خیالی خاکے: استاد فارغ چقماقی


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

آج سے کم و بیش پچاس برس قبل کوہستانوں میں اہل علم کے خانوادے میں وہ نابغہ پیدا ہوا جس کا نام تو فاضل کوہستانی رکھا گیا، مگر اس نے شہرت دوام استاد فارغ چقماقی کے نام سے پائی۔ کہتے ہیں کہ ہونہار پوت کے پاؤں پالنے میں بھی دکھائی دے جاتے ہیں، تو یہی معاملہ ان کا ہوا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی علم الکلام کے ایسے جوہر دکھائے کہ جب ان کو مدرسے میں داخل کرایا گیا تو گھر سے مدرس کے نام ایک پرچا بھی بھیجا گیا کہ ”برخوردار فاضل کوہستانی کے خیالات و افکار کو اس کے بزرگوں کی تربیت کا نتیجہ ہرگز بھِی نہ سمجھا جائے، یہ انوکھے خیالات ان کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں“۔ سنا ہے کہ بعد میں وہ پالنا ہی توڑ کر جلا دیا گیا تھا جس میں ایسے پاؤں دکھائی دیے تھے۔ غالباً وجہ وہی ہو گی جو تاج محل کی روایت میں بیان کی گئی ہے کہ اس کی تعمیر کے بعد شاہجہاں نے اس کے معماروں کے ہاتھ قلم کر دیے تھے کہ آئندہ ایسی حرکت دوبارہ مت کریں۔

استاد فارغ چقماقی کچھ بڑے ہوئے تو ان کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے کراچی کے ایک ثانوی مدرسے میں داخل کروا دیا گیا۔ یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ گھر سے ہزار بارہ سو میل دو بھیجے جانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے بڑوں کے بزرگ بن جاتے تھے اور ان کی تربیت کرنے پر کمربستہ رہتے تھے۔ یہ افواہ صرف ان کے علمی رقیبوں نے اڑائی ہے ورنہ وہ تو ہمیشہ اپنے بزرگوں کو صحیح اور غلط کی پہچان ایسے ہی کراتے تھے جیسا کہ ایک بزرگوں کا حق ہوتا ہے۔

مدرسے میں گزرے سالوں نے ان کی شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑے۔ آج تک وہ اسے محبت سے یاد کرتے ہیں۔ وہ مدرسہ تھا بھی ایسا کہ اسے اس شدت کی محبت سے یاد کیا جاتا۔ کوئی شخص جس عالم کا بھِی نام لیتا ہے، تو استاد فارغ چقماقی بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس مدرسے میں اس شخص سے خوب فیض حاصل کیا ہے۔ یا پھر وہ شخص ان کے مدرسے کے کسی استاد کے ہمراہ ان سے ملنے آیا تھا تو استاد کے درشن سے فیضیاب ہوا۔ مگر صاحب، ان کی احتیاط کا یہ عالم ہے کہ کبھی کسی زندہ شخص سے اپنے قریبی تعلقات کا ذکر نہیں کرتے ہیں، کہ کہیں وہ بڑیں نہ ہانکتا پھرے کہ وہ استاد فارغ چقماقی سے نسبت رکھتا ہے۔ یہ غالباً اساتذہ کا خاص انداز ہو گا کیونکہ یہ احتیاط تو ان کے سبھی ملنے والے بھی کرتے دکھائی دیے کہ استاد فارغ چقماقی سے اپنے تعلق کو اس حد تک چھپاتے ہیں کہ کوئی ان کا نام لے دے تو انجانے ہو کر پوچھتے ہیں کہ یہ فارغ چقماقی کون ہے۔

مدرسے میں جب غبی اور کند ذہن ہم جماعت طلبا ان کی مسلسل تربیت اور محبت سے عاجز آ گئے تو انہوں نے استاد فارغ چقماقی سے دور بھاگنا شروع کر دیا۔ وہ کہیں بیٹھے ہوتے اور استاد آتے دکھائی دیتے تو وہ فوراً تتر بتر ہو جاتے، یہ جس کمرے میں خود بیٹھتے، وہ چند لمحوں میں خالی ہو جاتا۔ اس صورت حال پر ان کو افسوس ہوا کہ ایسے تو کُل مدرسہ ہی جاہل رہ جائے گا، سو ایک استاد سے مشورہ طلب کیا کہ ہم جماعتوں سے تعلقات کو کیسے بہتر کیا جائے۔ استاد نے کہا کہ ”میاں ایسا کرو کہ آج شام ان کو گھر کا پکا کھانے کی دعوت دو، یہ سب ہاسٹل کے باورچی کا کھانا کھا کھا کر تنگ آئے پڑے ہیں جہاں روز دال سبزی پکتی ہے، یہ مرغ اور پلاؤ کا سوچ کر بھاگے چلے آئیں گے اور تمہاری دوستی کا دم بھریں گے“۔ اگلے دن ان کے استاد نے ان سے پوچھا کہ اب ان کے ہم جماعتوں سے تعلقات کیسے ہیں تو استاد فارغ چقماقی کہنے لگے کہ ”ہم نے بھی عجیب نامعقول ہم جماعت پائے ہیں، ہم نے انہیں گھر پر بلایا تھا کہ گھر پر کچھ دعوت ہو جائے گی، مگر ہر ایک شخص خالی ہاتھ چلا آیا۔ گھر پر پکانے کے لیے مرغ اور چاول لانا تو کجا، یہ تو نمک کی پڑیا تک نہیں ساتھ لائے۔ گھر میں پانی ہی تھا، وہی پلا کر واپس کیا تو یہ احسان فراموش اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیر پھیر کر الٹا ہمیں ہی برا بھلا کہنے لگے حالانکہ ہم نے لاکھ بتایا تھا کہ گھر کا پانی ہے، بازار کا نہیں ہے“۔

یہی مدرسہ تھا جہاں انہوں نے شاعری کا شغل شروع کیا اور پارس کوہستانی کا تخلص اختیار کیا۔ حق بات تو یہی ہے کہ اس سے مناسب تخلص ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ پارس پتھر کی خاصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کچے لوہے کو چھوئے تو اسے کندن بنا دیتا ہے، استاد کی بھی یہی خوبی تھی۔ مدرسے کا جو ہم جماعت یا استاد بھی ان سے تربیت پا لیتا تھا، وہ کندن بن کر چمکتا تھا۔ استاد بتاتے ہیں کہ اب ایسے کتنے ہی نامور لوگ ہیں جو کہ استاد کے ہاتھوں کندن بنے ہیں، مگر دنیا ایسی طوطا چشم ہے کہ اب وہ اس بات کو چھپاتے ہیں کہ کبھی ان کی استاد سے بھی کوئی راہ و رسم رہی ہے۔

\"fire_from_rock\"

استاد نے شاعری شروع کی تو مدرسے میں برپا ہونے والے چند مشاعروں میں ہی ان کی دھاک ایسی جمی کہ حاسدین و حاضرین ان کے سامنے شمع محفل جاتے ہی زور زور سے پھونکیں مارنے لگتے تھے۔ کئی مرتبہ انہوں نے وہیں پنڈال میں بیٹھے بیٹھے ان نابکاروں کو خوب ڈرایا دھمکایا کہ نابکارو میری عزت کرو ورنہ چھوڑوں گا نہیں، مگر وہ شریر کہاں باز آنے کے تھے۔ ہوٹنگ شروع ہوتے ہی پارس کوہستانی آگ بگولہ ہو جاتے تھے۔ روئے روشن سرخ ہو جاتا، گردن کی نسیں پھول جاتیں، اور دہان مبارک سے پھلجھڑی کی مانند گل افشانی شروع ہو جاتی۔ جب دو چار مرتبہ یہ ماجرا ہوا تو کسی رقیب نے کہہ دیا کہ ”یہ پارس کہاں کے ہیں، یہ تو دشت قپچاق کے چقماق پتھر ہیں، جیسے ہی رگڑ کھاتے ہیں، چنگاریاں پھوٹنے لگتی ہیں، اوپر سے شاعری ایسی کرتے ہیں جو کہ بالکل ہی فارغ ہے“۔ ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی، اور اس دن کے بعد سے وہ مدرسے میں فارغ چقماقی کے نام سے مشہور ہو گئے۔ گو کہ انہوں نے بعد میں شاعری ترک کر دی مگر یہ نام ان پر چسپاں ہو گیا۔ حالانکہ ہماری رائے میں تو یہ بھی ان کی تحسین ہی تھی کہ ان کو چقماق کہا گیا، کہ جب پرانے وقتوں میں ماچس ایجاد نہیں ہوئی تھی تو آگ لگانے کے لیے بنی نوع انسان اسی چقماق پتھر کے محتاج تھے۔ غالباً یہ شرارت انہیں نمک حرام ہم جماعتوں کی ہو گی جو ان کے گھر کی دعوت کھا کر آئے تھے۔

خدا خدا کر کے یہ مدرسے سے فارغ کیے گئے تو بزرگوں کو ان کی شادی کی فکر ہوئی۔ خاندان بھر میں ان کے علم و فضل کی وہ دھوم تھی کہ کسی عزیز نے خود کو اس قابل نہ سمجھا کہ ان سے رشتہ ناتا جوڑے، کہ وہ خوب جانتے تھے کہ چمکتا ہوا چقماق دھول مٹی میں نہیں مل سکتا ہے، اس کا مقام ہی کچھ اور ہے۔ آخر ایک دور پار کے علاقے کے انجانے لوگوں میں ان کی شادی ہوئی۔ شادی کے بعد کسب معاش کی خاطر یہ تحریر کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ اس فن میں بھِی ایسی ریاضت بہم پہنچائی کہ اپنے سے پچاس سال زیادہ تجربہ کار شخص کی غلطی پکڑ کر اسے سرعام ٹوک دیتے تھے۔ وہ جھوٹی عزت رکھنے کو لاکھ کہتا کہ میاں تم کل کے بچے ہو، ان امور کو کیا جانو، ہم نے لکھا ہے وہ درست ہے، مگر استاد فارغ چقماقی حق پر ڈٹے رہتے کہ ہمارے پرائمری سکول کے استاد نے یہی بتایا تھا تو ہماری بات کیسے غلط ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ کسی جگہ جم کر کام نہ کر سکے کہ نکما افسر کب کسی قابل ماتحت کو برداشت کر پاتا ہے۔ ایسے لوگ تو خوشامد پر زندہ رہتے ہیں، اور استاد فارغ چقماقی کی فطرت ایسی تھی کہ خوشامد کو ہرگز روا نہ سمجھتے تھے۔ لیکن بہرحال یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ کسی کی سچے دل سے تعریف کرتے ہوئے غلو سے بھی کام لینے کو روا سمجھتے تھے۔ یہ معاملہ اس وقت خوب واضح ہوتا تھا جب وہ اپنا ذکر خیر کرتے تھے۔ استاد بتاتے تھے کہ اس دور میں ہی ان کی تحریر میں ایسی پختگی آ چکی تھی کہ انصاف سے کام لیا جاتا تو ان کی کی لکھی ہوئی ایک ایک سطر کئی کئی ہزار کی قیمت پاتی۔

جب استاد فارغ چقماقی ہر جگہ سے فارغ ہو گئے تو ان کے بزرگوں نے مشورہ دیا کہ ”میاں چقماقی، تم استادِ بے کمال ہو، خود کہتے ہو کہ تم ایسے فاضل ہو کہ ارسطو کو بھی چار لفظ پڑھا سکتے ہو، تو ایسا کرو کہ مدرسہ کھول لو۔ ویسے بھی بادشاہی کام ہے، بادشاہ شاہجہاں کو جب اورنگ زیب نے سلطنت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا تھا کہ ابا حضور بس اب آپ آرام کریں، تو شاہجہاں نے یہی خواہش ظاہر کی تھی کہ اسے بچے پڑھانے کا موقع دیا جائے“۔ سو استاد فارغ چقماقی نے مدرسہ کھول لیا اور اپنے وسیع تجربے اور جدت و اختراع سے وہ ماحول پیدا کیا کہ اگر کوئی بچہ مدرسے سے فارغ التحصیل ہوتا تو لوگ اسے ارسطو اور انہیں افلاطون کہتے، مگر بدقسمتی سے کوئی بچہ فارغ التحصیل نہ ہو پایا کہ تیسرے برس ہی مدرسے میں نہ تو کوئی بچہ باقی رہا نہ کوئی مدرس۔ دنیا جامد ذہن کی مالک ہے، بھیڑ چال چلتی ہے اور تبدیلی سے نفرت کرتی ہے، اور ان کا یہ عالم تھا کہ جدت و اختراع تو گویا ان کی گھٹی میں پڑی تھیں۔ اپنے سے پہلے گزرنے والے تمام لوگوں کے غلط کاموں کی نشاندہی کر کے ان بزرگوں کے کیے کو وہ درست کرتے تھے تو لوگ اس پر معترض ہو کر تو تو میں میں پر اتر آتے تھے اور انجام کار ان سے رخصت لیتے تھے۔

\"sachin-tendulkar\"

اسی اثنا میں ملک بھر میں سوشل میڈیا ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا تھا اور ظاہر ہے کہ استاد فارغ چقماقی تو ایسی وبائی شے کی طرف لپکنے والوں میں سے ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اتنے برس وہ اخباری دنیا میں کل ملا کر جتنا پڑھے گئے ہیں، اب سوشل میڈیا پر ان کی ایک ہی پوسٹ اس سے زیادہ پڑھی جا سکتی ہے۔ سو وہ قوم کی تربیت کی خاطر اپنی روزی روٹی سب بھول بیٹھے اور اپنی لاکھوں کروڑوں روپے کی مالیت کی تحریریں مفت میں ہی بانٹنے لگے۔ روپوں کی بجائے وہ لائک گننے لگے اور یہ حقیقت پا گئے کہ زیادہ لائک حاصل کرنے کا مطلب زیادہ علم کا مالک ہونا ہے۔ ایک مرتبہ راقم الحروف سے کہنے لگے کہ یہ سچن تندولکر کوئی بہت بڑا عالم لگتا ہے، پتہ تو کرو کہ یہ کون ہے اور کہاں کا ہے، تاکہ اسے ٹیگ کر کے اس سے نیازمندی کا اظہار کروں اور اس سے مکالمے کی صورت بنے تو اس کے کچھ فین ہمارا علم دیکھ کر حق بات کی طرف راغب ہوں۔ ہم نے کہا کہ اس کے علم و فضل کا ماجرا آپ پر کیسے کھلا؟ کہنے لگے کہ میاں اس کی ہر پوسٹ پر دو ڈھائی لاکھ لائک تو عام دیکھے ہیں، لیکن ہر پانچویں چھٹی پوسٹ پر وہ آٹھ آٹھ لاکھ لائک اور پندرہ بیس ہزار شیئر لے جاتا ہے، کوئی بڑا عالم ہی ہے جو زمانہ اس کا معترف ہے۔ ہم ان کی حقیقت شناسی پر حیران ہوئے کہ لٹل ماسٹر کو دیکھے بغیر بھی اس کا علم و فضل انہوں نے کیسے جان لیا ہے۔

انہوں نے قوم کو کئی مرتبہ اپنی اس قربانی سے آگاہ کیا کہ وہ گھر کا کام کاج چھوڑ کر لاکھوں کروڑوں کی مالیت والی تحریریں سوشل میڈیا پر مفت میں لٹا رہے ہیں اور قوم کو اس کی قدر کرتے ہوئے ان کے پاؤں دھو دھو کر پینے چاہئیں، مگر لوگ بھی دوغلے ہیں، منہ پر تو خوب واہ واہ کرتے ہیں مگر گرہ ڈھیلی نہیں کرتے۔ دنیا کی بے رخی سے تنگ آ کر وہ ہر دو چار ہفتے بعد سوشل میڈیا سے لاتعلق ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ خوب سوچا سمجھا فیصلہ ہے اور اب وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ مگر صاحب، کیا کریں، نہ الطاف بھائی کا استعفی ان کے کارکن قبول کرتے ہیں اور نہ ہی استاد فارغ چقماقی کے مداح انہیں چھوڑتے ہیں، ان دونوں حضرات کو چند گھنٹوں کے اندر اندر اپنا یہ خوب سوچا سمجھا فیصلہ واپس لینا پڑ جاتا ہے۔

پھر یوں ہوا کہ ہم کاروبار حیات کے سلسلے میں دوسرے شہر منتقل ہو گئے تو استاد فارغ چقماقی سے میل جول ترک ہو گیا۔ لیکن چند دن پہلے ہمارا اپنے ایک ادیب پرست دوست بختیار خلجی سے ملنے چاکی واڑہ جانا ہوا۔ بختیار خلجی وہاں ایک بیکری چلاتے ہیں جس کا حال ”چاکی واڑہ میں وصال“ نامی روزنامچے میں درج ہے۔ ہمیں دیکھ کر نہایت خوش ہوئے، کہنے لگے کہ تمہیں تازہ نان خطائی کھلاتا ہوں، ابھی نئے نسخے سے تیار ہوئی ہے اور تم چکھ کر اس کا افتتاح کرو تو ہم اسے مبارک جانیں گے۔ انہوں نے آواز لگائی کہ مینیجر صاحب، اپنے خاص نئے نسخے کی نان خطائی تو لے کر آئیں۔ کچن کا دروازہ کھلا اور دھوئیں کے بادلوں میں سے ویٹر چائے اور نان خطائی کی قاب اٹھائے برآمد ہوا، پیچھے پیچھے ایک اور شخص تھا، دیکھا تو استاد فارغ چقماقی تھے۔ دل دھک سے رہ گیا۔ ہم نے پوچھا کہ ”استاد، آپ یہاں؟“۔ کہنے لگے کہ میاں، انہیں بیکری کی مصنوعات تیار کرنا سکھا رہا ہوں۔ بختیار خلجی صاحب ادب دوست شخص ہیں، چند دن پہلے ہمیں ملے تو زبردستی پکڑ کر لے آئے کہ کچھ دن ہمارے کارکنوں کی تربیت کر دیں، ہم اس قابل تو نہیں ہیں کہ آپ کے وقت کی قیمت ادا کر سکیں کہ آپ کی لکھی ہوئی ایک سطر کی قیمت بھی اگر کبھی کوئی قدر شناس مل جائے، تو پچیس تیس ہزار روپے سے بھلا کیا کم ہو گی، مگر بس ہم پر احسان کریں۔ جب سے ان کی بیکری کو بہتر کرنے میں ان کی مدد کر رہا ہوں“۔

ہم نے بختیار خلجی کو دیکھا تو وہ چائے کے پیالے میں نان خطائی ڈبونے میں ایسے مصروف تھے گویا انہیں دنیا و مافیہا کی کوئی خبر ہی نہیں ہے۔ ہم نے نان خطائی منہ میں ڈالی تو اسے نگلنا محال لگا، بے اختیار گرم چائے کا بڑا سا گھونٹ چڑھا کر اپنا منہ جلا بیٹھے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar