مودی اور مودودی سے چند سوالات اور باغی ہندو لڑکیاں


\"saleemمودی اور مودودی صاحبان، جو یہ چاہتے ہیں کہ ملک یا ریاست کو سیکولر نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ان کا بھی کوئی مذہب ہونا چاہیئے، کے لئے درج ذیل چند سوالات ہیں۔

(1) کوئی ملک یا ریاست جب پیدا ہوتی ہے تو اس کے کان میں اذان کب دینی چاہیئے اور کون دے گا۔ کیا ریاست کے کان میں اذان دینے سے پہلے ریاست کو آئین کی گھٹی ڈالی جا سکتی ہے یا نہیں۔

(2) اگر ریاست لڑکا ہے تو پھر ختنے کس عمر میں ہونے مناسب ہیں۔ اور اگر ریاست لڑکی ہے اور کسی افریقی علاقے میں واقعہ ہوئی ہے جہاں لڑکیوں کے بھی ختنے ہوتے ہیں تو پھر اس کے لئے کونسی عمر جائز ہو گی۔ کیونکہ افریقہ کے کئی ملکوں میں یہودی، عیسائی اور مسلمان تقریباً سبھی لڑکیوں کے ختنے کرتے ہیں اور اس کے لئے اپنے اپنے مذہب کی روایات کا حوالہ دیتے ہیں۔

(3) اگر ملک ہندو، یہودی، عیسائی یا مسلمان ہے تو پھر نئے سرے سے کوئی آئین بنانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟اگر ان کے مذہب کی اپنی مقدس کتاب کو ہی آئین کا درجہ دے دیا جائے تو موجودہ دور کے مسائل کو حل کرنے میں کوئی دقت تو نہیں ہو گی؟ مثال کے طور پر انڈیا کو ایک ہندو جمہوریہ قرار دے دیا جائے اورگیتاکو اس کا آئین بنا دیا جائے تو انڈیا کہیں out-dated تو نہیں لگے گا؟ ہمیں یقین ہے کہ انہیں موجودہ دور کے مسائل حل کرنے میں تو کوئی دقت نہیں ہو گی۔ مودی صاحب نے تو کچھ عرصہ پہلے ہی ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ ہندو مذہبی کتابوں میں تو انسانی اعضاء کے ٹرانسپلانٹ جیسے پیچیدہ اور بظاہر جدید کاموں کے بارے میں بھی رہنمائی موجود ہے۔ معلوم نہیں کہ موجودہ دور کے جاہل سائنسدانوں کو یہ رہنمائی حاصل کرنے سے عار کیوں ہے۔

(4) اگر ریاست کا کوئی مذہب ہو گا تو پھر اس کا نکاح کرنا بھی ضروری ہو گا یا نہیں۔ اور اگر نکاح کرنا ہے تو پھر اس عمل کے لئے کون سی عمر مناسب رہے گی۔ مولانا شیرانی صاحب بھی اس سلسلے میں مدد کر سکتے ہیں۔ بلوغت کون سے سال سے شروع ہو گی۔ اور اگر نکاح کے بغیر کوئی ریاست بچہ دے دے گی تو وہ بچہ جائز ہو گا یا نہیں۔ یہ سوال ضروری ہے کیونکہ انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کو زچگی کی تکلیف سے گزارنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اگر کوئی کوشش کامیاب ہو جاتی ہے جیسا کہ ایک مرتبہ پہلے ہو گئی تھی تو اس بچے کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ کیسے ہو گا۔ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگر ریاست کی بنیاد مذہب پر ہو تو اس کے زچگی کے عمل سے گزرنے کے امکانات کافی روشن ہو جاتے ہیں۔

\"modi

(5) اگر ریاست مسلمان ہے تو پھر اس پر زکوۃ فرض ہے کہ نہیں اور اگر ہے تو پھر اس کے لئے قومی خزانے میں کتنے سو ریال یا کتنے تولے سونا ہونے پر زکوۃ فرض ہو گی اور وہ زکوۃ کن دوسری ریاستوں کو دی جا سکے گی۔ کوئی بھی ریاست اپنے شہریوں کو تو زکوۃ نہیں دے سکے گی کیونکہ اپنی اولاد پر زکوۃ خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔

(6) ریاست کے وضو اور غسل کرنے کے طریقوں پر بھی اگر روشنی ڈال سکیں تو احسان ہو گا۔

(7) جب کوئی ریاست فوت ہو جاتی ہے تو اس کے دفن یا کریاکرم کا طریقہ کیا ہو گا۔ ویسے کفن دفن کے بارے میں تو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے کچھ خاص مدد نہیں کی البتہ کریاکرم کے لئے نیوکلیئر صلاحیت نے کافی امید پیدا کر دی ہے۔ انڈیا اور پاکستان چونکہ دونوں ہی نیوکلیئر ریاستیں ہیں اس لئےایک دوسرے کے کریاکرم کی خوب استطاعت اور غالباً ارادہ بھی رکھتی ہیں۔ اور امکان غالب ہے کہ ایسا اگر ہوا تو پہل کرنے والی ریاست کا اپنا کریاکرم بھی ساتھ ہی ہو جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ دوسرے پڑوسی بھی اسی سے فیض یاب ہو جائیں۔

یہ سوال پوچھنے کی تو ہمیں بالکل بھی ضرورت نہیں کہ جب ریاست کی بنیاد مذہب پر ہو گی تو وہاں رہنے والے وہ لوگ جن کا مذہب ریاست کے مذہب سے مختلف ہو گا ان کا حال کیا ہو گا۔ کیونکہ وہ تو ہمارے سامنے کی بات ہے۔ انڈیا کے حالات اب تک کافی بہتر تھے کیونکہ وہاں کی قراردادمقاصد کانگریس نے پاس کروائی تھی بھارتی جنتا پارٹی (BJP) یا جماعت اسلامی نے نہیں۔ (ذرا غور کریں کہ انڈیا کی قرارداد مقاصد مودی صاحب نے لکھی ہوتی) وہاں کا آئین اور قانون ہندوؤں کے علاوہ بھی لوگوں کو برابر کا شہری مانتا ہے۔ پاکستان کی قرارداد مقاصد چونکہ جماعت اسلامی نظریے کا شکار ہو گئی تھی اس لئے یہاں ہندو اور عیسائی کمیونٹی کو احتیاط کرنا پڑتی ہے ورنہ ان کی بلوغت کی طرف بڑھتی ہوئی بچیاں اپنے مذہب سے باغی ہو جاتی ہیں اور مسلمان مردوں سے شادیاں رچا لیتی ہیں۔ اور کچھ مسلمان مرد اپنے مذہب کی سربلندی کی خاطر یہ قربانی دیتے رہتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik