مولانا عبدالحمید شاہ مفتاحی رحلت فرما گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موت العالم موت العالم۔ مولانا عبدالحمید شاہ مفتاحی آج ہمیں چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ بیشک ایک عالم دین کی موت پورے عالم کے موت کے مترادف ہے۔ کچھ شخصیات دنیا میں ایسی ہوتی ہے۔ جن کی موت کا مداوا کرنا مشکل ترین مرحلہ ہے۔ بڑے برسوں کے بعد چمن میں ایسے پھول کھلا کرتے ہیں، بڑے مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا، جو اپنی خوشبوں سے فضا کو معطر کر دیتے ہیں۔ اور عالم کی بات ہی نرالی ہے۔ دنیا میں علم کو اٹھا لینے سے مراد علماء اکرام کا دنیا سے پردہ فرما لینا ہیں۔ علاقہ برار کی عظیم شخصیت میرا قلم جن کے بارے میں لکھنے سے قبل کئی بار ٹھہر سا جاتا ہے۔ جن سے میں کافی متاثر ہوا۔ ان سے قلبی تعلق بھی تھا، عقیدت اور محبت بھی تھی اور اب بھی ہے۔ لیکن وہ اب ہمارے درمیان موجود نہیں رہے۔

مولانا عبدالحمید شاہ مفتاحی کی پیدائش بورگاؤں منجو ضلع اکولہ میں 1956 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم آبائی وطن میں ہوئی۔ اس کے بعد دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم حسینیہ تاؤلی، مفتاح العلوم جلال آباد سے تعلیم حاصل کی۔ علاقے برار کی مشہور و معروف درس گاہ دارلعلوم دھارنی، مدرسہ انجمن مفید الاسلام ‌میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔

اس کے بعد چکھلی ضلع بلڈانہ میں رہائش اختیار کی اور مدینہ مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے رہے، چکھلی کی اس بنجر زمین میں افراد کی ذہین سازی کرکے دعوت و تبلیغ کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد مولانا کی محنت و مشقت سے مسجد نورالاسلام کی بنیاد رکھی گئی۔ کم و بیش 20 سال مدرسہ و مسجد نور السلام میں امامت کے فرائض انجام دیے۔ 2014 میں مولانا پر فالج کا حملہ ہوا جس کی وجہ سے مولانا کے ایک ہاتھ اور ایک پیر نے کچھ حد تک کام کرنا بند کردیا تھا لیکن فوری علاج کی بنا پر وہ چل پھر سکتے تھے۔

مولانا کو امامت کے فرائض سے سبکدوش ہونا پڑا، طبیعت ناساز ہونے کے باوجود بھی نماز گھر میں ادا کرتے تھے۔ جمعہ کی نماز مسجد میں ادا کرتے تھے۔ طبعیت ناساز ہونے کی وجہ سے، مولانے کے فرزند مولانا آصف علی حسینی امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔ مرض بڑھتا گیا اور مولانا آج بروز بدھ 23 رمضان کو دوپہر 2۔ 30 ڈھائی بجے کے وقت طبیعت نا ساز ہونے کی بنا پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک عالم کی موت پورے عالم کے موت کے برابر ہے۔ دل کی کیفیت و اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

مولانا جب جمعہ وغیرہ میں وعظ فرمایا کرتے تب اکشر نوجوان ان کے بیان سے مستفیض ہونے کے لیے وقت سے پہلے مسجد میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ مولانا عقیدہ توحید پر جب تقریر فرماتے تو بڑے سخت انداز میں شرک و بدعت کے خلاف ببانگ دہل بولا کرتے تھے۔ کسی بھی عام یا خاص شخص کے سامنے حق بات کہنے سے ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے۔ جب منبر پر تشریف فرماتے تو سماعین سے کہتے میں حق بولنے سے نہیں رکنے والا، زیادہ سے زیادہ تم مجھے اس مسجد نکال سکتے ہو۔ رزق کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ حق بیانی مولانا کا شیوہ رہا۔ ربیع الاول میں مولانا اپنی لکھی ہوئی نعت رسول جلسہ میں پڑھا کرتے تھے۔ جب کسی بچے کو نعت پاک پڑھتے سنا کرتے۔ تو عشق رسول کی عقیدت و محبت میں آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے۔

مولانا پہنچے ہوئے طبیب بھی تھے مہاراشٹر کے علاوہ دیگر ریاستوں سے مسلمان و غیر سبھی علاج کے لئے مولانا کے پاس آیا کرتے تھے۔ نماز کے بعد غیر مسلم پانی پڑھ کر لے جایا کرتے تھے۔ کئی برسوں سے مولانا لوگوں کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے۔ لوگوں سے بہتر تعلقات تھے۔ مولانا نے چکھلی میں عظیم خدمات انجام دیے۔ انگورکے محلہ میں عوام کے لئے راستہ نہ ہونے کی بنا پر بار بار نگر پریشد میں تکرار کیا کرتے تھے۔ ان کی محنتوں کاوشوں کی بدولت عوام کے لئے راستہ بحال کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ مولانا کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے۔ مولانا کی موت کی خبر سن کر سارا شہر غمزدہ ہوگیا خصوصاً نوجوانوں میں غم کا ماحول دیکھنے ملا۔ مولانا گزشتہ جمعہ نماز کیلے مسجد میں تشریف فرما تھے۔ مجھے کیا کسی کو بھی گمان نہیں تھا کہ مولانا ہم سے جدا ہو جائیں  گے۔ مولانا کے فرزند سے بات ہوئی تو کہنے لگے پچھلے جمعہ کو مولانا کو خواب میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔ جس شخصیت کو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوجائے ان کے بلند ترین مرتبہ کا کیا کہنا، کف افسوس کہ ہم آج ایسی عظیم ہستی کو کھو چکے۔ اللہ کی مرضی کے آگے کسی کی چلتی ہے۔ ہر شخص کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ ہم مولانا کے حق میں صرف دعا ہی کر سکتے ہیں۔

کہ اللہ تعالیٰ مولانا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ہم اس غم میں اہل خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •