اناؤ ضلع سوک کھیڑا موراوا کی رہنے والی گولڈی یادو کو صبح موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس لڑکی نے یو پی پولیس کا امتحان پاس کرلیا تھا۔ کیا یوگی راج، راون راج بن گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک لاش، معصوم بچیوں کی عصمت دری، ایماندار پولیس افسروں کی باقاعدہ سازش کی تحت انکاؤنٹر، انصاف پسند افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کرلینا کیا یہی وکاس ہے۔ ایک انسان کی جان سے زیادہ گائے کے تحفظ کی فکر اقتدار کی بھوک اور کتنے معصوموں کو اپنا نوالہ بنائی گی سیاست کے نشے میں چور یہ حیوان نما سیاستدان غریب عوام کو کب تک استعمال کرتی رہے گی۔ ابھی سنجلی کی آہے بھی خاموش نہیں ہو پائی تھی ابھی آصفہ کو بھی انصاف ملنا باقی تھا۔ ابھی اناؤ کی لڑکی پر ہوئے ظلم اور اس کی عزت کو تار تار کرنے والے بی جے پی کے لیڈر کو سزا نہیں مل پائی تھی کہ ایک اور معصوم کی جان لے لی گئی۔ کیا یہ ہندوستان ہے یا ریپستان؟
پاکستان کی زینب کو تو انصاف مل گیا اس کے قاتل کو تو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا لیکن ہندوستان جو جمہوریت کے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے۔ ادب و تہذیب کا گہوارہ کہلاتا ہے۔ آج وہاں کی بیٹیوں کو سرے عام قتل کردیا جاتی ہے۔ ان کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں، پر کئی کوئی قیامت نہیں اترتی حکومت بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ کے نعرے بازی کرتی ہیں، اور اسی سیاسی جماعت کے لیڈران معصوم لڑکیوں کی عزتوں سے کھلتے ہیں اور انصاف کی بھیک مانگنے والے باپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
Read more