جب اس لڑکی نے نقاب ہٹایا


شاید کسی نے آوازہ کسا تھا۔ نقاب پوش لڑکی نے رک کر ایک لمحہ سوچا پھر غصے سے سڑک کے کنارے بنچ پر بیٹھے ہوئے لڑکوں سے کوئی بات کی۔ لڑکے بجائے شرمندہ ہونے کے طنزیہ انداز میں مسکرانے لگے۔ میں کچھ فاصلے پر تھا اس لئے ٹھیک سے سمجھ نہ سکا کہ کیا بات ہوئی ہے۔ شام کے بعد مال روڈ پر خاصی چہل پہل ہو جاتی ہے۔ یہ وہی وقت تھا۔ میری رفتار کچھ تیز تھی میں چند لمحوں میں ان کے قریب پہنچ چکا تھا۔

لڑکی رک گئی تھی۔ ”جائیے جائیے ہم تو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ “ ایک لڑکے نے کہا۔ ”میں سب سمجھتی ہوں۔ اکیلی لڑکی دیکھ کر تم لوگوں کے دماغ میں کیا چلتا ہے۔ میں تمہاری شکایت کروں گی۔ پولیس کا آفس یہ ساتھ میں ہی ہے۔ “ لڑکی نے غصے سے کہا۔ ”دیر نہ کریں ذرا جلدی شکایت کریں۔ “ لڑکے کے انداز میں شرمندگی کا کوئی پہلو نظر نہ آتا تھا۔ ”کر جا کے شکیت لاواں گی۔ “ (گھر جا کر شکایت کروں گی۔ ) ایک لڑکا زیر لب گنگنانے لگا۔

”ایکسکیوزمی! کیا مسئلہ ہے؟ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ساتھ پولیس میں رپورٹ کرنے جا سکتا ہوں۔ “ میں نے دخل دیا۔

لڑکے مسکرا اٹھے۔ ”کسی لڑکی کو دیکھ کر ہمدرد فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ “ ایک نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ ”دفع کریں یہ نہیں سدھر سکتے۔ “ شاید لڑکی نے ان کو سبق سکھانے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔ وہ آگے بڑھ گئی۔ میں نے بھی سر جھٹکتے ہوئے قدم بڑھا دیے۔ لڑکی نے جینز پہنی ہوئی تھی لیکن سر پر سکارف تھا۔ چہرہ نقاب میں تھا صرف آنکھیں دکھائی دیتی تھیں۔

لڑکی نے چلتے چلتے کچھ کہا لیکن میں اس کے الفاظ سمجھ نہ سکا۔ ”سوری! آپ نے کیا کہا۔ “ میں بول اٹھا۔ ”کچھ نہیں میں خود کلامی کر رہی تھی۔ “ لڑکی بولی۔

”آپ نے دیکھا تھا ان لڑکوں کو؛ نہ جانے کب یہ قوم مہذب ہو گی۔ “ لڑکی ابھی تک اسی بارے میں سوچ رہی تھی۔ عین اسی وقت میری نگاہ سامنے سے آتے ہوئے دو نوجوانوں پر پڑی۔ وہ بظاہر اپنی باتوں میں مگن چلے آ رہے تھے لیکن میں نے دیکھا کہ وہ دزدیدہ نگاہوں سے نقاب والی لڑکی کو دیکھ رہے تھے۔ قریب آ کر ایک نوجوان اچانک لڑکھڑایا۔ مجھے ایسا لگا جیسے نوجوان کا کندھا لڑکی کے کندھے سے ٹکرا جائے گا۔ میں نے بالکل غیر ارادی طورلڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کیا۔ نوجوان کا کندھا لڑکی سے چند سینٹی میٹر کے فاصلے سے گزرا۔

”اف! “ لڑکی کے منہ سے نکلا۔ وہ میری غیر ارادی حرکت کی وجہ سمجھ گئی تھی لیکن میں ندامت محسوس کر رہا تھا۔ یوں کسی اجنبی کا ہاتھ پکڑا تھا جیسے وہ کوئی قریبی دوست ہو۔ ”سوری! یہ عمل کسی ریفلیکس ایکشن کی طرح ہوا ہے۔ “ میں نے پشیمانی سے کہا۔ مجھے ایسا لگا جیسے لڑکی نقاب کے پیچھے مسکرائی ہو۔

”آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ وہ نوجوان جان بوجھ کر مجھ سے ٹکرانا چاہتا تھا آپ نے تو مجھے اس سے بچایا ہے۔ “

اس کے بعد باتوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ دو بہنیں تھیں اور چند دن مری میں گزارنے کے لئے آئی تھیں۔ آج ایک بہن کا باہر نکلنے کا موڈ نہیں تھا تو دوسری اکیلی واک کرنے نکل آئی۔ اسے شاعری سے شغف تھا اور جب اسے پتا چلا کہ میں شاعر ہوں تو پھر واک کرنا ممکن نہ رہا ہم ایک ریسٹورانٹ میں بیٹھ گئے۔ میں اس شام اداس تھا اور جب واک کرنے نکلا تھا تو سوچ رہا تھا کہ کہیں دور جا کر تنہائی میں وقت گزاروں گا لیکن اب اس لڑکی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اداسی کافور ہو چکی تھی۔

اس کا ادبی ذوق قابلِ تحسین تھا۔ وہ قراۃ العین حیدر، بانو قدسیہ، غالب اور فیض کی فین تھی۔ ہم ”آخرِشب کے ہمسفر“ سے ”راجہ گدھ“ اور ”نہ تھا کچھ تو خدا تھا۔ نہ کچھ ہوتا تو خدا ہوتا“ سے ”جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے“ تک آن پہنچے لیکن باتیں ختم ہی نہ ہوتی تھیں۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے برسوں پرانا دوست اچانک مل گیا ہو۔

کافی دیر ہو چکی تھی اس دوران میں نے جوس منگایا تھا جو اس نے نقاب کے نیچے سٹرا سے پیا تھا۔ اب بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اسے کھانے کی دعوت دی۔ ”کھانا تو مجھے بھی کھانا ہے۔ “ اس نے کہا۔

”تو کیا آپ نقاب ہٹانا پسند کریں گی؟ “ میں نے پوچھا۔ وہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر آہستہ آواز میں بولی۔ ”آپ کے اور میرے مزاج میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ کیا آپ میرے دوست بنیں گے؟ “

میں اس کی بات سن کر چونک اٹھا۔ یقیناً کوئی ایسی خاص بات تھی جو وہ کہنا چاہتی تھی۔ ”کیوں نہیں، میں یقیناً یہ چاہوں گا کہ ہم باہمی دلچسپی کے امور پر وقتاً فوقتاً بات کرتے رہیں۔ میری دوستی خلوص سے عبارت ہوگی۔ “

”تب ٹھیک ہے۔ میں سب سے اپنا چہرہ چھپا کر رکھتی ہوں لیکن آپ سے اپنا چہرہ نہیں چھپاؤں گی۔ ویسے آپ نے میری شکل و صورت کے بارے میں کیا اندازہ لگایا ہے۔ “

”ایسا لگتا ہے کہ آپ کے خوبصورت دل کی طرح آپ کا چہرہ بھی بہت حسین ہو گا۔ “

لڑکی خاموش رہی پھر دھیرے سے اس نے نقاب ہٹا دیا۔ میرے سامنے ایک بگڑا ہوا چہرہ تھا۔ تیزاب سے جھلسا ہوا چہرہ۔ اس کے ہاتھ بے حد خوبصورت تھے، اس کا جسم متناسب تھا۔ رنگت جیسے دودھ اور شہد ملا ہو لیکن چہرہ تیزاب سے جھلسنے کے بعد بہت بد نما ہو چکا تھا۔

میں پتھر کے بت کی طرح ساکت اسے دیکھ رہا تھا۔

”آپ کا یہ حال کیسے ہوا؟ “

”ہمارے پڑوس میں ایک لڑکا تھا جو کالج جاتے ہوئے میرا پیچھا بھی کرتا تھا۔ میں نے ایک دن اس کی ہوس بھری نگاہوں پر اس کو ملامت کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہاتھ کبھی نہیں آؤں گی۔ بس یہی میرا جرم تھا اگلے دن اس نے میرے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔ تین سال سے میں خود بھی اپنا چہرہ دیکھ نہیں پاتی۔ اس لئے نقاب میں رہتی ہوں۔ “ اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

میرے دل میں غم وغصے کا الاؤ جل اٹھا۔ یہ درندہ صفت لوگ کب تک ہمارے معاشرے کو داغ دار کرتے رہیں گے۔ ہے کوئی علاج ان جانوروں کا؟

Facebook Comments HS