کتاب فروش ریاض گل ہار گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"saeedسوال تو آپ کے ذہن میں آیا ہوگا کہ بھئی یہ ریاض گل کون ہے اور کیوں ہار گیا۔ دراصل ریاض گل ایک دیوانہ ہے جو نابیناؤں کے شہر میں آئینے فروخت کرتا تھا اب بھلا نابیناؤں کو آئینوں سے کیا لینا دینا پر بھئی کچھ لوگ دیوانے ہوتے ہیں انہیں آپ نہیں سمجھا سکتے کہ بھئی اس میں جی کا زیاں ہے کہیں اور دل لگاؤ مگر وہ نہیں سنتے اپنی دھن میں لگے رہتے ہیں۔ ہاں مگر وقت بڑا ظالم ہے ایسے زخم لگاتا ہے اور ایسی چوٹیں دیتا ہے کہ دیوانے بھی سمجھنے لگتے ہیں بس اسی ظالم وقت نے ریاض گل کو مات دے دی اور ایسی مات کہ چاروں خانے چت پڑا ہے۔

آپ سوچیں بھلا جس شہر میں نئے نئے پلازے بن رہے ہوں، جوتے کپڑے اور کھانوں کے بین الاقوامی برانڈ متعارف کئے جارہے ہوں اور جہاں ان ہوٹلوں میں کھانے کے لئے دو دو گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہو، جہاں لوگ سینکڑوں دنبے نمکین گوشت اور کڑاھی گوشت میں پکا کر کھا جائیں اور جہاں برانڈڈ کپڑوں کی سیل کے پہلے دن صبح 9 بجے تل دھرنے کی جگہ نہ ہو ایسے شہر میں بھلا ریاض گل کا کیا کام؟ کیونکہ ریاض گل تو دیوانہ آدمی ہے لوگوں کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتا حالات کا تقاضہ نہیں سمجھتا اور کتابیں بیچتا ہے، اس لئے پچھلے چھبیس سالوں سے کتابوں کی دکان کھولے بیٹھا ہے۔ پچھلے دس سالوں سے جس طرح شدت پسندی کی دیمک نے اس شہر کی دانش و حکمت کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس شہر میں کتابیں بیچنا ایسا ہے جیسے فرہاد کی طرح تیشے سے کوئی دودھ کی نہر آج کے دور میں کھودے تو ہر دفعہ تیشہ کسی گٹر کی لائین پر پڑے گا نا۔ اور جو آج کے دور میں ایسا سوچے گا تو آپ اسے کیا کہیں گے بھئی؟ اب گفتگو کے دوران یہ بات تو کوئی نہیں پوچھتا نا کہ آج کل کون سی کتاب زیر مطالعہ ہے بلکہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ کون سے برانڈ کے کپڑے یا جوتے ہیں یا شہر میں کھلنے والا نیا ہوٹل ٹرائی کیا ہے؟ کھانا بہت اچھا ہے مہنگا بہت ہے مگر کھانا کمال کا ہے، انٹیرئیر بھی بہت خوبصورت ہے، وغیرہ۔ اور ویسے بھی برانڈڈ کپڑوں سی مزین تن کو دیکھنے کے بعد کس نے پوچھنا ہے کہ دماغ میں کیا ہے۔ دانش اور حکمت تو ثانوی چیزیں ہیں، انٹرنیٹ پر آپ کو سارا کچھ مل جائے گا۔ اس کے لئے کتاب کی کیا ضرورت ہے۔ ہمارا سارا علم، دانش اور حکمت تو فیس بکی دانشوروں کی دین بن گئی ہے۔ ہمارا علم گوگل کی پہلی دس سے بارہ ویب سائٹ تک محدود ہے تو ایسے میں کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ 400 روپے خرچ کر کے ایک کتاب خریدے جبکہ ان پیسوں میں 4600 اور ڈال دینے سے ایک برانڈڈ سوٹ آ جائے گا جس پر اگلے دن تعریف و توصیف بھی مل جائے گی اور دو تین لوگوں کو ٹارگٹ بھی مل جائے گا کہ انہیں اب اس سے اگلا سوٹ کیسا لینا ہے۔

میرا شہر پشاور اپنی چھاتی پر اتنے داغ لئے بیٹھا ہے کہ شمار کریں تو شمار میں نہ آئیں۔ چار سے پانچ کلومیٹر کے حصار میں اتنے دھماکے ہوئے ہیں کہ ہر دیوار اور سڑک کی آبیاری خون سے ہوئی لگتی ہے لیکن اس شہر کا سب سے عظیم سانحہ اس روز ہوا تھا جس روز پشاور شہر کی کتابوں کی سب سے بڑی دکان سعید بک بینک بند ہوگئی تھی اور جس کی وجہ یہ تھی کہ اب اس شہر میں غیر ملکیوں نے آنا چھوڑ دیا ہے اور کتابیں پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد یہاں سے ہجرت کر چکی ہے۔ چنانچہ اس دکان نے اپنا کاروبار سمیٹا اور دارلحکومت میں اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ دوسری بڑی دکان لندن بک کمپنی ابھی تک چل رہی ہے لیکن خدا بھلا کرے این ٹی ایس اور دیگر اداروں کا جن کے داخلہ ٹیسٹوں کی وجہ یہ دکان چل رہی ہے اور کچھ اسے بیرونی امداد بھی مل جاتی ہے۔ شہر کی ایک اور پرانی دکان یونیورسٹی بک ایجنسی تھی جسے اگر آج آپ دیکھیں تو دکھی ہو جائیں کہ یہ دکان آدھی سے زیادہ کھاد کی دکان میں بدل چکی ہے۔ آخری بڑی دکان شاہین بکس تھی جو اب ماضی کا قصہ بننے جا رہی ہے۔ کچھ سالوں قبل ریاض گل نے بڑے دکھ سے کہا تھا جب تک ہوسکا میں اس دکان کو چلاؤں گا اور کتابیں بیچتا رہوں گا حالانکہ میرے خیال سے اس شہر کو اب کتابوں کی نہیں جوتے کپڑے اور کھانے کی دکانوں کی ضرورت ہے۔ تو جب ہماری ضروریات اور ترجیحات بدل جاتی ہیں تو علم اور فلسفہ بیکار کی باتیں رہ جاتی ہیں۔

شہر کی کتابوں کی دکانوں کے بند ہونے کے سانحات اس کے لوگوں کی موت سے بہت بڑے ہیں کیونکہ شہر انسانوں کی موت سے نہیں مرتے  علم کی موت سے مرتے ہیں۔ تین ہزار سال سے آباد یہ شہر آئی سی یو میں پڑا ہے اور لوگ اس کے ساتھ سلفیاں لے رہے ہیں۔ اس کی شفا کا کوئی امکان نہیں کیونکہ پڑھنے والے رہے نہیں اور جو کتابیں لاتے تھے وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔ شہر کے شکستہ جسم کو خوبصورتی کے نام پر پراجیکٹ میں لپیٹا جا رہا ہے۔ سڑک، پلازے، جوتے، کپڑے، ہوٹل، گاڑیاں اور موبائل کے کاروبار عروج پر ہیں مگر دماغ بنجر ہو رہے ہیں۔ نیا خیال نہیں ہے، نئی سوچ نہیں ہے کتاب کا شوق نہیں ہے تو پھر ریاض گل نے تو ہارنا ہی تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

3 thoughts on “کتاب فروش ریاض گل ہار گیا

  • 26/08/2016 at 12:05 am
    Permalink

    1999 میں پشاو یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے ساتھ ہی مجھے ہاسٹل کی سیکیورٹی کی مد میں 2500 روپے واپس ملے تھے۔دورطالب علمی کے خاتمے کا دکھ، بوجھل دل ،غیر یقیینی مستقبل، خدشات اور امکانات کچھ ایسی ہی کیفیات کے ساتھ اپنے گاوں واپس جانے کی تیاری کررہا تھا تو سوچا کہ ان پیسوں کا کیا جائے ۔۔اللہ بھلا کرے سدا کے ملنگ راشد خٹک صاحب کی،جو آج کل روزنامہ ڈان سے وابستہ ہے، انہوں نے مشورہ دیا کہ بھائی ڈاکٹر مبارک علی کی کتابوں کا پورا سیٹ ڈسکاونٹ پر 1800 روپے مل رہا ہے۔۔بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لو اور ہم نے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ آشنان بھی کرلیا۔ان کا شکریہ کا بیروزگاری کے ابتدائی ایام میں ان کتابوں نے بڑا سہارا دیا شاہین بکس کا المیہ نیا نہیں، واقعات کچھ اس ترتیب سے شروع ہوئے کہ پہلے امریکن سینٹرلائبریری کا کام تمام ہوا،اس کے بعد برٹش کونسل کا خاتمہ ہوا،جس کی آڈیو ویڈیو لائبریری میں شکسپئیر کے تمام ڈرامے معمولی فیس کے عوض دیکھے ۔۔پھر سعید بکس کی باری ۤۤآئی ۔۔چند روزقبل جب راشد خٹک سے ایڈیشن ڈاون ہونے کے بعد تھکاوٹ اورغیرمعمولی افسردگی کی وجہ جاننا چاہی تو انہوں نے شاہین بکس کے بارے میں بتایا۔اور پھر ہم نے مل کر ایک گھنٹے تک گریہ کیا کہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے تھے۔

  • 28/08/2016 at 8:57 pm
    Permalink

    When I came back from KSA and I visited Peshawar Sadar Bazar along with my younger bro then I tried to show him Saeed Book but I failed and did not found it and I was disappointed too much to hear that it has been shifted to Islamabad and come to conclusion that we are going towards Illiteracy and Damages

  • 31/08/2016 at 1:54 am
    Permalink

    انتہائی افسوسناک

Comments are closed.