اپنا مشیر برائے قومی سلامتی مقرر کریں۔ ممکنہ مشیر مودی کے مشیر اجیت دیول سے خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے پاک-بھارت تعلقات کو امن کی راہ پر چلانے کے لئے کوئی Roadmap تیار کرے۔

وزیراعظم عمران خان نے ابھی تک مشیر برائے قومی سلامتی نہیں لگایا۔ آج سے ایک ماہ قبل اگرچہ اسلام آباد میں سرگوشیاں گرم تھیں کہ فلاں یا فلاں شخص کو مشیر برائے قومی سلامتی مقرر کیا جارہا ہے۔ محسوس ہورہا ہے کہ تھوڑی سوچ بچار کے بعد فیصلہ مؤخر یا بھلادیا گیا۔

سفارت کاری کے لئے اہم ترین مانے Back Channels پاکستان اور بھارت کے مابین گفتگو کے لئے ہمہ وقت میسر اور متحرک رہے ہیں۔ ان ہی کی بدولت فروری کے آخری ہفتے میں پاک-بھارت جنگ ٹلی۔ ہماری قید سے بھارتی پائلٹ کو خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ رہائی ملی۔پاکستان شاید اپنے چینل کو بے چہرہ ہی رکھنا چاہتا ہے۔مزید تفصیلات میں الجھے بغیر ایک بار پھر دہرائے دیتا ہوں کہ نریندرمودی 30 مئی کو ہونے والی تقریب حلف برادری میں عمران خان کو مدعو کرنا چاہ رہا تھا۔ اس کے انتہاپسند مشیر مگر اس پر آمادہ نہ ہوئے۔

راشٹریہ سیوک سنگھ(RSS) جو بھارتیہ جتنا پارٹی کی ’’ماں‘‘ ہے،کئی تھنک ٹینک بھی چلاتی ہے۔ان میں سے چند نامی گرامی صنعت کاروں اور کاروباری افراد کے فراہم کردہ سرمایے سے چلائے جاتے ہیں۔ان کے لئے کام کرنے والے ’’دانشوروں‘‘ نے یکسوہوکر دہائی مچادی کہ پاکستانی وزیر اعظم کو 30مئی کو منعقد ہونے والی تقریب میں بلانا ان لوگوں سے ’’زیادتی‘‘ ہوگی جنہوں نے مودی کو اپنے وطن کا ’’چوکیدار‘‘ گردانتے ہوئے اسے بھاری اکثریت سے بھارتی وزیر اعظم کے منصب پر لوٹایا۔

’’زیادتی‘‘ والی کہانی مگر سطحی تھی۔ بنیادی اصرار یہ تھا کہ پاک-بھارت تنائو پاکستان کو ہمہ وقت چوکس رہنے پر مجبور کررہا ہے۔اس چوکسی کی گرانقدرمالی قیمت ہوتی ہے۔انتہاپسند ہندو ’’دانشوروں‘‘ کا خیال ہے کہ معاشی مشکلات میں گھرے پاکستان کو آئندہ چند ماہ تک ’’چوکس‘‘ ہی رکھا جائے۔مودی کے ایک بار پھر منتخب ہونے کے فوری بعد امن کی خواہش کا اظہار درحقیقت پاکستان کو ’’معاشی حوالوں سے Life Lineفراہم کرنا ہو گا‘‘۔

سیاست دان اپنی رائے بنانے کے لئے ’’دانشوروں‘‘ سے شاذہی رجوع کرتے ہیں۔ہر ریاست کے دائمی ادارے ہوتے ہیں۔ ان کی ترجیحات حکومتِ وقت کے لئے اہم ترین ہوا کرتی ہیں۔ اس تناظر میں غور کریں تو بآسانی دریافت کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی معیشت بھی فی الوقت جمود کا شکار ہوئی کساد بازاری کی طرف سرک رہی ہے۔ بھارت میں بے روزگاری کا تناسب 45سال بعد خوفناک حد کو چھو رہا ہے۔

اسی باعث مودی دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ’’وکاس (ترقی)‘‘ کا ذکر کئے چلا جا رہا ہے۔ پاکستان سے تعلقات کو کم از کم نارمل بنائے بغیر ’’وکاس‘‘کی بات مگر خام خیالی ہے۔ مودی اور اس کے حامیوں کو یہ حقیقت بھی بہت پریشان کر رہی ہے کہ نام نہاد عالمی میڈیا نے بلااستثناء اس کی حالیہ جیت کو ہندوانتہاپسندی کی جیت دکھایا۔ مسلمانوں کی حالتِ زار کا تذکرہ ہوا۔ اقلیتوں کے لئے زندگی کے اجیرن ہوجانے کی داستانیں چھپیں۔ مودی کی شدید خواہش ہے کہ اسے اب ہندو انتہا پسندی کے بجائے ’’وکاس‘‘ کا پرچارک اور دلدادہ تصور کیا جائے۔

پاکستان کے ساتھ تنائو کے خاتمے کی کوشش کرتے ہوئے وہ بآسانی دنیا کو یہ پیغام دے سکتا ہے۔فی الوقت اگرچہ RSSکے ’’دانشور‘‘ کامیاب رہے۔بھارتی وزیر اعظم نے نعرہ اب بھی ’’سب سے پہلے ہمسایے‘‘ لگایا مگر اس کی آڑ میں سارک تنظیم کے بجائے Bimstec کی بات ہوئی۔بھارت نے یہ تنظیم خود کو بحرہند کی اہم قوت ثابت کرنے کے لئے بنائی ہے۔نیپال،سری لنکا اور بنگلہ دیش کے علاوہ اس میں تھائی لینڈ جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے ذریعے سنٹرل ایشیاء کے ممالک تک رسائی کو وقتی طورپر بھلاکر ویت نام، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے قربت کی خواہش ہے تاکہ Pacificمیں چین خود کو گھیرے میں آیا محسوس کرے۔

30مئی کے لئے سارک کے بجائے لہٰذا اس تنظیم کے رکن ممالک کو تقریبِ حلف برادری میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی مگر کرغزستان کے صدر کو ’’مہمانِ خصوصی‘‘ کی حیثیت میں مدعو کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ سنٹرل ایشیاء کے اس ملک میں 13اور 14جون کو شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن (SCO)کے رکن ممالک کی سربراہی کانفرنس ہونا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے وزیراعظم وہاں موجود ہوں گے اور یہ بات طے ہے کہ اس کانفرنس کے دوران نریندر مودی اور عمران خان کی ملاقات کو یقینی بنانے کے لئے چین اور روس یکجا ہو کر سفارتی کاوشوں میں مصروف ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •