چھوٹے گوشت کی قیمت پر مردار گدھا


\"afzalایم کیو ایم کے متعلقہ افراد نے کل پریس کلب کے باہر ایک پریس کانفرنس کی۔ میڈیا مینجمنٹ کی ماہر اور فصاحت اور بلاغت میں اپنا ثانی نہ رکھنے والی مہاجروں کی جماعت کو اپنی بات کہنے کے لئے بار بار غیر مہاجر زبان انگریزی کا استعمال کرنا پڑھ رہا تھا۔ ”خود بھی ریڈیکیول (تمسخر کا نشانہ بننا ) ہوتے ہیں “”ایم کیو ایم بھوک ہڑتال سے فوائد اٹھانے کے بعد بیک فٹ پر چلی گئی“وغیرہ وغیرہ ۔ ہر اہم بات کو غیرملکی زبان میں کہہ کر الفاظ کی تیزابیت معتدل کرنے کی کوشش کی گئی۔ مثلا آسان زبان استعمال کی جاتی تو کہا جانا چاہیے تھا کہ الطاف حسین کو پارٹی کے فیصلوں سے الگ کردیا گیا ہے۔ مگر بات گھما کر کہی گئی کہ اب لندن کی بجائے تمام فیصلے ایم کیو ایم پاکستان کرے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ جن لوگوں نے تشدد کا راستہ استعمال کیا وہ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیںیا شرپسند ہیں سب کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مگر جس کے کہنے پر شرپسندی کی گئی جو تمام بدترین واقعات کا محرک تھا اس کے خلاف ایک لفظ کہنے کی ہمت نہ تھی۔ مختلف اداروں کو یہ لالی پاپ بھی دیا گیا کہ حملہ آوراگر جماعت سے تعلق رکھتے ہوں گے تو ان کی نشاندہی کریں گے ۔ اور ایک آدھے حملہ آور کی شناخت ظاہر کرکے ثواب دارین بھی حاصل کرلیا۔ مگر جس نفسیاتی اورذہنی تناو¿ کے مریض نے تیلی لگائی اسے کیوں نامزد کرکے اداروں کے حوالے کرنے کی پیشکش نہیں کی گئی۔ اگر معصوم آدمی کی نظر سے دیکھیں تو لگتا ہے فاروق ستار نے اوقات سے بڑی پریس کانفرنس کرڈالی ہے۔ اگر نامعلوم افراد کی نظر سے دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ نائن زیرو کو کھلوانے، اپنے ارکان پارلیمنٹ اور بلدیاتی ارکان کے گلے میں نااہلی کے پٹے کو ہٹانے کے لئے انتہائی شاطرانہ چال چلی ہے۔ اور اگر پی ایس پی کے مصطفی کمال کی نظر سے دیکھیں تو فاروق ستار ہمیں مردہ گدھا چھوٹے گوشت کی قیمت پر بیچتے نظر آتے ہیں۔

ملک کے نوکری پیشہ افراد کے لئے میں اس پریس کانفرنس کی تمثیل کئے دیتا ہوں۔ میں نے لاہور میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کی کہ میں نے اپنے ادارے کے مالک کو نوکری سے نکال دیا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اپنے سمیت تمام ورکروں کی تنخواہ نہ میں پہلے جیب سے دیتا تھا نہ پریس کانفرنس کے بعد دوںگا ۔ میرے اوپر لاہور میں بیٹھے بیورو چیف جو پہلے بھی کان سے پکڑ کر مجھے باہر نکال سکتے تھے، اب بھی ادارے میں کراچی کے نامعلوم افراد جیسے اختیارات رکھتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے اگلے چوبیس گھنٹوں میں اگر مجھے لندن یا نامعلوم افراد کی جانب سے نوکری یا زندگی سے فارغ نہیں کیا جاتا تو یہ سمجھنا کہ ادارے کے مالک کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے حماقت ہوگی۔ یہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے کہ میری پریس کانفرنس دراصل بڑے بھائی کی مرضی کے مطابق تھی، ان کو دی گئی گالیاں ان سے منظور شدہ سکرپٹ کا حصہ ہیں۔ لیکن اس تمثیل کا فائدہ! فیصلہ مجھ جیسے نوکری پیشہ افراد نے تو نہیں کرنا۔ سوال تو یہ ہے کہ جو شطرنج کی بساط پر مہروں کو آگے پیچھے کرنے کے دعویدار ہیں کیا وہ بھی نوکری پیشہ ہیں کہ انہیں سمجھانے کے لئے ہم تمثیل پیش کرتے پھریں؟ کیا انہیں دودھ کا دوھ اور پانی کا پانی نظر آنابند ہوچکا ہے؟ کیا حساس اداروں نے جو آلات خرید رکھے ہیں اس پر صرف محبت کرنے والوں کی حساس گفتگو پر ہی نظر رکھی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو مملکت خداداد کا خدا حافظ اور اگر ایسا نہیں ہے تو انصاف صرف ہو نہیں، ہوتا نظر بھی آئے۔

Facebook Comments HS